پیر 23 فروری 2026 - 18:41
سوئیڈن میں فلسطین کی حمایت میں مظاہرے / غزہ میں جاری بحران کے حوالے سے فوری اور سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ

حوزہ / سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو مقبوضہ علاقوں میں شامل کرنے کے حالیہ اقدامات کی مذمت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سرد موسم کے باوجود شہری سماجی تنظیموں کی اپیل پر شہر کے وسط میں واقع اوڈن پلان اسکوائر میں جمع ہوئے اور اسرائیل کے مذموم منصوبوں کے خلاف احتجاجی مارچ کیا جن کا مقصد مغربی کنارے کے بعض حصوں کو مقبوضہ علاقوں میں ضم کرنا ہے۔

مظاہرین نے مجوزہ الحاق کی باضابطہ مخالفت کا اعلان کیا اور غزہ میں انسانی صورتِ حال اور جاری بحران کے حوالے سے فوری اور سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا۔

گزشتہ اتوار کو اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی کو پہلی بار 1976ء سے جاری قبضے کے بعد "اسرائیلی ملکیت" کے طور پر رجسٹر کرنے کے معاہدے کی منظوری دی تھی۔ اسرائیلی چینل 7 کے مطابق اس اقدام میں سابقہ ضبط شدہ زمینوں کے اندراج کے طریقۂ کار کو دوبارہ کھولنا، اردن کے پرانے قوانین کو منسوخ کرنا اور زمین سے متعلق وہ ریکارڈ منظرِ عام پر لانا شامل ہے جو کئی دہائیوں سے خفیہ رکھا گیا تھا۔

کئی مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: "قتل و کشتار بند کرو" اور "غزہ میں بچے مارے جا رہے ہیں"۔

سویڈن کے سیاسی کارکن سیگن مدر جنہوں نے اس احتجاج میں شرکت کی، کہا: دو سال سے زائد عرصے سے کارکنان ہفتہ وار مظاہرے کر رہے ہیں۔

انہوں نے غزہ کی صورتِ حال کو "انسانی المیہ" قرار دیتے ہوئے سویڈن کی حکومت اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ایک واضح اور مؤثر عملی منصوبہ اختیار کیا جائے۔

تقریب کے منتظمین نے "اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ" کے عنوان سے ایک نئی مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا جس کا مقصد حامیوں کو قانون سازوں پر دباؤ ڈالنے کی ترغیب دینا ہے تاکہ وہ زیادہ سخت اور واضح مؤقف اپنائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha