حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم حضرت عبدالعظیم حسنی(ع) کے متولی حجت الاسلام والمسلمین قاضی عسکر نے کہا ہے کہ اسلام زندگی کے تمام پہلوؤں (ثقافت، معیشت، سیاست اور نظم و نسق) کے لیے مکمل نظام رکھتا ہے، جس میں اہل منتخب کرنا ایک اہم ستون ہے۔
انہوں نے کہا کہ انقلاب سے پہلے مارکسی نظریات نے یہ تاثر دیا کہ مذہب محض عبادات تک محدود ہے، جبکہ انقلابِ اسلامی کے بعد یہ ثابت ہوا کہ اسلام ایک جامع دین ہے۔
انہوں نے "سوءالتدبیر سبب التدمیر" (برا انتظام تباہی کا سبب ہے) کے اصول پر زور دیا اور کہا کہ ان لوگوں کے لیے سزا ہوگی جو اپنی اہلیت کے بغیر عہدہ قبول کرتے ہیں۔
انہوں نے اہل بیت(ع) کو "ساسۃ العباد" (لوگوں کے حقیقی منتظم) قرار دیا اور مزید کہا کہ جو لوگ ریاست کے طلب گار ہوتے ہیں وہ ہلاک ہو جاتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے "من طلب الریاسۃ ہلک"۔
انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ مشاورت (شاورھم فی الامر) سے کام لیں۔ حضرت یوسف(ع) کی داستان کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے واضح کیا کہ کس طرح مناسب منصوبہ بندی نے ایک قوم کو خشک سالی سے بچایا۔









آپ کا تبصرہ