حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ، حجۃ الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے قم میں قائم انڈونیشی طلبہ کے موکب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طلبہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے امت اسلامی کی یکجہتی کی روشن مثال قرار دیا۔
یہ موکب مدرسہ «جامعة العلوم» قم کے سامنے انڈونیشی طلبہ کی جانب سے قائم کیا گیا تھا، جہاں عوام میں مفت کھانا اور پانی تقسیم کیے جا رہے تھا۔ سید مفید حسینی کوہساری کی آمد پر طلبہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس موقع پر سربراہ بین الاقوامی امور نے طلبہ کے درمیان بیٹھ کر ان کے ہاتھوں سے تیار کردہ چائے نوش کی اور ان کے جذبۂ خدمت کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے ایک اہم یادگار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہید رہبر نے فرمایا تھا کہ اگر امت کو کسی مشکل کا سامنا ہو تو خداوند متعال ایک قوم کو اس کے مقابلے کے لیے اٹھائے گا۔
انہوں نے انڈونیشی طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: “آپ اس سادہ موکب کو ہرگز معمولی نہ سمجھیں، ممکن ہے خداوند اسی راستے سے کسی قوم کو بیدار کرے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ تمام طلبہ کو ذاتی طور پر نہیں جانتے، لیکن ان کے چہروں کو دیکھ کر انہیں برادری اور اخوت کا گہرا احساس ہوتا ہے۔
دورے کے اختتام پر سید مفید حسینی کوہساری نے تمام انڈونیشی طلبہ کو مزاحمت اور استقامت کی علامت کے طور پر چفیہ بطور تحفہ پیش کیا، جبکہ اس موقع پر یادگاری تصاویر بھی لی گئیں۔
واضح رہے کہ اس موکب کو مقامی عوام کی جانب سے بھی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی، جہاں لوگوں نے “ماشاء اللہ” اور “احسنت” جیسے کلمات کے ذریعے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔ انڈونیشی زبان میں “باس! باس!” (یعنی “بہت اچھا!”) کی صدائیں بھی گونجتی رہیں۔









آپ کا تبصرہ