تحریر: مولانا سید محمد حیدر اصفہانی،ممبئی
حوزہ نیوز ایجنسی | آنے والا جمعہ ’’قدس ڈے‘‘ ہے آج سے تقریبا ۴۶ سال پہلے امام خمینیؒ نے رمضان کے آخری جمعہ کو روز قدس کے نام سے موسوم کیا تھا۔ اس نامگزاری کے پیچھے بہت سے اسباب ہیں
اس کا ایک سبب خود ’’قدس‘‘ ہے یعنی بیت المقدس کی بازیابی کے لئے کوشش کرنا اور قبلہ اول کو اسلام کے دشمنوں سے آزاد کروانا ہے۔
دوسری وجہ ہے کہ اس دن دنیا کے گوشہ و کنار میں فلسطینوں پر ہو رہے ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ دنیا کی اسکتباری اور استعماری طاقتوں نے دھوکے اور زور زبردستی سے فسلطینوں کو خود ان کی سرزمین سے نکال دیا اور ان کے ملک کو اپنے قبضے میں لے لیا یہاں تک کہ جو فلسطینی وہاں بچ گئے ان کے علاقوں کو کھلی ہوئی جیل بنا دیا گیا اور ان کی تمام آزادی کو پوری طرح سے ختم کر دیا گیا۔
روز قدس منانے کا تیسرا سبب یہ تھا کہ دنیا کے تمام مظلوموں کی آواز کو اٹھایا جائے اور ظالم کو بے نقاب کیا جائے کیوں کہ آج دنیا میں مظلوم ترین قوم فلسطینی قوم ہے اس لئے اس دن کا اختصاص فلسطین سے ہے ورنہ دنیا کے جس گوشے میں بھی ظلم ہو رہا ہو ہم اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔
ہمارے ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے والے بابائے ہند مہاتما گاندھی نے فلسطین کے بارے میں جو کچھ کہا وہ ہم سب معلوم ہونا چاہیے ان کا ماننا تھا کہ فلسطین عربوں کا ہے، جس طرح انگلستان انگریزوں کا اور فرانس فرانسیسیوں کا ہے۔ ان کے مطابق، یہودیوں کو عربوں پر مسلط کرنا غیر انسانی فعل ہے۔ گاندھی جی کا یہ نظریہ عدل و انصاف پر مبنی تھا، اور وہ فلسطین میں ہونے والے واقعات کو کسی بھی اخلاقی اصول کے خلاف سمجھتے تھے۔
مہاتما گاندھی نے اسرائیل کے قیام پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطین عربوں کا ہے اور یہودیوں کو عربوں پر مسلط کرنا غیر انسانی فعل ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کو غیر منصفانہ قرار دیا۔ گاندھی جی کا ماننا تھا کہ یہودیوں کو عربوں کے ساتھ امن سے رہنا چاہیے اور ان پر اپنا اقتدار مسلط نہیں کرنا چاہیے۔
نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ میں رنگ و نسل کی بنیاد پر تفریق کے خلاف جدوجہد کرنے والے ایک عظیم رہنما تھے۔ وہ 18 جولائی 1918 کو جنوبی افریقہ کے مشرقی کیپ صوبے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں گزارا اور اس جرم میں 27 سال جیل میں گزارے۔
نیلسن منڈیلا نے بھی فلسطینیوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا اور اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ نسلی امتیاز کا برتاؤ کر رہی ہے۔ ان کے خیالات کو ان کے مشہور قول میں سمایا گیا ہے: "ہم جانتے ہیں کہ ہماری آزادی نامکمل ہے جب تک کہ فلسطینی آزاد نہیں ہیں"۔ منڈیلا نے بارہا فلسطین کے لیے ایک آزاد ریاست کے قیام اور فلسطینیوں کے حق آزادی کی حمایت کی۔
1994 میں، وہ جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔ ان کی قیادت میں، جنوبی افریقہ نے ایک پرامن اور جمہوری ملک کے طور پر تبدیلی کی۔ منڈیلا کو ان کی امن اور مفاہمت کی کوششوں کے لئے 1993 میں نوبل امن انعام سے بھی نوازا گیا۔نیلسن دنیا بھر میں امن، انصاف اور انسانی حقوق کے لئے ایک علامت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
مینڈیلا نے 1997 میں فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر ایک تقریر میں کہا تھا کہ: "اقوام متحدہ نے 1947 میں دو ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ 50 سال سے زیادہ گزر چکے ہیں اور فلسطینی عوام اپنے حق خودارادیت سے محروم ہیں۔ فلسطینی عوام کو اپنی ریاست کا حق ہے"۔
مینڈیلا نے 1999 میں فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر ایک تقریر میں کہا تھا کہ: "فلسطینی عوام کو امن اور سلامتی سے رہنے کا حق ہے۔ انہیں اپنی ریاست کا حق ہے اور انہیں اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنے کا حق ہے"۔
مینڈیلا نے 2002 میں فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر ایک تقریر میں کہا تھا کہ: "ہم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ہم ان کے حق خودارادیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں"۔
مینڈیلا کے خیالات کو دنیا بھر کے لوگوں نے سراہا ہے جنہوں نے انہیں فلسطینی عوام کے لیے انصاف اور مساوات کے لیے ایک طاقتور آواز کے طور پر دیکھا ہے۔
اس سال کا قدس ڈے بہت اہم ہے کیونکہ ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ کے بعد سے مسلسل اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے نتیجے میں صرف عزہ میں ۵۰ ہزار سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے اس وقت بھی عزہ کے مظلوموں پر بموں کی بارش ہو رہی لیکن دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے۔ عالمی عدالت نے اسے نسل کشی اور جنوسائد قرار دیا اسرائیلی دہشتگرد وزیر اعظم نتن یاہو اور اس کا ساتھ دینے والے تمام لوگوں کو اس نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کی گرفتاری کا حکم دیا۔ لیکن امریکہ نے نتن یاہو کو اپنی سینیٹ میں بلوا کر اس کا احترام کیا جس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ امریکہ کا عقیدہ نہ کسی عالمی عدالت پر ہے اور نہ ہی اسے کسی انسانی حقوق کا کوئی خیال ہے۔
ہم جس دین کے مانے والے ہیں اس نے ہمیں اس بات پر موظف کیا ہے کہ نہ ہم کسی پر ظلم کریں اور نہ ہی کسی پر ظلم کو د یکھ کر خاموش رہیں اسلام کی نظر میں یہ بہت بڑا گناہ ہے قرآن مجید میں متعدد مواقع پر ظلم کے خلاف اور مظلوم کی حمایت میں سخن کیا ہے سورہ حج کی آیت نمبر ۳۹ اور ۴۰ میں خدا کہتا ہے کہ:
’’أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ‘‘
جن مسلمانوں سے کفار لڑا کرتے تھے چونکہ وہ بہت ستائے گئے اس وجہ سے انھیں بھی (جہاد) کی اجازت دیدی گئی اورخدا تو ان لوگوں کی مدد پر یقینا قادر و توانا ہے۔
یہ وہ (مظلوم) ہیں جو بیچارے صرف اتنی بات کہنے پر کہ ہمارا پروردگار خدا ہے ناحق اپنے اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور اگر خدا لوگوں کو ایک کو دوسرے سے دور دفع نہ کرتا رہتا تو گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مجوسی کے عبادت خانے اور مسجدیں جن میں کثرت سے خدا کانام لیا جاتا ہے کب کے کب ڈھا دیے گئے ہوتے اور جو شخص خدا کی مدد کرے گا خدا بھی البتہ اس کی مدد ضرور کرے گا بے شک خدا ضرور زبردست غالب ہے۔
اس دونوں آیات میں چند باتیں واضح ہو جاتی ہیں
پہلی بات تو یہ ہے کہ جب تمہیں کوئی ستائے اور ظلم کرے تو اس کا دفاع کرو اور اس کے خلاف جہاد کرو اللہ بھی ایسے لوگوں کی مدد کرے گا۔
اس آیہ کریمہ میں دوسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہ دشمن نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے صرف اس لئے نکال دیا ہے کیونکہ وہ کلمہ توحید پڑھتے ہیں چنانچہ ہم دنیا کے متعدد گوشوں میں دیکھ رہے ہیں کہ کچھ مسلمانوں کو صرف ان کے عقائد کی بنیا د پر قتل کیا جا رہا ہے۔
تیسری اہم بات جو بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر خدا دشمنوں کو دور نہ کرتا تو دنیا میں ایک بھی عبادت خانہ محفوظ نہ رہتا ان عبادت خانوں میں مسجدوں کے ساتھ ساتھ گرجا گر اور صومعہ(یہودیوں کا عبادت خانہ) کا بھی ذکر موجود ہے چنانچہ غزہ میں ہم سب نے دیکھا کہ صہیونی ریاست نے جہاں مسجدوں پر بمباری کی وہیں گرجاگروں پر بم برسائے کیونکہ یہ لوگ خدا اور اس کے ذکر کے دشمن ہیں اور یہ شیطان صفت افراد ہیں جن کا دین سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
مذکورہ بالا آیت سے چوتھا اور آخری مطلب جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ خدا نے ہم سب کو ایسے مظلوموں کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے جن کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہو اور جس نے ان کی مدد کی گویا اس نے خدا کی مدد کی۔
لہذا آج جمہوری اسلامی ایران کی طرف سے کھلے طور پر فلسطینوں کی مدد اسی بنیاد پر کی جارہی ہے کیونکہ اسلامی حکومت کا فریضہ ہے کہ وہ مظلولوں کا ساتھ دے اور ظالموں سے نبردآزما رہے۔
قرآن کے علاوہ رسول ﷺ اور آئمہ معصومینؑ کی بے شمار احادیث موجود ہیں جن میں ظالموں کے خلاف لڑنے اور مظلوموں کا ساتھ دینے کی بات کی گئ ہے اختصار کے پیش نظر صرف دو حدیث پیش کروں گا
پیغمبر اکرم ﷺ کی حدیث ہے کہ ’’من سمع رجلا ینادی یا للمسلمین فلم یجبہ فلیس بمسلم ‘‘ یعنی جو کسی مظلوم کی آواز کو سنے کہ جو کہہ رہا ہو اے مسلمانوں میری مدد کرو لیکن سننے والا اس کی مدد نہ کرے تو ایسا شخص مسلمان نہیں ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے مولا و آقا امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابیطالبؑ نے بوقت شہادت امام حسنؑ اور امام حسینؑ کو وصیت کی ’’ وَ كُوْنَا لِلظَّالِمِ خَصْمًا وَّ لِلْمَظْلُوْمِ عَوْنًا‘‘ دیکھو بیٹا ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار بنے رہنا۔ مولا نے یہ وصیت صرف اپنے بیٹوں سے نہیں کی بلکہ ہم سے بھی یہی وصیت ہے۔
ان تمام باتوں کے پیش نظر ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ قدس کے روز ظالم کے خلاف احتجاج ضرور کریں کیونکہ یہی ہمارا انسانی، دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔
آپ کا تبصرہ