جمعرات 7 مئی 2026 - 22:33
حوزہ علمیہ خواہران انقلابِ اسلامی کی عظیم برکات میں سے ایک ہے

حوزہ / آیت اللہ فاضل لنکرانی نے کہا: امریکہ اور صیہونی حکومت کا ہدف یہ ہے کہ وہ بشریت پر مکمل غلبہ حاصل کریں اور تمام انسانوں کو اپنا محکوم اور غلام بنا لیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، مرکز فقہی ائمہ اطہار (ع) کے سربراہ آیت اللہ محمدجواد فاضل لنکرانی نے ایران کے صوبہ مرکزی کے حوزہ علمیہ خواہران کی طالبات سے خطاب کے دوران کہا: امریکہ اور صیہونی حکومت کا ہدف یہ ہے کہ وہ بشریت پر مکمل غلبہ حاصل کریں اور تمام انسانوں کو اپنا محکوم اور غلام بنا لیں۔

انہوں نے کہا: حوزہ علمیہ خواہران انقلابِ اسلامی کی عظیم برکات میں سے ہے، انقلاب سے پہلے شہروں میں خواتین کا حوزہ بالکل موجود نہیں تھا۔ خواتین کے حوزات علمیہ اسلام کے ان نمایاں امور میں سے ہیں جو ہم دنیا کو دکھا سکتے ہیں، یہ حوزاتِ علمیہ آج پورے ملک میں پھیل چکے ہیں یہاں تک کہ بعض صوبوں میں خواتین کی علمی، سیاسی اور معنوی موجودگی مردوں سے بھی زیادہ ہے اور یہ انقلاب اسلامی اور امام خمینی (رہ) اور ہمارے رہبرشہید (رہ) کی دانشمندانہ رہبری کی بدولت ہے۔

آیت اللہ فاضل لنکرانی نے کہا: انقلاب اسلامی کا دیگر انقلابوں سے امتیاز دین پر مبنی ہونا ہے، یہ انقلاب دین کی بنیاد پر تشکیل پایا اور لوگ دین کی حمایت کے لیے میدان میں آئے۔ اگر آج بھی لوگ ان راتوں کے اجتماعات میں شریک ہیں جو اب ساٹھ دن سے جاری ہیں تو اس کی اصل اور اہم وجہ دین ہے۔

انہوں نے مزید کہا: امریکہ اور اسرائیل کا اصل ہدف بشریت پر غلبہ حاصل کرنا اور تمام انسانوں کو محکوم و غلام بنانا ہے، یہودیوں کا منصوبہ انسانوں کو تسخیر کرنا اور ان کی غلامی ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ حکومت اللہ کی ہے، حکومت صالحین، اولیاء اور انبیاء اللہ کی ہے، انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی ہے اور غیبت کے دور میں جامع الشرائط فقیہ کے لیے ہے۔ وہ حکومت جو انسان کو عزت، نشوونما اور شخصیت عطا کرتی ہے اور اسے آزاد قرار دیتی ہے اور وہ جو یہود اس بارے میں سوچتے ہیں، ان میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔

مرکز فقہی ائمہ اطہار (ع) کے سربراہ نے کہا: اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہمارا علم مضبوط اور ترقی یافتہ ہو تو دین کو گہری اور وسیع نظر سے دیکھیں۔ اگر نظر فردی اور محدود ہو تو علم میں کچھ حاصل نہیں ہوگا لیکن اگر نظر گہری اور وسیع ہو جیسا کہ امام نے فرمایا تھا تو آپ علم میں بہت ترقی کرو گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha