تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I زندگی کی شاہراہ پر کچھ چہرے ایسے بھی ہوتے ہیں جو خود کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کرتے، مگر ان کی سادگی، استقامت اور پاکیزہ طرزِ عمل انہیں خودبخود ممتاز کر دیتا ہے۔ وہ تعارف کے محتاج نہیں ہوتے؛ ان کا کردار ہی ان کی شناخت بن جاتا ہے۔ نہ انہیں اپنی قدر منوانے کی فکر ہوتی ہے اور نہ قبولیت کی طلب—ان کی دیانت، تقویٰ اور خاموش خدمت رفتہ رفتہ دلوں میں جگہ بنا لیتی ہے۔ انہی باوقار اور سچے انسانوں میں مولانا انیس الحسن زیدی کا نام احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ جنہوں نے علم کو وقار کا ذریعہ نہیں بلکہ امانت سمجھا، اور دین کو منصب نہیں بلکہ ذمہ داری جان کر اپنایا۔
آپ ضلع بریلی کے قصبہ سیتھل سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ خطہ جہاں سادگی، صفائیِ دل اور خاندانی اقدار آج بھی زندگی کا حصہ ہیں۔ اسی ماحول نے آپ کے مزاج میں متانت، سنجیدگی اور ٹھہراؤ پیدا کیا۔ جب علم کے باقاعدہ سفر کا آغاز ہوا تو آپ نے جامعہ ناظمیہ کا رخ کیا—وہ علمی مرکز جس نے فکر، فہم اور کردار کے کئی روشن چراغ قوم کو عطا کیے۔ یہاں آپ نے صرف نصابی علوم ہی حاصل نہیں کیے بلکہ اساتذہ کی قربت میں علم کے ساتھ اخلاق، تحمل اور دیانت بھی سیکھی۔
دورانِ طالب علمی ہی آپ کی طبیعت میں ایک خاص وقار اور ذمہ داری جھلکتی تھی۔ آپ کم گو تھے، مگر آپ کا طرزِ عمل بہت کچھ کہہ جاتا تھا۔ اسی زمانے میں آپ کو بانیٔ تنظیم، مولانا سید غلام عسکری کی مخلصانہ اور بصیرت افروز تربیت کا شرف حاصل ہوا۔ یہ تربیت محض رہنمائی نہ تھی، بلکہ شخصیت سازی کا ایک مسلسل عمل تھا، جس نے آپ کے اندر خدمتِ دین کی ایسی بنیاد رکھ دی جو پوری زندگی قائم رہی۔
جامعہ ناظمیہ سے فراغت کے بعد آپ نے کسی ذاتی سہولت یا شہرت کی راہ اختیار نہیں کی، بلکہ خود کو تنظیم المکاتب کے قافلے کے ساتھ وابستہ کر لیا۔ مغربی اتر پردیش کے مختلف علاقوں میں، مرحوم مولانا محمدعلی آصف کی سرپرستی میں، آپ نے امامِ جمعہ و جماعت کے فرائض انجام دیے۔ آپ کی گفتگو میں جوشِ خطابت کم، اور اصلاح کی سنجیدہ اپیل زیادہ ہوتی تھی۔ آپ مجمع کو متأثر کرنے کے بجائے دلوں کو سنوارنے پر یقین رکھتے تھے۔
مسائلِ شرعیہ کے بیان میں وہ غیر معمولی حد تک محتاط اور ذمہ دار تھے۔ ان کا امتیاز یہ تھا کہ توضیحُ المسائل انہیں مکمل طور پر ازبر تھی، اور وہ کسی مسئلے کو بیان کرنے سے پہلے نہ اندازے پر چلتے تھے اور نہ سہو پر، بلکہ پوری ذمہ داری اور اطمینان کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے
بعد ازاں تنظیم المکاتب میں بحیثیت انسپکٹر آپ کی ذمہ داریاں مزید وسیع ہو گئیں۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں قائم مکاتب کا معائنہ، امتحانات کی نگرانی اور تعلیمی نظم و ضبط کی حفاظت—یہ سب ذمہ داریاں آپ نے نہایت امانت اور مستقل مزاجی کے ساتھ نبھائیں۔ آپ جہاں گئے، وہاں تنظیم،ترتیب، اعتماد اور فرض شناسی کی ایک مثال قائم کی۔ آپ کے نزدیک ذمہ داری کوئی رسمی تقاضا نہیں تھی بلکہ ایک اخلاقی عہد تھی۔
سن 1992ء میں ممبئی کی معروف خوجہ مسجد میں ممتازالواعظین مولانا سید کاظم رضا واعظ کی سبکدوشی کے بعد آپ کو امامِ جمعہ مقرر کیا گیا۔ ایک بڑے شہر کے متنوع ماحول میں، مختلف سوچوں اور توقعات کے درمیان، آپ نے جس توازن، حلم اور وقار کے ساتھ یہ ذمہ داری نبھائی، وہ آپ کی فکری پختگی کا واضح ثبوت ہے۔ یہاں بھی آپ نے مقبولیت کو ہدف نہیں بنایا، بلکہ اعتماد اور دیانت کو اپنی اصل پہچان رکھا۔
آپ تنظیم المکاتب کے بے لوث خادم تھے۔ سکریٹری تنظیم، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید صفی حیدر صاحب سے آپ کا تعلق محض انتظامی نہیں بلکہ قلبی اور فکری تھا۔ یہ رشتہ اخلاص، بھروسے اور باہمی احترام پر قائم تھا۔ آپ اختلافِ رائے میں بھی شائستگی اور گفتگو میں بھی متانت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔
آج آپ کی رحلت کے بعد یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ قوم ایک ایسے انسان سے محروم ہو گئی ہے جو باطن میں شفاف اور کردار میں بے حد صاف تھا۔ ایسے لوگ نگاہوں سے اوجھل رہ کر بھی اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں، اور ان کی کمی وقت گزرنے کے ساتھ اور زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے اپنی زندگی سے یہ سبق دیا کہ دین کی خدمت نمائش سے نہیں، اخلاص سے ہوتی ہے؛ اور خلوص کی خوشبو دیر تک باقی رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کی خدمات کو قبولیت عطا فرمائے۔
ان کی رحلت پر ان کے لائق، باوقار اور ہر دل عزیز فرزند، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید نجیب الحسن زیدی کی خدمت میں تعزیتِ قلبی پیش کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صبر، حوصلہ اور اپنے والد کی علمی و اخلاقی میراث کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین









آپ کا تبصرہ