اتوار 22 فروری 2026 - 11:44
رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے 1500ویں یومِ ولادت کے موقع پر ہندوستان میں نمائندہ ولی فقیہ کا پیغام

حوزہ/ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے 1500ویں یومِ ولادت کے موقع پر ہندوستان میں ولی فقیہ کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین عبدالمجید حکیم الٰہی نے ایک اہم پیغام جاری کیا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ، سیرتِ مبارکہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا 1500 واں یومِ ولادت قریب ہے، ملک ہندوستان سمیت پوری دنیا اس عظیم دن کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اسی عظیم دن کے سلسلے میں ہندوستان میں ولی فقیہ کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین عبدالمجید حکیم الٰہی نے ایک اہم پیغام جاری کیا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ، سیرتِ مبارکہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

پیغام کا متن حسب ذیل ہے:

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ۔

(سورۂ توبہ، آیت 128)

پہلا حصہ: یوم ولادتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہمیت

رسولِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے پندرہ سو سال مکمل ہونا ایک نہایت قیمتی اور بابرکت موقع ہے۔ یہ موقع ہمیں اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابدی پیغام کو، جو انسان سازی، اعلیٰ اخلاق، عدل و انصاف اور انسانی کرامت پر مبنی ہے، دوبارہ غور و فکر کے ساتھ سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ صرف اسلامی اور انسانی تہذیب کے بانی ہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت، عقلانیت اور عزت و شرافت کے علمبردار بھی ہیں۔

دوسرا حصہ: ہندوستان جیسے متنوع معاشرے میں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار

ہندوستان ایک قدیم اور متنوع معاشرہ ہے جہاں مختلف ادیان اور ثقافتیں باہم رہتی ہیں۔ ایسے ماحول میں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحیح وضاحت اور تبیین سماجی امن کو مضبوط بنانے، باہمی احترام کو فروغ دینے اور انسانی یکجہتی کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اسلامِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکالمے، عدل، عہد کی پابندی اور انسان کی حرمت کی تعلیم دیتا ہے اور ہر قسم کی شدت پسندی اور تشدد سے مکمل طور پر پاک ہے۔

تیسرا حصہ: علماء، مختلف مذاہب کے پیروکاروں اور نوجوانوں کی ذمہ داری

علما، اساتذہ اور محققین کی ذمہ داری بہت اہم ہے کہ وہ گہرے علمی مطالعے اور معقول اندازِ بیان کے ذریعے اسلامِ رحمانی اور سیرتِ طیبہ کے انسان ساز پہلوؤں کو زمانے کے تقاضوں کے مطابق پیش کریں اور ہر قسم کی تحریف اور غلط فہمی کا علمی انداز میں ازالہ کریں۔

مختلف ادیان و مذاہب کے پیروکار بھی مشترکہ اخلاقی اقدار کو بنیاد بنا کر مثبت مکالمے اور سماجی تعاون کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں۔

نوجوان اور اسٹوڈنٹس، جو مستقبل کے معمار ہیں، انہیں چاہیے کہ سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا نمونۂ عمل بنائیں، علم حاصل کریں، اپنے اخلاق کو سنواریں، سماجی ذمہ داری کو محسوس کریں اور اپنی دینی شناخت کو مضبوط رکھیں۔

چوتھا حصہ: عملی تجاویز

رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے پندرہ سو سال مکمل ہونے کے اس بابرکت موقع پر مؤکد طور پر سفارش کی جاتی ہے کہ:

1. علمی اور بین المذاہب نشستوں اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے۔

2. ہندوستان کی رائج زبانوں میں تحقیقی اور فنی و ادبی آثار تیار کیے جائیں۔

3. نوجوانوں کے لیے تعلیمی پروگرام ترتیب دیے جائیں اور عدل و خدمتِ خلق کے میدان میں عوامی سرگرمیوں کی حمایت کی جائے۔

آخر میں تمام ثقافتی، دینی اور تعلیمی انجمنوں اور اداروں سے دعوت دی جاتی ہے کہ وہ منظم منصوبہ بندی کے ساتھ مختلف علمی و ثقافتی پروگرام منعقد کریں اور تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فروغ، پُرامن بقائے باہمی کے استحکام اور انسانی اقدار کو عام کرنے میں فعال کردار ادا کریں۔

عبدالمجید حکیم الٰہی

نمائندۂ علی فقیہ در ہندوستان

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha