حوزہ نیوز ایجنسی |
ترجمہ و اضافات: مولانا سید علی ہاشم عابدی
"وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ " (سورہ اعراف، آیت 44)
اور جنّتی لوگ جہّنمیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو کچھ ہمارے پروردگار نے ہم سے وعدہ کیا تھا وہ ہم نے تو پالیا کیا تم نے بھی حسب وعدہ حاصل کرلیا ہے وہ کہیں گے بیشک .پھر ایک منادی آواز دے گا کہ ظالمین پر خدا کی لعنت ہے۔
کتاب معانی الاخبار میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کا ایک خطبہ نقل ہوا ہے جس میں آپؑ نے اللہ عزوجل کی ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو اس نے آپؑ پر نازل کیں۔ اسی خطبہ میں آپؑ فرماتے ہیں: "آگاہ رہو! بے شک میں قرآن میں چند ناموں کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہوں، خبردار! ایسا نہ ہو کہ تم ان (القابات) میں مجھ پر سبقت لے جاؤ اور اپنے دین میں گمراہ ہو جاؤ۔ "أَنَا اَلْمُؤَذِّنُ فِي اَلدُّنْيَا وَ اَلْآخِرَةِ" میں دنیا اور آخرت میں مؤذن ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اَللّٰهِ عَلَى اَلظّٰالِمِينَ" یعنی ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ظالموں پر ہے۔' میں ہی وہ مؤذن ہوں۔
اور (اللہ نے) فرمایا: "وَ أَذٰانٌ مِنَ اَللّٰهِ وَ رَسُولِهِ" اور یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان ہے۔ اور میں ہی وہ اعلان (اذان) ہوں۔" (تفسیر نور الثقلین، جلد 2، صفحہ 184)
مذکورہ آیت کے سلسلہ میں حضرت ابو الحسن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "اَلْمُؤَذِّنُ أَمِيرُ اَلْمُؤْمِنِينَ صَلَوَاتُ اَللَّهِ عَلَيْهِ يُؤَذِّنُ أَذَاناً يَسْمَعُ اَلْخَلاَئِقُ كُلُّهَا" وہ پکارنے والا (مؤذن) امیرالمؤمنین علیہ السلام ہیں، جو ایسا اعلان کریں گے کہ تمام مخلوقات اسے سنیں گی۔ اس کی دلیل اللہ عزّوجلّ کا یہ فرمان ہے جو سورۂ براءت میں ہے: "وَ أَذٰانٌ مِنَ اَللّٰهِ وَ رَسُولِهِ" اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان ہے…" پھر امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: "كُنْتُ أَنَا اَلْأَذَانَ فِي اَلنَّاسِ" لوگوں کے درمیان وہ اعلان میں ہی تھا۔ (تفسیر قمی، جلد 1، صفحہ 231)
اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرمایا: "اَلْمُؤَذِّنُ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ" وہ مؤذن علی علیہ السلام ہیں۔ (تفسیر البرہان، جلد 2، صفحہ 546)
اسی طرح امام علی رضا علیہ السلام نے مذکورہ آیت کے ذیل میں فرمایا: "اَلْمُؤَذِّنُ أَمِيرُ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يُؤَذِّنُ أَذَاناً يُسْمِعُ اَلْخَلاَئِقَ" موذن امیر المومنین علیہ السلام ہیں، جن کی اذان (آواز) تمام مخلوقات سنیں گی۔ (بحار الانوار، جلد 36، صفحہ 63)
اسی سلسلہ میں ایک طویل روایت کا خلاصہ مندرجہ زیل ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ جب امیرالمؤمنین علی علیہ السلام جنگِ نہروان سے واپس کوفہ تشریف لائے تو آپؑ کو معلوم ہوا کہ حاکمِ شام آپ کو برا بھلا کہہ رہا ہے اور آپ کے وفادار ساتھیوں کو قتل کرا رہا ہے۔ یہ خبر سن کر آپؑ منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ پہلے بارگاہِ الٰہی میں حمد و ثنا پیش کی، پھر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا ذکر فرمایا۔
پھر ارشاد فرمایا: اگر قرآن کی یہ آیت نہ ہوتی: “اور اپنے رب کی نعمت کا ذکر کرو” تو میں آج اپنے بارے میں کچھ نہ کہتا۔ اس کے بعد آپؑ نے اپنے مقام و منزلت کو بیان کیا: میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھائی، ان کا چچا زاد، ان کا داماد اور ان کے علم کا وارث ہوں۔ میں علم کے شہر کا دروازہ ہوں، اوصیاء کا سردار ہوں، اور خاتم الانبیاء کے بعد ان کا برحق وصی ہوں۔
آپؑ نے فرمایا: قرآن میں جن صفات کا ذکر ہے — صادق، محسن، اذنِ واعیہ، مؤذن — ان کا مصداق میں ہوں۔ دنیا و آخرت میں اعلانِ حق کرنے والا میں ہی ہوں۔ ہم اہلِ بیتؑ ہی اصحابِ اعراف ہیں؛ ہماری محبت نجات کا راستہ ہے اور ہمارا بغض ہلاکت کا سبب۔ جو ہم سے محبت رکھے گا وہ جہنم سے محفوظ رہے گا، اور جو دشمنی کرے گا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔
آپؑ نے فرمایا: میری ذات تمہارے لئے کسوٹی ہے: میری محبت ایمان کی علامت ہے اور میرا بغض نفاق کی نشانی۔ یہ وہی عہد ہے جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ علیؑ سے صرف مومن محبت کرے گا اور منافق ہی دشمنی رکھے گا۔ (بحار الانوار، جلد 33، صفحہ 282)
مذکورہ آیت اور روایات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مؤذن امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ہیں اور ان نصوص کی روشنی میں درجِ ذیل نتائج سامنے آتے ہیں۔
1) مؤذن کے مصداق کامل امیر المومنین امام علی علیہ السلام ہیں جو روز قیامت حق و باطل کی حد فاصل کو نمایاں کریں گے۔
2) امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی روایت کے مطابق یہ ایسی صدا ہوگی جسے تمام مخلوقات سنیں گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اعلان آفاقی اور قطعی حجّت کے طور پر ہوگا—کسی گوشے میں ابہام باقی نہ رہے گا۔
3) دنیا و آخرت میں ایک ہی مشن ہے۔ جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: "أنا المؤذن في الدنيا والآخرة" اس تسلسل کو واضح کرتا ہے کہ دنیا میں بھی آپؑ نے حق کا اعلان کیا اور آخرت میں بھی اعلانِ حق آپؑ ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ یعنی ولایتِ علیؑ دنیا و آخرت کے درمیان ایک مربوط حقیقت ہے۔
4) قرآن کے القاب اور ان کا مصداق امیر المومنین علیہ السلام کی ذات ہے۔ جیسا کہ روایات میں “صادقین”، “محسنین”، “أُذُنٌ واعية”، “أصحاب الأعراف” جیسے عناوین کا ربط اہلِ بیتؑ سے بیان ہوا ہے۔ نتیجتاً امیر المومنین علیہ السلام کی ذات قرآن کریم کے متعدد اشارات کی جامع تفسیر بن کر سامنے آتی ہے۔
5) امیر المومنین علیہ السلام معیار ہیں۔ جیسا کہ خطبہ میں محبتِ علیؑ کو ایمان اور بغضِ علیؑ کو نفاق کی علامت قرار دیا گیا۔ پس قیامت کے اعلان میں بھی یہی معیار کارفرما ہوگا: ظالموں پر لعنت اور اہلِ حق کی نجات—یعنی ولایت ایک امتیازی کسوٹی ہے۔
6) براءت از ظلم کی علانیہ گواہی۔ جیسا کہ آیت کا مرکزی جملہ “لعنة الله على الظالمين” ہے۔ علیؑ بطورِ مؤذن، ظلم کے پورے نظام سے براءت کا علانیہ اعلان کریں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ولایت محض روحانی نسبت نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف واضح موقف بھی ہے۔
7) اصحابِ اعراف اہل بیت علیہم السلام ہیں۔
المختصر مذکورہ آیات و روایات سے یہ تصویر ابھرتی ہے کہ علیؑ کی ولایت صرف تاریخی یا اخلاقی فضیلت نہیں، بلکہ ایک عقیدتی و اخروی حقیقت ہے۔ دنیا میں اعلانِ حق اور آخرت میں اعلانِ جزا—دونوں ایک ہی مشن کے دو پہلو ہیں۔ روزِ قیامت جب فیصلہ کن آواز بلند ہوگی تو وہ آواز حق کی حتمی شہادت ہوگی: ظلم پر لعنت اور ولایتِ حق کی تصدیق۔









آپ کا تبصرہ