حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد اخلاق و مدیر حوزہ علمیہ ولیعصر بناب آیت اللہ بنائی نے حوزہ علمیہ میں رجسٹریشن کے ایام کے موقع پر اپنے خطاب میں حوزات علمیہ اور علماء کے کردار کو دورانِ غیبت میں دینی معارف کے تحفظ اور تبیین میں بہت اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا: 250 سال ائمہ معصومین علیہم السلام موجود تھے۔ اس کے بعد امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت ہوئی اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف غیبت میں چلے گئے۔ ان کے چوتھے نائب کو توقیع جاری ہوئی کہ اب غیبت کبری کا وقت ہے اور اس کے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہ کرنا۔
اس وقت سے امام ظاہرا ہماری دسترس میں نہیں رہے۔ اب اس کے بعد لوگ کیا کریں؟ جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات کے وقت فرمایا تھا کہ میں تمہارے درمیان قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کو چھوڑ کر جا رہا ہوں، اسی طرح امام زمانہ علیہ السلام کو بھی حکم ہوا کہ تمہارے بعد قرآن ہے اور اس کی تفسیر کرنے والے اور احادیث بیان کرنے والے بھی ہیں۔ لوگ ان علماء امین اور مجتہدین امین کی طرف رجوع کریں جو قرآن اور روایات سے احکام الہی کو استخراج کر سکتے ہیں۔
آیت اللہ بنائی نے کہا: 1200 سال کوئی آسان بات نہیں ہے۔ جو علماء حوزہ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ واقعی انسانیت کی کتنی خدمت کرتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتے تو دس بیس سال بعد جو کچھ لوگوں کے پاس تھا وہ بھول جاتے اور کوئی نگہبان نہ ہوتا۔ امام زمانہ علیہ السلام نے سفارش کی ہے کہ یہ علماء میرے نمائندے ہیں، لوگ ان سے احکام حاصل کریں۔
اگر غیبت کے دور میں حوزے اور علماء نہ ہوتے تو لوگ کیا کرتے؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امیرالمؤمنین علیہ السلام تھے اور قرآن تھا۔ امام اب موجود ہیں لیکن غیبت میں ہیں۔ اگر حوزہ اور طلبہ نہ ہوتے تو کوئی نہ بچتا۔









آپ کا تبصرہ