حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی تنظیم Committee to Protect Journalists (کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس) کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 صحافت کے لیے گزشتہ برسوں کا سب سے خونریز سال ثابت ہوا، جس میں مجموعی طور پر 129 صحافی اور میڈیا کارکن جاں بحق ہوئے، جن میں سے دو تہائی سے زیادہ اموات اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں 86 صحافی اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہوئے، جن کی اکثریت فلسطینی صحافیوں اور مقامی میڈیا اداروں کے کارکنوں پر مشتمل تھی۔ اس طرح اسرائیل کو سال 2025 میں صحافیوں کا سب سے بڑا قاتل قرار دیا گیا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی قوانین کے مطابق مسلح تنازعات کے دوران صحافیوں اور میڈیا کے نمائندوں کو تحفظ حاصل ہونا چاہیے اور انہیں فوجی حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
کمیٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جوڈی گنسبرگ Jodie Ginsberg نے میڈیا پر حملوں کو دیگر شہری آزادیوں پر حملوں کا واضح اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’جب صحافی محض خبر رسانی کی وجہ سے مارے جاتے ہیں تو درحقیقت ہم سب خطرے میں ہوتے ہیں۔‘‘
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس صحافیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون حملوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والے 39 صحافیوں میں سے 28 غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں کا نشانہ بنے۔ اسی عرصے کے دوران 5 صحافی سوڈان اور 4 صحافی یوکرین میں مارے گئے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے احتساب نہ ہونے کو ان ہلاکتوں میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں، تاکہ صحافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔



آپ کا تبصرہ