حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرمِ حضرت معصومہؑ میں نمازِ مغرب و عشاء سے قبل خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام محمدرضا نصوری نے شہادتِ امام محمد باقرؑ کی مناسبت سے سورۂ آل عمران کی آیت 200 کی تفسیر بیان کرتے ہوئے منتظرینِ امام زمانؑ کی تین اہم ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ امام محمد باقرؑ نے آیت «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا» کی تفسیر میں فرمایا کہ “اصبروا” سے مراد واجبات کی ادائیگی میں صبر و استقامت ہے۔ انسان کو نماز، روزہ اور دیگر فرائض کو بہترین انداز میں انجام دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “وَصَابِرُوا” کا مطلب دشمنوں کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ دشمن کو پہچانے تاکہ اس کے عقائد دشمن کی سازشوں اور فریب کا شکار نہ ہوں۔
حجۃ الاسلام نصوری نے کہا کہ “وَرَابِطُوا” سے مراد اپنے امامِ زمانہؑ کی حفاظت اور ان سے مضبوط تعلق قائم رکھنا ہے۔ انسان کو ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کے اعمال اسے اپنے امامؑ سے دور نہ کر دیں۔
انہوں نے پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث نقل کرتے ہوئے کہا کہ “جو شخص اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مر جائے، وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔” اس لیے ہر دور میں امام کی معرفت حاصل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
خطیب حرم نے امام جعفر صادقؑ سے منقول روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص چالیس دن تک دعائے عہد پڑھے اور ظہورِ امام زمانؑ سے پہلے دنیا سے چلا جائے، وہ رجعت کرنے والوں میں شمار ہوگا۔
انہوں نے آخر میں امام زین العابدینؑ کا یہ فرمان بھی نقل کیا کہ زمانۂ غیبت میں امامِ زمانؑ کی امامت پر یقین رکھنے والے اور ان کے ظہور کے منتظر افراد اپنے زمانے کے بہترین انسان ہیں۔









آپ کا تبصرہ