حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ائمہ معصومین علیہم السلام نے ہر دور میں تحریف، فساد، ظلم اور طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں جس استقامت اور بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہی اسلامِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحفظ اور حقیقی دینی معارف کی بقا کا سبب بنی۔ ان ہستیوں میں امام حسین علیہ السلام کو بصیرت، حق شناسی اور استقامت کی سب سے روشن علامت قرار دیا جاتا ہے، جنہوں نے باطل کے سامنے ڈٹ کر رہتے ہوئے ہمیشہ کے لئے حق و باطل کے درمیان حد فاصل قائم کر دی۔
اسی مناسبت سے رہبرِ شہید انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای کے چند اہم بیانات پیش کئے جا رہے ہیں، جن میں امام حسین علیہ السلام کی استقامت اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی جدوجہد کو بیان کیا گیا ہے۔
ائمہ اہل بیتؑ کی استقامت؛ اسلامِ حقیقی کے تحفظ کی بنیاد
رہبرِ معظم انقلاب اسلامی فرماتے ہیں کہ اگر ائمہ معصومین علیہم السلام ظلم، تحریف اور فکری انحرافات کے مقابلے میں استقامت نہ دکھاتے تو اصل روح اسلام باقی نہ رہتی۔ آپ کے مطابق:
"ائمہ علیہم السلام کی استقامت ہی وہ سبب بنی جس کی وجہ سے آج انسان اسلامِ حقیقی، قرآن اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔"
آپ نے مزید فرمایا کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے درباری قلمکار اور خطیب اسلام کی حقیقی تعلیمات کو اس طرح بدل دینا چاہتے تھے کہ چند صدیوں بعد یا تو قرآن باقی نہ رہتا یا پھر تحریف شدہ شکل میں موجود ہوتا، لیکن ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی مسلسل جدوجہد نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔
استقامت کا حقیقی مفہوم
رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کے مطابق استقامت کا مطلب صرف ظاہری جنگ اور بہادری نہیں بلکہ حق کے راستے پر بغیر انحراف کے ثابت قدم رہنا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
"استقامت یہ ہے کہ انسان جس سیدھے راستے کو پہچان لے، اس پر ثابت قدم رہے اور اس میں انحراف پیدا نہ ہونے دے۔"
اسی بنیاد پر امام حسین علیہ السلام کو "بصیرت اور استقامت کا مظہر" قرار دیا گیا ہے۔
امام حسینؑ کی استقامت؛ کربلا کا عظیم درس
بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امام حسین علیہ السلام کی عظمت صرف میدانِ جنگ میں شجاعت دکھانے تک محدود نہیں تھی بلکہ اصل استقامت یہ تھی کہ آپؑ جانتے تھے کہ اس راہ میں اہلِ حرم کی اسیری، بچوں کی پیاس اور حضرت علی اصغر علیہ السلام جیسی معصوم ہستی کی شہادت بھی شامل ہوگی، اس کے باوجود آپؑ نے حق کا راستہ نہیں چھوڑا۔
رہبرِ معظم انقلاب اسلامی فرماتے ہیں:
"حسینی استقامت یہ ہے کہ جب انسان اپنے ہدف کی عظمت کو پہچان لے تو پھر تمام مشکلات کے باوجود اس پر ڈٹا رہے۔"
آپ نے کہا کہ کربلا میں اگر کوئی عام انسان ہوتا تو شاید خاندان اور بچوں کی مشکلات دیکھ کر پیچھے ہٹ جاتا، لیکن امام حسین علیہ السلام نے بلند ترین بصیرت اور غیر معمولی قوتِ نفس کا مظاہرہ کیا۔
حق کے لئے ہر باطل قوت کے سامنے قیام
رہبرِ شہید انقلاب اسلامی نے فرمایا:
"امام حسین علیہ السلام کے قیام کی روح یہ تھی کہ حق کی بات اور حق کے راستے کو نافذ کیا جائے اور اس راستے میں تمام باطل طاقتوں کے مقابلے میں استقامت دکھائی جائے۔"
اسی وجہ سے واقعۂ عاشورا صرف ایک تاریخی حادثہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسانوں کے لئے ظلم کے خلاف قیام، حق پر ثابت قدمی اور دینی بصیرت کا ابدی پیغام ہے۔
استقامت؛ کامیابی کا راز
بیانات کے اختتام میں استقامت کو کامیابی کا بنیادی راز قرار دیا گیا۔ رہبرِ معظم انقلاب اسلامی نے کہا:
"انسان دنیاوی یا اخروی جو بھی مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ استقامت، پائیداری اور مسلسل جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں۔"
انہوں نے امام سجاد علیہ السلام کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر قومیں راہِ حق پر ثابت قدم رہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات کو دور کر دیتا ہے اور انہیں عزت و کامیابی عطا فرماتا ہے۔
واقعۂ کربلا اور امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی آج بھی امت مسلمہ کے لئے یہ پیغام رکھتی ہے کہ بصیرت، اتحاد، صبر اور استقامت ہی وہ طاقت ہے جو ہر دور کی ظالم قوتوں کو شکست دے سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ