تحریر: میثم عباس میمن، جامعۃ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آج فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ پوری دنیا کے باضمیر انسان اس آواز میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ بیداری اسی فکر کا تسلسل ہے جو ظلم کے خلاف قیام کو ایمان کا تقاضا قرار دیتی ہے۔
تمہید
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ (البقرہ: 183)
اس آیتِ مبارکہ میں خداوندِ عالم نے روزے کی فرضیت بیان کرتے ہوئے اس کا بنیادی مقصد تقویٰ قرار دیا ہے۔ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان خود کو ان امور سے محفوظ رکھے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ ماہِ رمضان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو آزمانے اور اپنے قریب کرنے کے لیے بعض ایسی چیزیں بھی موقوف کر دیتا ہے جو دیگر مہینوں میں حلال ہوتی ہیں، جیسے کھانا پینا وغیرہ۔ اس مشق کا مقصد انسان کے اندر ضبطِ نفس اور روحانی بالیدگی پیدا کرنا ہے۔
ظلم کی دو جہتیں
رمضان المبارک صرف عبادت اور ریاضت کا مہینہ نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف قیام کا بھی مہینہ ہے۔ ظلم کی دو بنیادی صورتیں ہیں:
1.وہ ظلم جو ظاہری طور پر دوسروں پر کیا جاتا ہے، جیسے کسی قوم کا کسی مظلوم قوم پر تسلط اور جبر۔
2.وہ ظلم جو انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَٰكِنَّ النَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
ترجمہ: بے شک اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا، بلکہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ (یونس: 44)
یہ ظلم دراصل انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے؛ حق کو نہ پہچاننے کا ظلم، عقل کو استعمال نہ کرنے کا ظلم، حق دشمنی کا ظلم، اور گناہوں کے ذریعے اپنی روح کو تاریک کرنے کا ظلم۔ جب انسان اس تاریکی میں ڈوب جاتا ہے تو کلامِ حق اس پر اثر انداز نہیں ہوتا، بصیرت مدھم پڑ جاتی ہے اور سماعتِ قلبی سلب ہو جاتی ہے۔
حضرت امیرالمؤمنینؑ دعائے کمیل میں فرماتے ہیں:
"ظَلَمْتُ نَفْسِي" — میں نے اپنی ذات پر ظلم کیا۔یہ وہی ظلم ہے جو انسان اپنے اعمال کے ذریعے اپنے نفس پر ڈھاتا ہے۔
رمضان: ظلمِ نفس کے خلاف جہاد
ماہِ رمضان اس داخلی ظلم کے خلاف قیام کا بہترین موقع ہے۔ جب انسان گناہوں سے اجتناب کرتا ہے، تقویٰ اختیار کرتا ہے اور خدا کی رضا کو مقدم رکھتا ہے، تو وہ دراصل اپنے نفس کے خلاف جہاد کر رہا ہوتا ہے۔
رسولِ اکرمؐ نے نفس کے خلاف اس جدوجہد کو جہادِ اکبر قرار دیا ہے، جب کہ ظاہری دشمن سے جنگ کو جہادِ اصغر فرمایا۔ نفس کے خلاف جنگ انسان کے اپنے اختیار میں ہے؛ اگر وہ چاہے تو اپنی اصلاح کر کے کمال تک پہنچ سکتا ہے۔
حضرت موسیٰؑ کی دعا قرآن میں یوں بیان ہوئی ہے: رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي
ترجمہ: اے میرے رب! میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے۔ (القصص: 16)
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ نجات کا راستہ اعتراف، توبہ اور استغفار سے ہو کر گزرتا ہے۔
*اجتماعی ظلمِ کے خلاف قیام*
قرآن کریم جہاں ظلمِ نفس سے بچنے کی تلقین کرتا ہے، وہیں مظلوموں کی حمایت کا حکم بھی دیتا ہے:
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ
ترجمہ: اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جنگ نہیں کرتے جو ظلم کا شکار ہیں؟ (النساء: 75)
لہٰذا جب بھی دنیا میں کسی پر ظلم ہو۔خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔انسانیت کا تقاضا ہے کہ اس کے خلاف آواز بلند کی جائے، اس کی مذمت کی جائے اور حتیٰ المقدور مزاحمت کی جائے۔
امیرالمؤمنینؑ کا پیغام
حضرت علیؑ نے اپنی وصیت میں امام حسنؑ اور امام حسینؑ سے فرمایا: كُونَا لِلظَّالِمِ خَصْمًا، وَلِلْمَظْلُومِ عَوْنًا
ترجمہ: ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار بنو۔ (نہج البلاغہ)
یہ وصیت درحقیقت پوری امت کے لیے پیغام ہے۔ امیرالمؤمنینؑ کی پوری زندگی ظلم کے خلاف قیام سے عبارت ہے—چاہے وہ میدانِ جنگ ہو یا میدانِ عدالت۔
یومِ قدس اور شعورِ مزاحمت
عصرِ حاضر میں امام خمینیؒ نے اسی علوی پیغام کو زندہ کرتے ہوئے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یومِ قدس قرار دیا تاکہ مسلمان اور پوری انسانیت مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرے۔ یہ اقدام اس حقیقت کی علامت ہے کہ عبادت کا کمال اُس وقت ہے جب وہ سماجی شعور اور ظلم کے خلاف عملی مؤقف میں ڈھل جائے۔
آج فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ پوری دنیا کے باضمیر انسان اس آواز میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ بیداری اسی فکر کا تسلسل ہے جو ظلم کے خلاف قیام کو ایمان کا تقاضا قرار دیتی ہے۔
نتیجہ
ماہِ مبارک رمضان درحقیقت ظلم کے خلاف قیام کا مہینہ ہے۔خواہ وہ ظلم انسان اپنے نفس پر کرے یا معاشرے میں کسی مظلوم پر ڈھایا جا رہا ہو۔
عبادت اُس وقت کمال کو پہنچتی ہے جب انسان اپنے نفس کی اصلاح کے ساتھ ساتھ مظلوم کی حمایت میں بھی کھڑا ہو۔ رمضان المبارک ہمیں دونوں جہتوں میں بیداری، تقویٰ اور مزاحمت کا درس دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہِ مبارک کی برکت سے ہر قسم کے ظلم کے خلاف حقیقی قیام کی توفیق عطا فرمائے۔ الٰہی آمین









آپ کا تبصرہ