حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو میں حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے سیکرٹری آیت اللہ محمد مہدی شب زنده دار نے قم کے عوامی اجتماعات میں شریک ہونے اور شہید آیت اللہ صدوقی(رہ) بلیوارڈ پر لگے عوامی خدماتی موکب کا معائنہ کرنے کے موقع پر تمام ان افراد کا خلوص سے شکریہ ادا کیا جو کسی بھی صورت میں عوام کی خدمت اور دینی و ملی اقدار کے دفاع کے لیے میدان میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا: یہ عوامی خدمات قابل تعریف ہیں اور امید ہے کہ بارگاہِ الٰہی اور امام زمانہ(عج) کے ہاں شرفِ قبولیت پائیں گی۔
حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے سیکرٹری نے عوام کی ملک، نظام اور رہبری (ولایتِ فقیہ) کی حمایت کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس ہمراہی کو خدا کی خاص مہربانی کا سبب قرار دیا اور مزید کہا: مرحوم امام خمینی (رہ) اور شہید امام (رہ) کی یاد اور اس راستے کو جاری رکھنا دشمنوں کے مقابلے میں استقامت کو تقویت دینے کا سبب ہے۔
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن نے آیت « «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ» اے ایمان والو! صبر کرو، (دشمن کے مقابلے میں) ڈٹے رہو، (امام سے) رابطہ رکھو اور خدا کا تقویٰ اختیار کروتاکہ تم کامیاب ہو جاؤ» سے استناد کرتے ہوئے اس آیت کے چار اہم عناصر کی تشریح کی۔
انہوں نے سب سے پہلا عنصر انفرادی صبر (ذاتی بردباری) کو قرار دیا اور کہا: «اصبروا» کا تعلق مشکلات کا سامنا کرتے وقت ذاتی صبر اور استقامت سے ہے - یہ وہ عنصر ہے جو باقی عناصر کی بنیاد تشکیل دیتا ہے۔
آیت اللہ شب زنده دار نے "صابروا" کے دو معانی بیان کیے: ۱۔ ان دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹے رہنا جو اپنے اہداف سے پیچھے نہیں ہٹتے ۲۔ اجتماعی صبر جسے معاشرے کے تمام طبقوں کو مسائل و مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنانا چاہیے۔
انہوں نے روایات کی روشنی میں "رابطوا" کا معنی معصوم امام(ع) سے تعلق قائم کرنا اور اُن سے فریاد و مدد طلب کرنا (استغاثہ) قرار دیا اور کہا: امام زمانہ(عج) سے مدد مانگنا اور اُن کو شفیع بنانا، اس معنوی تعلق کے لازمی تقاضوں میں سے ہے۔









آپ کا تبصرہ