حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انسانی حقوق، آزادی، جمہوریت اور انصاف… یہ وہ خوبصورت نعرے ہیں جنہیں آج مغرب پوری دنیا کے سامنے بڑے فخر سے پیش کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مغرب کی عملی تاریخ بھی انہی نعروں کی ترجمان ہے، یا پھر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے؟
قدیم روم کا مشہور کولوسیئم اس سوال کا ایک خوفناک جواب اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔ دو ہزار سال قبل تعمیر ہونے والا یہ عظیم الشان اسٹیڈیم بظاہر فنِ تعمیر کا شاہکار تھا، مگر اس کے پتھروں میں ہزاروں بے گناہ انسانوں اور لاکھوں جانوروں کا خون جذب ہے۔ یہاں انسانوں کو بھوکے شیروں کے سامنے پھینکا جاتا، غلاموں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا اور تماشائی ان کی موت پر تالیاں بجاتے تھے۔
تاریخی اعداد و شمار کے مطابق اس میدان میں پانچ لاکھ سے زیادہ انسان اور دس لاکھ سے زائد جنگلی جانور صرف تفریح کی خاطر مارے گئے۔ اگر اس دورانیے کا حساب لگایا جائے تو دو صدیوں تک روزانہ کئی انسان اور درجنوں جانور قتل ہوتے رہے۔
یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ذہنیت کی علامت ہے۔ وہ ذہنیت جس میں طاقت، ظلم اور خونریزی کو اپنے مفاد کے لیے جائز سمجھا جاتا ہے۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج بھی دنیا اسی سوچ کا تسلسل دیکھ رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب کولوسیئم کی جگہ جدید جنگی اڈوں نے لے لی ہے، تلواروں کی جگہ میزائل آ گئے ہیں اور رومی تماشائیوں کی جگہ عالمی میڈیا نے لے لی ہے۔
عراق، افغانستان، ویتنام، شام، لیبیا اور غزہ… یہ سب جدید دور کے وہ زخم ہیں جو مغربی طاقتوں کے ہاتھوں انسانیت کے جسم پر لگے۔ لاکھوں انسان مارے گئے، بستیاں تباہ ہوئیں، بچے یتیم ہوئے، لیکن انسانی حقوق کے دعوے داروں کی پیشانی پر شکن تک نہ آئی۔
امریکی دانشور جان مرشائمر کے مطابق امریکہ نے صرف پچاس برسوں میں دنیا بھر میں کروڑوں انسانوں کی جانیں لینے والی جنگوں اور مداخلتوں میں کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق امریکہ نے 1971 سے 2021 تک صرف پچاس برسوں کے دوران دنیا بھر میں ہونے والی جنگوں، فوجی مداخلتوں اور سیاسی تنازعات میں تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ انسانوں کی ہلاکت میں کردار ادا کیا۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ جس ملک نے خود کو انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار بنا رکھا ہے، اسی کی پالیسیاں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے خون سے جڑی ہوئی ہیں۔
اگر اس تعداد کو سالانہ اوسط میں تقسیم کیا جائے تو یہ تعداد 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد انسان سالانہ بنتی ہے، یعنی ہر روز ہزاروں انسان جنگ، بمباری، پابندیوں اور فوجی کارروائیوں کا شکار ہوئے۔
یہ وہ حقیقت ہے جسے مغربی میڈیا اکثر “امن کے قیام” اور “جمہوریت کے دفاع” کے خوبصورت الفاظ میں چھپا دیتا ہے۔
یہ کیسا انسانی حقوق ہے کہ ایک طرف غزہ میں معصوم بچوں کی لاشیں اٹھائی جائیں اور دوسری طرف قاتلوں کو اسلحہ بھی فراہم کیا جائے؟
یہ کیسی آزادی ہے کہ مظلوم کی آواز دبائی جائے اور ظالم کو عالمی تحفظ دیا جائے؟
یہ کیسا انصاف ہے کہ طاقتور ہمیشہ بے گناہ اور کمزور ہمیشہ مجرم قرار پائے؟
مغرب آج دنیا کو تہذیب سکھانے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب روم کے میدانوں میں انسانوں کا خون بہایا جا رہا تھا، اس وقت مشرق میں انسانیت، علم، اخلاق اور حقوق کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں۔
ایران کے بادشاہ کوروش کبیر کے منشورِ حقوقِ انسان کو آج بھی دنیا انسانی حقوق کے اولین تاریخی دستاویزات میں شمار کرتی ہے۔ اسلامی تعلیمات نے بھی انسان کو رنگ، نسل، زبان اور قومیت سے بالاتر ہو کر عزت و حرمت عطا کی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا مغرب کے نعروں سے زیادہ اس کے کردار کو دیکھے۔ انسانی حقوق صرف کانفرنسوں، قراردادوں اور میڈیا مہمات کا نام نہیں بلکہ مظلوم انسان کے آنسو پونچھنے کا نام ہے۔ اگر انسانی حقوق واقعی مقدس ہیں تو پھر ان کا معیار غزہ، یمن اور فلسطین میں بھی وہی ہونا چاہیے جو یورپ اور امریکہ میں ہے۔









آپ کا تبصرہ