تحریر: منظوم ولایتی
حوزہ نیوز ایجنسی| رمضان کا مبارک مہینہ جاری ہے، مسلمان اللہ کے حضور سربسجود ہیں اور قرآن سے مانوسیت کا پیکر نظر آتے ہیں۔ مظلومین کے حق میں بولنا اور ظالموں سے دوری قرآن پاک کا ایک بنیادی اور ابدی اصول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان آتے ہی بیت المقدس پر ناجائز صیہونی قبضے کے خلاف 'یوم القدس' کی گونج دکھائی دیتی ہے۔
اس حوالے سے ہر مسلمان کو یہ ضرور جان لینا چاہیے کہ حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے مسلم دنیا پر بڑے احسانات میں سے ایک حسان یہ ہے کہ آپ کی انقلابی تحریک کی کامیابی کے ساتھ ہی قدس شریف کا مسئلہ زندہ ہوگیا۔وگرنہ اِس سے پہلے عرب حکمران اسرائیل سے جنگوں میں مسلسل شکست کھانے کی وجہ سے توبہ تائب ہو کر قدس کو بھولا چکے تھے۔ یہ حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ کی نگاہِ بابصیرت تھی کہ قدس شریف کے ایشو کو حکمرانوں کی بجائے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو 'یوم القدس' قرار دے کر درحقیقت امتِ مسلمہ کے حوالے کیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج امتِ مسلمہ یوم القدس کو اسلامی دنیا میں بڑے شان و شوکت سے مناتی ہے اور 'القدس لنا' کے نعرے ہر طرف سنائی دیتے ہیں۔
ہاں یہ بھی یاد رہے کہ اِس سال کا یوم القدس قدرے متفاوت ہے۔ اسلیے کہ طوفان الاقصی کے بعد کا اسرائیل اب دنیا میں اپنے ظالم اور مکروہ چہرے کی وجہ سے ذلیل ہوچکا ہے۔ مقاومتی بلاک خاص طور پر حماس اور جہاد اسلامی سے پندرہ مہینے جنگ کرنے کے بعد شکست فاش سے دوچار ہوکر اب صہیونی اُسی حماس اور جہادِ اسلامی کے ساتھ صلح کرچکے ہیں جن کی بیخ کنی کے بڑے بےشرمابہ دعوے کرتے تھے۔
اِس سال ' یوم القدس ' کے روز پہلے سے زیادہ جذبے اور عقیدت کے ساتھ گلی کوچوں اور سڑکوں پر آنے کی ضرورت ہے کیونکہ غاصب صہیونیوں نے مقاومتی بلاک کی نمایاں شخصیات کو شہید کر کے اپنے فنا کے اسباب جلدی مہیا کیے ہیں۔ شہید اسماعیل ہانیہ، شہید یحی سنوار، سید مقاومت شہید سید حسن نصر اللہ اور شہید ہاشم صفی الدین رضوان اللہ تعالی علیہم کی بڑی شخصیات کے خون سے اپنے مکروہ چہرے پر صہیونی ناجائز ریاست نے کالک ملا ہے۔سب سے بڑھ کر سید مقاومت کی شہادت نے امت مسلمہ کے دلوں میں صہیونیوں اور امریکیوں کے خلاف پہلے سے زیادہ نفرت کے بیج بو دئیے ہیں۔
مسلم دنیا کو جان لینا چاہیے کہ اس وقت آپس کے مسائل کو بالائے طاق رکھ کر فلسطین اور قبلہ اول کو غاصب اور ظالم صہیونیوں سے چھڑانا اہم فرائض میں سے ہے وگرنہ مسلم دنیا کا کوئی بھی مسلم صہیونیوں کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ بقول شاعر
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہوں
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
یاد رہے کہ چند ایشوز ایسے ہیں جن کے اوپر مسلم دنیا کا اتحاد اور اتفاق نہایت ضروری ہے جیسے ناموس رسالت کا دفاع، حرمتِ قرآن کی پاسداری، کشمیر اور بیت المقدس کی ہنود اور یہود سے آزادی، لیکن یہ اہداف کسی ایک مکتب ومسلک کے نہیں ہیں بلکہ پوری امت کے ہیں۔جن کے حصول کیلیے پوری مسلم دنیا کو امتِ واحدہ بننا پڑے گا۔ شاعر مشرق کا یہ معروف شعر ہمیشہ ہمارے مدنظر ہونا چاہیے:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلیے
نیل سے لے کر تا بہ خاکِ کاشغر
مسلم دنیا کے اہل علم و نظر اور اصحابِ حل و عقد کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ دنیا میں عزت دین کے بتائے ہوئے راستوں کے مطابق زندگی گزارنے اور ظالموں کے خلاف ڈٹ جانے میں ہے۔ اس کی زندہ مثال شہید سید حسن نصر اللہ رحمة اللہ علیہ ہیں کہ یہ سید بزرگوار ایک لمبے عرصے تک لبنان اور فلسطینی مظلومین کیلیے آواز بلند کرتا رہا اور آج شہادت کے بعد اس کی تشییع میں ایک ملین سے زیادہ افراد نے شرکت کر کے لبنان کی تاریخ میں ایک نیا باب کھول دیا۔
الحمدللہ آج خوش آئند بات یہ ہے کہ مسلم دنیا کی نئی نسل بیدار ہورہی ہے اور مسلمانوں کے اجتماعی اور مشترک اہداف و مقاصد کے حصول کیلیے سنجیدہ نظر آرہی ہے۔ اسی بیداری کا عملی ثبوت دینے کیلیے پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کے مسلمانون کو یوم القدس کو اپنے اپنے انداز سے بھرپوز منانا چاہیے اور قدس شریف ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام مظلوموں کی حمایت اور ظالموں سے بیزاری کا اعلان کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ قدس نہ شیعوں کا ہے نہ سنیوں کا بلکہ یہ پوری امت مسلمہ کا صفِ اول کا مسئلہ ہے لہذا آپس کے فقہی و کلامی اختلافات سے اوپر اٹھ کر 'ہشیار باش' کی کیفیت کے ساتھ 'یوم القدس' کے روز صہیونیوں اور اس کی پشت پر کھڑی مغربی طاقتوں کو اپنا اُن کے خلاف اپنا عوامی ریفرنڈم دکھانا چاہیے۔ اور ہاں جو لوگ شیعہ سنی کا کھیل کھیل کر ہمیں بڑے اہم اہداف سے روکنا چاہیے ان سے بھی بچنا ضروری ہے کیونکہ ایسے لوگ اسلام و مسلمین کے خلاف پسِ پردہ بنائے جانے والے منصوبوں سے آگاہ نہیں ہیں۔ بقول شاعر مشرق:
اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتارِ ابوبکرؓ و علیؓ ہشیار باش
آپ کا تبصرہ