جمعہ 27 فروری 2026 - 23:09
کیا ہندوستان سچ میں اسرائیل کے ساتھ ہے؟ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل پر مولانا اختر عباس جون کی شدید تنقید

حوزہ/ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل اور وہاں پارلیمنٹ میں اظہارِ حمایت پر ملک کے معروف عالمِ دین مولانا اختر عباس جون نے سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم اور افسوس ناک موڑ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف پورے ہندوستان کی نمائندگی نہیں کرتا اور عوام کی بڑی تعداد فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل پر ملک کے معروف عالمِ دین مولانا اختر عباس جون نے سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہندوستان کی تاریخ کا ایک افسوس ناک دن قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں مولانا اختر عباس جون نے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ایک تاریخی بنیاد فلسطین کی حمایت رہی ہے، لیکن موجودہ دور میں اس روایت سے انحراف دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر اسرائیل کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور متعدد ممالک کھل کر ساتھ دینے سے گریز کر رہے ہیں، ہندوستانی وزیر اعظم کا اسرائیلی پارلیمنٹ میں جا کر مضبوط حمایت کا اظہار کرنا باعثِ تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں ہندوستان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کی، تاہم ان کے مطابق یہ مؤقف پورے ہندوستان کی نمائندگی نہیں کرتا۔ مولانا نے دعویٰ کیا کہ ملک کی اکثریت، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو، فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے۔

مولانا اختر عباس جون نے اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے تناظر میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں عام شہری، خصوصاً خواتین اور بچے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر بعض واقعات کو نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ دیگر انسانی نقصانات کو خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت کی پالیسیوں سے ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے تو اس کے دور رس اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ہندوستان ایک کثیرالمذاہب اور کثیرالثقافتی ملک ہے، جہاں عوام کی بڑی تعداد امن، انصاف اور انسانی حقوق کی حمایت کرتی ہے۔

اپنے بیان میں مولانا نے عالمی سیاست، دہشت گردی اور ماضی میں مختلف گروہوں کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کسی بھی مذہب کو انتہاپسندی کے ذریعے بدنام کرنے کی کوششیں آخرکار ناکام ہوتی ہیں۔ ان کے بقول حقیقی مذہبی تعلیمات امن، عدل اور انسانیت کا پیغام دیتی ہیں۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کشیدگی تاریخی پس منظر رکھتی ہے اور اسے یکطرفہ انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق مسئلے کا پائیدار حل صرف انصاف پر مبنی مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

آخر میں مولانا اختر عباس جون نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان اپنی تاریخی روایات، بین الاقوامی توازن اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے گا، کیونکہ ان کے بقول نفرت اور تصادم کی فضا دیرپا نہیں ہوتی، جبکہ محبت اور انصاف ہی دیرپا بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha