جمعہ 1 مئی 2026 - 12:49
روز معلم اور یوم شہادت استاد شہید مطہری؛ گہرا تعلق اور معنوی ہم آہنگی

حوزہ / 2 مئی 1979ء کو استاد مطہری کو دشمنان اسلام کے ہاتھوں شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت نے ثابت کیا کہ علم کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنا بھی استاد کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

تحریر: عاصم علی جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی | روز معلم (2 مئی) اور یوم شہادت استاد مطہری (ہفتہ، 2 مئی / 12 اردیبهشت) ایک دوسرے سے گہرے تعلق اور معنوی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ یہ دونوں دن تعلیم و تربیت کی اہمیت، استاد کی شان اور علم کی راہ میں قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ شہید مرتضیٰ مطہری نے اپنی زندگی علم کی ترویج، اسلامی فکر کی نشوونما اور نوجوان نسل کی تربیت میں وقف کر دی۔ ان کی شہادت نے استاد کی حیثیت کو ایک نئے معنوی اور انقلابی بعد میں متعارف کرایا۔

پہلا باب: استاد کی شان اور قرآنی تصویر

قرآن کریم میں تعلیم و ہدایت کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ربنا الذی اعطی کل شئی خلقہ ثم ھدی" (طہٰ: ۵۰)

“میرا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو ویسا وجود بخشا جو اس کے لائق تھا اور پھر اس وجود کو اس کی راہ پر چلنے کی ہدایت کی۔”

یہ آیت کائنات کے ہر موجود کے اندر ہدایت اور کمال کی طرف بڑھنے کی کشش کو ظاہر کرتی ہے۔ انسان کی ہدایت کے لیے خداوند نے انبیاء کرام اور اولیاء کو مربی و استاد کی حیثیت سے بھیجا۔ قرآن میں انبیاء کو “معلم انسان” کے درجے پر فائز قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

> “ہو الذی بعث فی الامیین رسولاً منھم یتلو علیھم آیاتھ و یزکیھم و یعلمھم الکتاب والحکمۃ” (الجمعة ۲)

یہاں پیغمبر اسلام کو تین ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا: تلاوت آیات، تزکیہ نفس، اور کتاب و حکمت کی تعلیم۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف علم دینا کافی نہیں، بلکہ علم کے ساتھ اخلاقی تربیت اور عملی زندگی کی ہدایت بھی استاد کا فرض ہے۔

دوسرا باب: شہید مطہری کا علمی و فکری تعارف

شہید ڈاکٹر مرتضیٰ مطہری (۱۹۱۹ء – ۱۹۷۹ء) ایک عظیم اسلامی فلسفی، مفکر، اور استاد تھے۔ آپ نے قم اور تہران میں دہائیوں تک طلباء و طالبات کو اسلامی فلسفہ، اخلاق، تفسیر، اور معاشرتی علوم پڑھائے۔ آپ کی تحریروں اور تقاریر نے ایران میں اسلامی انقلاب کی فکری بنیادیں فراہم کی۔

استاد مطہری کا خاصہ یہ تھا کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ وہ مغربی فکر کے غلبے کے سامنے اسلامی شناخت کو بحال رکھنے کے لیے سرگرداں رہے۔ ان کے نزدیک استاد صرف معلومات کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک رہبر و مرشد ہے جو طالب علم کی شخصیت کو تشکیل دیتا ہے۔

تیسرا باب: استاد مطہری کی معلمی اور تدریسی اصول

استاد مطہری کے تدریسی انداز میں چند بنیادی اصول نمایاں تھے:

۱. عقلی اور نقلی علم کا امتزاج:

وہ صرف روایتی علوم نہیں پڑھاتے تھے، بلکہ فلسفہ، منطق، اور جدید سائنس کے مسائل کو بھی اسلامی تناظر میں پیش کرتے تھے۔

۲. عملی زندگی سے تعلق:

ان کا خیال تھا کہ علم اگر عمل میں نہ آئے تو مردہ ہے۔ وہ طلباء کو ہمیشہ عملی زندگی میں علم کے اطلاق کی ترغیب دیتے تھے۔

۳. آزادانہ فکر کی حوصلہ افزائی:

وہ طلباء میں تنقیدی سوچ اور تحقیقی جذبہ پیدا کرتے تھے، تاکہ وہ اندھی تقلید سے بچ سکیں۔

۴. اخلاقی تربیت:

ان کے نزدیک استاد کی سب سے بڑی ذمہ داری طالب علم کے اخلاق و کردار کی تعمیر ہے۔

چوتھا باب: یوم شہادت اور استاد کی قربانی

۱ مئی ۱۹۷۹ء کو استاد مطہری کو دشمنان اسلام کے ہاتھوں شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت نے ثابت کیا کہ علم کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنا بھی استاد کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

شہادت استاد مطہری نے روز معلم کو ایک نیا معنی بخشا۔ یہ صرف استاد کی تعظیم کا دن نہیں، بلکہ ان تمام اساتذہ کی یادگار ہے جنہوں نے حق و صداقت کی تعلیم دی اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔

پانچواں باب: آیت اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں استاد مطہری

آیت اللہ سید علی خامنہ ای، جو خود استاد مطہری کے شاگرد رہ چکے ہیں، نے بارہا ان کی استادی اور علمی خدمات کو سراہا ہے۔ ان کے نزدیک استاد مطہری ایک “معلم انقلاب” تھے جنہوں نے صرف طلباء ہی نہیں، بلکہ پوری قوم کو درس دی۔ ان کی شہادت کو “امت مسلمہ کا عظیم نقصان” قرار دیا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے استاد مطہری کی کتابوں اور تقاریر کو نوجوان نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ استاد مطہری کا فکر آج بھی ایران اور پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک فکری مکتب کی حیثیت رکھتا ہے۔

چھٹا باب: روز معلم کا فلسفہ اور اسلامی تعلیمی نظام

ایران میں ۱ مئی کو “روز معلم” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن استاد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اسلامی نظام تعلیم میں استاد کا درجہ والدین کے بعد سب سے بلند ہے۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا:

> “میں صرف بتلانے والا ہوں”

یہ استاد کی تواضع اور علم کی ترویج کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔

استاد مطہری کے فکر کے مطابق، ایک مثالی استاد میں یہ صفات ہونی چاہئیں:

- علمی گہرائی اور تحقیقی جذبہ

- اخلاقی پاکیزگی اور عملی نمونہ

- سماجی ذمہ داری اور انقلابی جذبہ

- طلباء سے محبت اور ان کی فکری آزادی کا احترام

ساتواں باب: استاد مطہری کے اہم علمی کارنامے

استاد مطہری کی تصانیف اور تقاریر اسلامی فکر کے ناقابل فراموش سرمایے ہیں:

۱. “نظام حقوق زن در اسلام” – خواتین کے حقوق کا اسلامی نقطہ نظر

۲. “خدمات متقابل اسلام و ایران” – اسلام اور ایران کی ثقافتی وابستگی

۳. “شرح منظومه” – اسلامی فلسفے کی کلاسیکی تشریح

۴. “تعلیم و تربیت در اسلام” – اسلامی نظام تعلیم کا فلسفہ

۵. “جاذبه و دافعه علی” – امام علی کے کردار کی عظمت

۶. “آشنایی با علوم اسلامی” – اسلامی علوم کا تعارف

ان کی تقریباً ۸۰ سے زائد کتابیں آج بھی دنیا بھر کے اردو، فارسی، عربی، انگریزی اور دیگر زبانوں میں پڑھی جا رہی ہیں۔

آٹھواں باب: استاد کی ذمہ داری اور آج کے تقاضے

آج کے دور میں جب معلومات کا دور دورہ ہے، استاد کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ استاد مطہری کے فکر کے مطابق:

۱. فکری دفاع: استاد کو مغربی فکر کے غلبے کے سامنے اسلامی شناخت کا دفاع کرنا ہے۔

۲. اخلاقی رہنمائی: معاشرتی بگاڑ کے دور میں استاد اخلاقی قدروں کا محافظ ہے۔

۳. انقلابی جذبہ: صرف علمی تعلیم کافی نہیں، بلکہ استاد کو معاشرتی انصاف اور جدوجہد کی ترغیب دینی ہے۔

۴. جدیدیت اور روایت کا توازن: استاد کو جدید چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اسلامی روایت کو برقرار رکھنا ہے۔

نتیجہ

روز معلم اور یوم شہادت استاد مطہری ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ استاد صرف معلومات کا منتقل کنندہ نہیں، بلکہ ایک معمار ہے جو افراد اور معاشروں کی تعمیر کرتا ہے۔ شہید مطہری کی زندگی اور شہادت اس بات کی گواہی ہے کہ علم کی راہ میں قربانی دینا سب سے بڑا جہاد ہے۔

آج جب ہم استاد مطہری کو یاد کرتے ہیں، تو ہمیں ان کے فکر کو اپنانے، ان کی تصانیف کو پھیلانے، اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک حقیقی استاد وہی ہے جو طالب علم میں علم کے ساتھ اخلاق، جذبہ، اور انقلابی شعور پیدا کرے۔

استاد مطہری کی شہادت نے ثابت کیا کہ علم کا چراغ کبھی بجھ نہیں سکتا، بلکہ شہادت اسے ہمیشہ کے لیے روشن کر دیتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha