حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ ۲۷ فروری : مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولاناکلب جوادنقوی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ہر ملک کی سیاست کی ایک بنیاد ہوتی ہے اور ہماری خارجہ سیاست کی بنیاد فلسطین کی حمایت تھی مگر افسوس آزاد ہندوستان کی تاریخ میں نریندر مودی پہلے ایسے وزیر اعظم ہیں جو اسرائیل کے دورے پر گئے ۔مولانانے بابائے قوم مہاتما گاندھی اور سابق وزیراعظم اٹل بہاری کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ فلسطین عربوں کاہے اسرائیل کانہیں ۔انہوں نے کہاکہ گاندھی جی نے کہاتھاکہ جس طرح فرانس فرانسسیوں کا ، انگلینڈ انگلینڈ والوں کااور ہندوستان ہندوستانیوں کاہے اسی طرح فلسطین عربوں کاہے ۔سابق وزیر اعظم اٹل بہاری نے بھی کہاتھاکہ اسرائیل نے فلسطین کی زمین پر ناجائز قبضہ کیاہواہے ۔لہذا وزیر اعظم عربوں کی زمین پر گئے تھے اسرائیل کی سرزمین پر نہیں ۔اس تناظر میں وزیر اعظم کو یہ کہناچاہیے تھاکہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی سرزمین کو چھوڑدیناچاہیے جو وہ نہیں کہہ سکے ۔انہوں نے وزیر اعظم مودی کو اسرائیل کی طرف سے دئیے گئے اعلیٰ اعزاز پر کہاکہ افسوس یہ اعزاز ایک ظالم اور قاتل کی طرف سے دیاگیا۔
مولانانے وزیر اعظم کی اسرائیلی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے اسرائیل میں تقریر کرتے ہوئے ایک بہت اچھاجملہ کہاکہ ’بے گناہ شہریوں کا قتل کسی بھی بہانے سے جائز نہیں ہے‘ ۔ مگر افسوس انہوں نے حماس کی مثال دی اور غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کو نظر انداز کردیا۔مولانانے کہاکہ وزیر اعظم مودی کو مثال کے طورپر غزہ میں اسرائیلی بربریت کا ذکرکرناچاہیے تھا۔انہوں نے کہاکہ یہ بات کسی پر چھپی نہیں ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں بچوں ،عورتوں اور جوانوں کا قتل عام کیاہے ۔چھوٹے چھوٹے بچوں کے سینوں اور سروں میں گولیاں ماری گئی ہیں ،اس کے شواہد دنیاکے سامنے موجود ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اسرائیل آج تک حماس کے ظلم کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش نہیں کرسکا،صرف دعوے کئے ہیں لیکن اسرائیل کے ظلم کے ثبوت تو دنیاکے سامنے موجود ہیں۔وزیر اعظم نے جس طرح حماس کے ظلم کی مذمت کی اسی طرح اسرائیلی ظلم کی بھی مذمت کرنی چاہیے تھی،جو انہوں نے نہیں کی ۔مولانانے کہاکہ چونکہ یہ ہمارے ملک کے وقار کا معاملہ ہے لہذا ہمیں وزیر اعظم اور اپنی حکومت سے شکایت کاحق حاصل ہے ،اس لئے میں کہناچاہتاہوں کہ وزیر اعظم مودی کو غزہ میں صہیونی حکومت کے ذریعہ کی جارہی نسل کشی کی مذمت بھی کرنی چاہیے تھی مگر انہوں نے اسرائیل میں فلسطینیوں پر ہورہے ظلم پر کوئی بات نہیں کی ۔
مولانانے کہاکہ امریکہ نے ایران سے تیل کی خرید پرپابندیاں لگائی ہیںمگر اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے لہذا ہندوستان کو امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرناچاہیے ۔مولانانے کہاکہ ہندوستان نے ایران کے جن تیل ٹینکروں پر قبضہ کیاہے وہ امریکی خوشنودی کے لئے تھا۔مولانانے کہاکہ جب امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے اضافی ٹیرف کےفیصلے کو رد کردیاتو ہمارے ملک کو بھی اس کو قبول نہیں کرناچاہیے ۔مولانانے کہاکہ ہر زمانے میں ایک موسیٰ رہتاہے جو وقت کے فرعون کو شکست دیتاہے ۔ہمیں یقین ہے امریکہ کو شکست ہوکر رہے گی ۔









آپ کا تبصرہ