جمعہ 20 فروری 2026 - 18:14
امیر المومنین علیہ السلام نفسِ رسول، جانِ پیغمبر ہیں 

حوزہ/ تاریخِ اسلام میں جب بھی حق و عدل کا تذکرہ ہوتا ہے، علی علیہ السلام کی ذات مرکزِ نگاہ بن جاتی ہے۔ جنگِ بدر سے لے کر خیبر تک، ہجرت کی رات سے لے کر محرابِ عبادت تک، علی علیہ السلام کی زندگی رسولؐ کی سیرت کا آئینہ دکھائی دیتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی |

ترجمہ و اضافات: مولانا سید علی ہاشم عابدی

فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (سورہ آل عمران، آیت 61)

"پیغمبر علم کے آ جانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند, اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں گڑگڑا کر دعا (مباہلہ) کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ میرے استاد شیخ مفید رضوان اللہ تعالی علیہ نے نقل کیا ہے کہ ایک دن مأمون نے امام علی رضا علیہ السلام سے عرض کیا کہ "امیر المؤمنین علیہ السلام کی سب سے بڑی فضیلت جو قرآن کی گواہی سے ثابت ہو، اسے میرے لئے بیان فرمائیے۔"

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: "فَضِيلَةٌ فِي اَلْمُبَاهَلَةِ قَالَ اَللَّهُ جَلَّ جَلاَلُهُ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مٰا جٰاءَكَ مِنَ اَلْعِلْمِ فَقُلْ تَعٰالَوْا نَدْعُ أَبْنٰاءَنٰا وَ أَبْنٰاءَكُمْ وَ نِسٰاءَنٰا وَ نِسٰاءَكُمْ وَ أَنْفُسَنٰا وَ أَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اَللّٰهِ عَلَى اَلْكٰاذِبِينَ فَدَعَا رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ اَلْحَسَنَ وَ اَلْحُسَيْنَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ فَكَانَا اِبْنَيْهِ وَ دَعَا فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ فَكَانَتْ فِي هَذَا اَلْمَوْضِعِ نِسَاءَهُ وَ دَعَا أَمِيرَ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَكَانَ نَفْسَهُ بِحُكْمِ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ"

مباہلہ میں فضیلت کے سلسلہ میں اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا: "پیغمبر علم کے آ جانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند, اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں گڑگڑا کر دعا (مباہلہ) کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔" پس رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو بلایا، تو وہ آپ کے بیٹے تھے؛ اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو بلایا، تو وہ اس مقام پر عورتوں میں شامل تھیں اور امیر المؤمنین علیہ السلام کو بلایا، تو وہ اللہ عزّوجلّ کے حکم سے آپ کے نفس (جان) قرار پائے۔ پس یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی بزرگ اور افضل نہیں ہے۔ لہٰذا واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان (یعنی جسے “انفسنا” کہا گیا۔) سے بھی کوئی افضل نہ ہو۔

راوی کا بیان ہے کہ مأمون نے عرض کیا: "کیا اللہ تعالیٰ نے آیت میں ‘بیٹوں’ کو جمع کے صیغے سے ذکر نہیں کیا، حالانکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اپنے دو بیٹوں کو بلایا؟ اور ‘عورتوں’ کو بھی جمع کے صیغے سے ذکر کیا، حالانکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اپنی ایک بیٹی کو بلایا۔ تو کیا یہ جائز نہیں کہ "أَنْفُسَنٰا" (ہماری جانوں) کے لفظ سے بھی خود رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی مراد ہوں، نہ کہ کوئی اور؟ اس صورت میں امیر المؤمنین علیہ السلام کے لئے وہ فضیلت ثابت نہ ہوگی جو آپ نے بیان کی ہے۔"

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: "جو تم نے کہا وہ درست نہیں۔ اس لئے کہ بلانے والا حقیقت میں کسی دوسرے کو بلاتا ہے، جس طرح حکم دینے والا کسی دوسرے کو حکم دیتا ہے۔ یہ درست نہیں کہ انسان حقیقت میں خود ہی اپنے آپ کو بلانے والا ہو، جیسے یہ درست نہیں کہ وہ خود ہی اپنے آپ کو حقیقتاً حکم دینے والا ہو۔

پس جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مباہلہ میں امیر المؤمنین علیہ السلام کے سوا کسی مرد کو نہیں بلایا، تو یہ ثابت ہوگیا کہ وہی وہ نفس ہیں جن کا ذکر اللہ سبحانہٗ نے اپنی کتاب میں کیا ہے اور اپنے نازل کردہ حکم میں ان کے لئے یہ مقام قرار دیا ہے۔"

راوی کہتا ہے کہ مأمون نے کہا:

"جب جواب آگیا تو سوال ساقط ہوگیا۔" (بحار الانوار، جلد 10، صفحہ 350)

قرآنِ کریم کی آیتِ مباہلہ محض ایک تاریخی واقعہ کا بیان نہیں، بلکہ ایک ایسا الٰہی اعلان ہے جس میں حق کی کامل نمائندگی اور باطل کی قطعی نفی جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہ آیت اُس لمحۂ تاریخ کی یادگار ہے جب صداقت نے اپنے خالص ترین چہرے کے ساتھ میدان میں قدم رکھا اور نبوت نے اپنی میراث کو عیاں کر دیا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم ہوا کہ “أَبْنَاءَنَا، نِسَاءَنَا، أَنْفُسَنَا” کو لے آئیں، تو آپؐ نے دنیا کے سامنے اپنے اہلِ بیتؑ کی عملی تفسیر پیش کر دی۔ آپؐ کے ساتھ جو نفوسِ قدسیہ مباہلہ کے لئے آئے، وہ امیر المومنین علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام تھے۔ یہ انتخاب اتفاقی نہ تھا؛ یہ انتخاب وحی کی رہنمائی میں تھا اور یہ اس جانب اشارہ بھی ہے کہ جب آپ اسلام کے ایک معرکہ کے لئے افراد کا انتخاب حکم وحی کے مطابق کرتے ہیں تو پورے دین کی ذمہ داری دینے میں وحی کو نظر انداز کیسے کر دیں گے؟ یہیں سے امامت و ولایت کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔

عربی زبان میں “نفس” کا اطلاق کسی شے کی حقیقت، اس کی ذات اور اس کے کامل مماثل پر ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا “أَنْفُسَنَا”، تو اس کا ظاہری مفہوم جمع کا صیغہ ہے، مگر عملی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام علی علیہ السلام کو پیش کیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بلاغت، عقیدہ اور کلام ایک نقطے پر جمع ہو گئے۔

اگر رسولؐ اپنی ذات کو ہی مراد لیتے، تو بلانے کی تعبیر بے معنی ہو جاتی، کیونکہ داعی خود کو نہیں بلاتا۔ یہی وہ دقیق استدلال ہے جسے امام علی رضا علیہ السلام نے مأمون کے دربار میں بیان فرمایا۔ آپؑ نے واضح کیا کہ “نفس” کا اطلاق امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام پر ہونا اُن کی ایسی روحانی ہم آہنگی کی دلیل ہے جو کسی اور کے لئے متصور نہیں۔

یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے: “نفسِ رسول” ہونے کا مطلب نبوت میں شرکت نہیں، بلکہ کمالِ قرب اور اتحادِ مقصد ہے۔ علی علیہ السلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کے تسلسل کا نام ہیں۔ اگر نبوت آفتاب ہے تو ولایت اس کی شعاع؛ اگر رسالت سرچشمۂ ہدایت ہے تو امامت اس کی جاری نہر۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخِ اسلام میں جب بھی حق و عدل کا تذکرہ ہوتا ہے، علی علیہ السلام کی ذات مرکزِ نگاہ بن جاتی ہے۔ جنگِ بدر سے لے کر خیبر تک، ہجرت کی رات سے لے کر محرابِ عبادت تک، علی علیہ السلام کی زندگی رسولؐ کی سیرت کا آئینہ دکھائی دیتی ہے۔

مباہلہ کے دن منظر عجیب تھا۔ نہ لشکر، نہ تلوار، نہ ظاہری قوت؛ صرف پانچ نفوسِ مطہرہ اور ایک الٰہی یقین۔ مخالفین نے جب ان چہروں کو دیکھا تو ان پر ہیبتِ صداقت طاری ہوگئی۔ انہوں نے مباہلہ سے کنارہ کشی اختیار کی، کیونکہ انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ یہ چہرے جھوٹ کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے۔

یہی لمحہ دراصل علی علیہ السلام کی قرآنی فضیلت کا اعلان تھا۔ “نفسِ رسول” کا لقب محض تعریفی جملہ نہیں، بلکہ ایک الٰہی سند ہے۔

آیتِ مباہلہ چند بنیادی حقائق کو ثابت کرتی ہے کہ اہلِ بیتؑ کی تعیین حکم خدا سے خود رسولؐ نے کیا، امیر المومنین علی علیہ السلام کو “نفسِ رسول” قرار دینا قرآنی الفاظ کی عملی تفسیر ہے اور امیر المومنین علیہ السلام کی فضیلت محض تاریخی روایت نہیں بلکہ نصِّ قرآنی پر قائم حقیقت ہے۔

جب تاریخ اپنے اوراق پلٹتی ہے تو مباہلہ کا دن نور کی لکیر کی طرح چمکتا ہے۔ اس نور میں ہمیں رسولؐ کی قیادت، فاطمہؑ کی عصمت، حسنؑ و حسینؑ کی امامت اور علیؑ کی ولایت ایک ہی شعاع میں مجتمع نظر آتی ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ آیتِ مباہلہ دراصل اعلان کرتی ہے:

علیؑ وہ ہیں جو رسولؐ کے ساتھ نہیں، رسولؐ کے “نفس” کے طور پر کھڑے ہیں؛ وہ جدا نہیں، وہ رسالت کا سایہ نہیں، اس کی روشن تعبیر ہیں۔ اور یہی امیر المومنین علیہ السلام کی فضیلتِ کا وہ آسمان ہے جس کی بلندی کو قرآن نے خود متعین کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha