حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے امت مسلمہ، عرب دنیا اور دنیا کے آزاد ضمیر افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ مسلط کی گئی نسل کشی اور جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکلیں اور بھرپور احتجاج کریں۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے 19 جنوری کو طے شدہ جنگ بندی معاہدے کو منسوخ کرکے نہتے فلسطینیوں کے خلاف اپنی جارحانہ جنگ دوبارہ شروع کر دی ہے۔
بیان کے مطابق، نیتن یاہو کی حکومت، جو فاشسٹ اور نسل پرست پالیسیوں پر گامزن ہے، غزہ کے عوام پر وحشیانہ حملے کر رہی ہے اور ان کے لیے قید و بند کی صورت حال پیدا کر دی گئی ہے۔ گذرگاہوں کی بندش اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر فلسطینیوں کو بھوک اور قحط کے ذریعے اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔
یہ بیان منگل کی علی الصبح اس وقت جاری کیا گیا جب اسرائیل نے غزہ پر شدید بمباری کرتے ہوئے 300 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔
حماس نے واضح کیا کہ اس جنگی جنون کے تمام نتائج کی ذمہ داری نیتن یاہو حکومت پر عائد ہوتی ہے، جو فلسطینی عوام پر وحشیانہ حملے کر رہی ہے اور انہیں منظم انداز میں بھوکا رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
حماس نے بین الاقوامی برادری، مسلم حکمرانوں اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ظلم اور بربریت کے خلاف اپنی خاموشی توڑیں اور فلسطینی عوام کے قتل عام کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
آپ کا تبصرہ