ہفتہ 16 مئی 2026 - 14:32
ایک ایسا ایرانی کمانڈر جسے دعائے ندبہ اور دعائے کمیل حفظ تھی

حوزہ/ شہید محسن حاجی بابا وہ ایرانی کمانڈر تھے جو اپنے دن کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا کرتے، دعائے کمیل و ندبہ حفظ تھی، اور کمانڈر ہونے کے باوجود پک اپ گاڑی کے عقب میں بیٹھتے۔ ان کے وطن کے لوگ شہادت کے برسوں بعد بھی انہیں اپنا بھائی کہتے تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید محسن حاجی بابا وہ ایرانی کمانڈر تھے جو اپنے دن کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا کرتے، دعائے کمیل و ندبہ حفظ تھی، اور کمانڈر ہونے کے باوجود پک اپ گاڑی کے عقب میں بیٹھتے۔ ان کے وطن کے لوگ شہادت کے برسوں بعد بھی انہیں اپنا بھائی کہتے تھے۔

شہید محسن حاجی بابا کی زندگی کے چند واقعات پیش کیے جا رہے ہیں:

شہید کے پاس ایک جیبی قرآن تھا جسے پڑھ کر وہ ہمیشہ اپنے دن کا آغاز کرتے تھے۔ وہ قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھنے کے پابند تھے اور اتنے زیادہ مرتبہ قرآن ختم کیا کہ ان کی انگلیوں کے نشانات اس پر نقش ہو گئے۔ گفتگو میں اگر کوئی آیت پڑھنی ہوتی تو فوراً وہ سورہ لا کر سناتے۔ سونے سے پہلے قرآن پڑھنا ان کی عادت تھی، چاہے وہ محاذ پر نہ بھی ہوتے تو ٹارچ کی روشنی میں قرآن پڑھتے۔

دعائے کمیل اور ندبہ انہیں حفظ تھی۔ ایک جمعہ کی صبح جب وہ گشت پر نکلے تو دیکھا کہ شہید گاڑی چلاتے چلاتے دعائے ندبہ حفظ سے پڑھ رہے تھے۔

وہ کمانڈر تھے لیکن کسی نے انہیں کبھی گاڑی کے اگلی سیٹ پر بیٹھے نہیں دیکھا۔ ان کے پاس لکڑی کا ایک ٹکڑا تھا جسے وہ گاڑی کے عقب میں رکھ دیتے۔ جہاں بھی جانا ہوتا، اگر خود ڈرائیور نہ ہوتے تو دوڑ کر اسی لکڑی پر بیٹھ جاتے اور کوئی انہیں آگے آنے کی تاکید نہ کرتا کیونکہ سب جانتے تھے کہ یہ بے فائدہ ہے۔

ایک بار ٹریننگ کورس میں وہ ہماری کمپنی کے سینئر تھے۔ اسی دوران ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا، لیکن وہ صرف ایک دن تدفین کے لیے گئے اور فوراً واپس آ گئے۔ انہوں نے ٹریننگ کے کام میں ذرا خلاء نہ آنے دیا۔

وہ مقامی لوگوں سے اتنی محبت اور خدمت کرتے تھے کہ لوگ ان کے دیوانہ ہو گئے تھے۔ معاشی، روزگار اور دیگر مسائل حل کرتے۔ ایک بار ایک مجاہد کی گاڑی نے ایک بکری کو کچل دیا تو شہید نے خود اس کی قیمت ادا کی اور مالک سے رضاجوئی کی۔ لوگوں کے دلوں میں ان کا اتنا مقام تھا کہ شہادت کے برسوں بعد بھی علاقے کے لوگ کہتے ہیں: "محسن نے ہمارے ساتھ اخوت اور بھائی چارے کے ساتھ برتاؤ کیا۔"

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha