حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیر قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کشمیر سید عابد حسین الحسینی کی جانب سے ہندوستان کے معزز ائمہ جمعہ کے نام ایک کھلے خط میں وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ اسرائیل دورے اور بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ خط میں ائمہ کرام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ خطبۂ جمعہ میں غزہ کی صورتحال، فلسطینی عوام سے یکجہتی اور ظالم کی حمایت کے شرعی احکام پر قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فراہم کریں۔
خط کا مکمل مضمون مندرجہ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
"رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي"
الحمد للہ آپ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنی علمی و دینی خدمات میں مصروف ہیں اور امت مسلمہ کی رہنمائی فرما رہے ہیں۔
آپ کو معلوم ہے گذشتہ دنوں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا دو روزہ دورہ مکمل ہوا، جو کہ 2017 کے بعد ان کا دوسرا دورہ تھا ۔ یہ دورہ ایسے نازک وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو غزہ میں جاری وحشیانہ بمباری اور قتل عام کی وجہ سے پوری دنیا میں متنازعہ ترین شخصیت بن چکے ہیں۔ بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں ان کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں اور وہ کئی ممالک میں گرفتاری کے خوف سے جانے سے گریز کرتے ہیں .
آج کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق غزہ میں شہداء کی تعداد 72 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 71 ہزار سے بڑھ چکی ہے . ہسپتال تباہ کیے گئے، شیرخوار بچے قتل کیے گئے، بھوکے بچوں پر بم گرائے گئے۔ یہ سب کچھ پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
ایسے میں ہندوستان کے وزیر اعظم کا اسرائیل جا کر نیتن یاہو سے گلے ملنا اور انہیں "عزیز دوست" کہنا ، ہندوستان کے ان اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے جن پر یہ ملک قائم ہوا۔
معزز ائمہ کرام!
جناب مودی نے کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہندوستان مضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے" ۔ انہوں نے کہا کہ "ہم آپ کا درد محسوس کرتے ہیں، ہم آپ کے غم میں شریک ہیں" ۔ لیکن افسوس کہ انہوں نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے درد کا ذکر تک نہیں کیا ۔
پنڈت جواہر لعل نہرو ہوں یا اٹل بہاری واجپائی، ہندوستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ مگر اب پہلی بار ہندوستان کا وزیر اعظم نسل کشی کے مرتکب رہنما سے گلے مل رہا ہے۔ جس کی موجودہ دور کے کئی پارلیمنٹ ممبروں نے کھل کے مذمت کی ہے۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس دورے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟ کیا یہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دباؤ ہے؟ کیا ایپسٹین فائل کی رسوائی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے؟ یا پھر کوئی اور وجہ ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر ہندوستانی جاننا چاہتا ہے۔
معزز ائمہ کرام!
کشمیر کے عوام نے ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے جوانوں پرفلسطین کی حمایت میں پر امن حمایت پر بھی ایف آئے آر دئے گئے .
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ ائمہ جمعہ حضرات قرآن و حدیث کی روشنی میں اس دورے کی حقیقت کو واضح کریں اور امت مسلمہ کو بتائیں کہ ظالم کی حمایت کرنا کس قدر بڑا گناہ ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ اس جمعہ کو اپنے خطبات میں درج ذیل نکات پر روشنی ڈالیں:
۱۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی غزہ میں نسل کشی اور ظلم و بربریت
۲۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور فلسطینیوں سے بے وفائی
۳۔ مودی کے اسرائیل دورے کے پس پردہ اسباب اور اس کے اثرات
۴۔ ظالم کی حمایت کے شرعی احکام
۵۔ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کے حق میں دعا
امید ہے کہ آپ اس خط کو سنجیدگی سے لیں گے اور اپنے خطبہ جمعہ میں اس اہم موضوع پر روشنی ڈالیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کی تائید اور باطل کی تردید کی توفیق عطا فرمائے۔
"رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ"
والسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
آپ کا خیر اندیش
سید عابد حسین الحسینی
مدیر قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کشمیر









آپ کا تبصرہ