تحریر: مولانا سید عباس باقری
حوزہ نیوز ایجنسی | ایران میں سیکڑوں سالہ ظالم شہنشاہی نظام کے خاتمہ کے بعد ایرانی عوام کی براہِ راست رائے سے امام خمینی رہ کی قیادت میں جمہوری طریقہ سے اسلامی نظام کا قیام عمل میں آیا، فقہا و مجتہدین اور بین الاقوامی قانون دانوں کی مشترکہ مساعی سے قرآنِ کریم اور احادیثِ معصومین علیہم السلام کی روشنی میں جو بنیادی قانون مرتب ہوا وہی آئینِ جمہوری اسلامی ایران ہے۔ اس آئین میں ملک کے مختلف آئینی اداروں اور ان کے انتخابی طریقۂ کار، شرائطِ رکنیت، ذمہ داریوں، اختیارات اور حدود کو نہایت وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ انہی میں شورای نگہبان، مجمع تشخیص مصلحت نظام اور مجلس خبرگان رهبری شامل ہیں، جو رہبر کے انتخاب اور نگرانی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔
مجلسِ خبرگانِ رہبری کے ارکان ایسے فقہا و مجتہدین ہوتے ہیں جو علمی و فکری اعتبار سے بلند مقام کے حامل ہوں۔ ان کے لیے اجتہاد و فقاہت کا معیار ثابت ہونا ضروری ہے، اور اس اہلیت کی جانچ آئینی طریقۂ کار کے مطابق کی جاتی ہے۔ تقویٰ، عدالت، خداترسی، سیاسی و سماجی بصیرت اور حالاتِ زمانہ سے آگاہی بھی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔ ان شرائط کے پائے جانے کے باوجود کوئی شخص خود بخود رکن نہیں بن جاتا، بلکہ پہلے وہ شورای نگہبان کی جانب سے اہلیت کا حامل قرار پاتا ہے، اس کے بعد ملک کے مختلف شہروں اور حلقوں میں عوامی انتخاب کے ذریعے منتخب ہوتا ہے۔ اراکین کی تعداد ملک کی آبادی کے تناسب سے 88 ہے اور ان کی مدتِ رکنیت آٹھ سال مقرر ہے۔ یوں مجلسِ خبرگان براہِ راست عوامی انتخاب سے وجود میں آتی ہے۔
مجلسِ خبرگانِ رہبری کا بنیادی وظیفہ یہ ہے کہ اصل 109 میں مذکور شرائط—فقاہت، اجتہاد، عدالت، تدبیر، شجاعت، بصیرت اور سیاسی صلاحیت—کے حامل افراد میں سے سب سے بہتر اور اصلح شخصیت کو ولیِ فقیہ یعنی رہبر کے طور پر منتخب کرے، اور انتخاب کے بعد بھی ان شرائط اور کارکردگی پر دقیق و مسلسل نظر رکھے۔ اگر کبھی یہ ثابت ہو جائے کہ رہبر ان شرائط میں سے کسی شرط سے محروم ہو گئے یا اپنے فرائض انجام دینے سے عاجز ہو گئے ہیں تو آئین کے اصل 111 کے مطابق مجلسِ خبرگانِ رہبری انہیں منصبِ ولایت سے معزول کرنے کی مجاز ہے۔ اس طرح آئینی طور پر واضح ہے کہ ولیِ فقیہ بھی قانون سے بالاتر نہیں بلکہ خود آئین کے تابع ہے ہیں، گویا ولایت شخص کے ساتھ نہیں بلکہ شرائط کے ساتھ قائم ہے۔
اصل 111 مزید یہ بیان کرتا ہے کہ اگر رہبر کا انتقال ہو جائے، وہ استعفا دے دے یا عارضی طور پر اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو جائے تو نئے رہبر کے انتخاب تک ایک عبوری نظم قائم کیا جائے گا۔ آئین کے مطابق اس مرحلے میں صدرِ مملکت، چیف جسٹس اور شورای نگہبان کے فقہا میں سے ایک فقیہ پر مشتمل کونسل رہبر کے بعض فرائض انجام دے گی، البتہ انہیں ولایتِ فقیہ کے کامل اختیارات حاصل نہیں ہوتے اور وہ آئینی حدود کے اندر رہ کر ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
رہبرِ معظم کی شہادت کے بعد صدرِ جمہوریہ آقای پزشکیان، چیف جسٹس حجۃ الاسلام و المسلمین آقای محسن اژہای اور آیت اللہ علی رضا اعرافی—جو شورای نگہبان کے فقیہ اور مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن ہیں—کو مجمع تشخیص مصلحت نظام نے بعنوان اعضائے شورای موقتِ رہبری قرار پانے کا اعلان کیا ہے، تاکہ مجلسِ خبرگانِ رہبری کی جانب سے نئے رہبر کے انتخاب تک ملک کے امور آئینی طریقے سے جاری رہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ حضرات اپنی ذمہ داریاں قانونِ اساسی کے تقاضوں کے مطابق انجام دیتے ہوئے نظام کے تسلسل اور استحکام کو یقینی بنائیں گے، یہاں تک کہ مجلسِ خبرگانِ رہبری نیا رہبر منتخب کر دے۔
یوں اصل 111 نہ صرف انتخابِ رہبر کا ضابطہ بیان کرتا ہے بلکہ احتساب، نگرانی اور عبوری انتظام کا ایک مکمل آئینی فریم ورک بھی فراہم کرتا ہے، جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جمہوری اسلامی ایران میں اقتدار کی اعلیٰ ترین سطح بھی قانونِ اساسی کے تابع اور اس کی حدود میں مقید ہے۔









آپ کا تبصرہ