ہفتہ 28 فروری 2026 - 04:04
مسجد قرآن وعترت سیوان میں ماہ رمضان مبارک کاپروگرام

حوزہ/ سیوان، بہار کی مسجد قرآن و عترت میں ماہِ رمضان المبارک کے آغاز پر نمازِ جماعت، اجتماعی افطاری اور دست جمعی قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا، جہاں حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا محمد رضا معروفی نے سورۂ انعام کی آیات کی روشنی میں درسِ تفسیر دیتے ہوئے قرآنی تعلیمات پر عمل کی ضرورت پر زور

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سیوان، بہار/جیسے ہی ماہِ مبارک رمضان کا چاند نمودار ہوا، نمازیوں اور روزہ داروں نے مساجد کا رخ کر لیا۔ سال بھر اس بابرکت مہینے کا انتظار کرنے والوں کے لیے خوشی اور روحانی سرور کا موقع آ پہنچا۔ سحر خیزی، افطاری اور قرآن خوانی جیسی نعمتوں سے مؤمنین فیضیاب ہو رہے ہیں۔

مسجد قرآن و عترت، سیوان (بہار) میں بھی ماہِ رمضان المبارک کے سلسلے میں خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ مسجد میں نمازیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ روزہ داروں کے لیے اجتماعی افطاری کا بھی باقاعدہ انتظام کیا گیا ہے۔

مسجد قرآن وعترت سیوان میں ماہ رمضان مبارک کاپروگرام

رپورٹ کے مطابق، مولانا سید شمع محمد رضوی نے ہر سال کی طرح اس سال بھی نہایت جوش و جذبے کے ساتھ انتظامی امور کی نگرانی کرتے ہوئے بنیادی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیا۔ اس سال مسجد کے پیش نماز حجۃ الاسلام والمسلمین جناب محمد رضا معروفی ہیں۔
مسجد میں روزانہ نمازِ جماعت اور افطاری کے پروگرام کے ساتھ ساتھ اجتماعی قرآن خوانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گزشتہ سال ایران کے شہر قم سے تشریف لانے والے حافظِ کل قرآن مولانا سید حسین رضوی نے تفسیرِ قرآن کا درس شروع کیا تھا، جسے اس سال بھی جاری رکھا گیا ہے۔
اسی تسلسل میں مولانا محمد رضا معروفی نے “تفسیر اور مفسرین” کے عنوان سے دروس کا آغاز کیا، جو ماہِ مبارک کے اختتام تک جاری رہیں گے۔ عوام میں ان دروس کے حوالے سے خصوصی دلچسپی پائی جا رہی ہے۔
مولانا موصوف نے سورۂ انعام کی آیات کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ قرآن مجید کے آٹھویں پارے کا حصہ ہے۔ ابتدائی آیات میں رسول اکرم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ اگر منکرین پر فرشتے نازل کر دیے جائیں، مردے ان سے گفتگو کریں اور تمام چیزیں ان کے سامنے جمع کر دی جائیں، تب بھی وہ ایمان نہ لائیں گے۔
آپ نے سورۂ انعام کے چند اہم نکات بیان کرتے ہوئے کہا:
1۔ ہر شخص کے درجات اس کے اعمال کے مطابق ہوں گے اور خداوندِ عالم تمام اعمال سے باخبر ہے۔
2۔ زمانۂ جاہلیت میں فقر یا عار کے خوف سے بیٹیوں کو قتل کیا جاتا تھا۔
3۔ مشرکین نے چوپایوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کر رکھا تھا؛ کچھ کو اپنے پیشواؤں کے لیے مخصوص کرتے، بعض پر سواری کو ممنوع سمجھتے اور بعض کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات جانوروں کے بچوں کو عورتوں پر حرام اور مردوں پر حلال قرار دیتے تھے۔
مولانا نے مزید فرمایا کہ مشرکین اپنے غلط اعمال کے لیے جبر کا بہانہ پیش کرتے تھے، حالانکہ قرآن واضح کرتا ہے کہ جو نیکی کرے گا اسے دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کرے گا اسے اتنی ہی سزا دی جائے گی۔ آپ نے آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا: “کہہ دیجیے! میرے رب نے مجھے صراطِ مستقیم کی ہدایت دی ہے، جو دینِ ابراہیمؑ ہے۔ بے شک میری نماز، میری عبادات، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے۔”

مسجد قرآن وعترت سیوان میں ماہ رمضان مبارک کاپروگرام

مولانا موصوف نے اسراف سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے آیتِ کریمہ “کھاؤ، پیو لیکن اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” کی تشریح کی اور فرمایا کہ دنیاوی زندگی میں اللہ کی عطا کردہ حلال زینت اور پاکیزہ رزق کو خود پر حرام کرنا درست نہیں۔آخر میں جنتیوں اور جہنمیوں کے مکالمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے کہ جب دونوں گروہوں کا سامنا ہوگا تو جنتی اللہ کے وعدوں کے پورا ہونے کی تصدیق کریں گے، جبکہ جہنمی حسرت کا اظہار کریں گے۔ بعض معتبر تفاسیر اور احادیث کے مطابق اس موقع پر ظالموں پر لعنت کے اعلان کا حکم دیا جائے گا، اور روایات میں اس شخصیت کا نام امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب ذکر ہوا ہے۔
مولانا موصوف نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ماہِ مبارک میں یاد کی جانے والی قرآنی تعلیمات درحقیقت پورے سال کی زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں، کیونکہ قرآن مجید ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha