حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرمِ کریمہ اہلبیت (ع) میں منگل کی شب خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام محمدرضا حسنی نے کہا کہ امام رضا (ع) کو ہم "امام رئوف" کہہ کر پکارتے ہیں، لیکن ان کی مہربانی کا سب سے بڑا پہلو یہ تھا کہ وہ اپنے اصحاب کی ایسی تربیت کرتے تھے کہ ان کا سرمایہ صرف اللہ اور امام کی رضا ہوتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ امام رضا (ع) نے اپنے ایک صحابی "یونس بن عبد الرحمن" کے بارے میں تین بار فرمایا کہ میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ ایک دن یونس امام کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں کچھ لوگ آ گئے۔ امام نے یونس سے کہا کہ آپ اندر چلے جائیں۔ جب وہ لوگ چلے گئے تو یونس آئے اور رونے لگے۔ انہوں نے عرض کیا: شاید ان لوگوں نے میری برائی کی ہو گی؟ تب امام رضا (ع) نے فرمایا: "تم پر کیا گزرتی ہے جب تمہارا امام خود تم سے راضی ہو؟ لوگ جو چاہیں کہیں، تمہیں اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔"
حجت الاسلام حسنی نے کہا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا اصل سرمایہ واضح ہوتا ہے۔ آج ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ہماری قدر لوگوں کی نظروں میں ہے، جبکہ امام ہمیں سکھاتے ہیں کہ اصل قیمت اس وقت بنتی ہے جب ہمارا امام ہم سے راضی ہو۔
انہوں نے ایک اور واقعہ سنایا کہ ایک شخص "احمد بن محمد" مالی تنگی میں تھا۔ اس نے امام سے کہا کہ کسی بڑے عہدیدار کے پاس میرے لیے سفارشی خط لکھ دیں۔ امام نے فرمایا: "میں یہ پسند نہیں کرتا کہ تم مال کے لیے کسی کے سامنے جھکو۔" پھر امام نے خود اس کی ضرورت پوری کر دی۔
حجۃ الاسلام حسنی نے کہا کہ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر ہم امام کے سچے محب اور صحابی ہوں تو امام خود ہماری فکر کرتے ہیں۔ گھر کا خرچہ ہو، نوکری کا مسئلہ ہو یا کوئی اور پریشانی — جب تک ہم امام کی رضا کو اپنا سرمایہ سمجھیں، اللہ خود ہمارے حالات بدل دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امام رضا (ع) نے یہ بھی فرمایا کہ ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جو تمہیں خدا کی یاد دلائیں، اور اگر کوئی ساتھی تمہیں ولایت کی راہ سے ہٹا رہا ہو تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرو کیونکہ تمہارا اصل سرمایہ تمہارا عقیدہ ہے، جسے کسی قیمت پر مت کھونا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ آج ہمیں امام زمانہ (عج) سے بھی یہی تعلق بنانا ہے۔ چاہے لوگ کچھ بھی کہیں، چاہے مشکلات کتنی ہی بڑی ہوں، ہمیں اپنے امام کی رضا کو ہی اپنا سب سے بڑا سرمایہ سمجھنا ہے۔









آپ کا تبصرہ