حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، امام زین العابدین (ع) انسٹیٹیوٹ آف تعلیمات قرآن و اہلبیت (ع) محرابپور سندھ کے مرکزی جرنل سیکریٹری برادر ایاز علی خاکی نے اپنے بیان میں کہا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ایک سال بعد امام خمینی رحمۃ اللہ علیه نے رمضان کریم کے آخری جمعہ کو جمعۃ الوداع کو بطور روز قدس مقرر کیا۔
امام خمینی رحمۃ اللہ علیه نے اس دن کو فلسطینیوں کی حمایت اور غاصب صیہونیوں سے اظہار برأئت کے لئے مقرر کیا۔ یعنی ہر ظالم سے نفرت کرنا اور ہر مظلوم کا ساتھ دینا ۔ تب سے اب تک روز قدس اپنے مکمل حشم کے ساتھ دنیا کے کئی پوری ممالک اور شہروں میں برپا کیا جاتا ہے۔ جس میں القدس ریلی سیمینارز اور جلوسوں، تقریروں، اجتماعات وغیرہ کے ذریعہ فلسطینیوں کے ساتھ حمایت اور صیہونیوں سے علی الاعلان اظہار برأت کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا: حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا تھا: جو خدا کے بندوں پر ظلم کرے گا اس کا دشمن بندے نہیں خود پروردگار ہوگا۔ اسرائیل ایک غاصب، نیز ظالم ریاست ہے۔ اس نے خدا کے بندوں پر ظلم کو اپنا شعار بنایا ہے۔ پس خدا اسرائیل کا دشمن ہے۔ اسرائیل کا خاتمہ پروردگار کا فیصلہ ہے۔ روز قدس خدا کے اس فیصلے پر اطمینان کے اظہار کا دن ہے۔ خداوند نے بتدریج زوال، اور پھر خاتمہ کو اسرائیل کا مقدّر قرار دیا ہے۔ روز قدس خدا کی مقرر کردہ اس تقدیر پر ایمان کے اظہار کا دن ہے۔ رہبر معظم کا فرمان ہے: روز قدس امت مسلمہ کی جانب سے علی الاعلان فلسطینیوں کی حمایت اور صیہونیوں کی جابر اور نا عادل ریاست اور ان کے حامیوں کی مخالفت کا دن ہے۔
آج کا یزید پوری دنیا میں ظلم کر رہا ہے۔ یمن، شام، پاکستان، کشمیر، لبنان و غزہ میں ظلم کر رہا ہے۔ ہم ان سے اظہار بیزاری کرتے ہیں۔
فلسطین کی آزادی میں اپنے حصے کا تحرک مسلمان امت کی قوت میں اضافہ کا سبب ہے۔ ایک نقطہ جو قابل ذکر ہے وہ یہ کہ آزادیِ فلسطین کے موضوع میں تحرک دکھا کر ہم فلسطین کے حق میں نہیں بلکہ اپنے حق میں خیر کریں گے۔ فلسطین کو تو آزاد ہونا ہی ہے۔ یہ تو خدا کا فیصلہ ہے۔ ہم کچھ بھی نہ کریں پھر بھی خدا کسی صورت اپنے ارادے کو انجام دے گا۔ ہم اس میں اپنا حصہ ڈال کر خود کے مقام میں اضافہ کریں گے۔ خدا کی قربت، ایمان تقویت حاصل کریں گے۔ قدس تو آزاد ہوگا ہی۔ ہم اس آزادی میں اپنا کتنا حصہ ڈالتے ہیں، یہ اہم ہے۔ گویا کہ اس مسئلہ کے ذریعہ ہماری آزمائش ہے کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ اب قدس کی آزادی میں حصہ ڈالنا ہے یا نہیں یہ آخری فیصلہ ہم پر ہے۔
آپ کا تبصرہ