ہفتہ 13 جون 2026 - 17:20
لکھنؤ میں خطیبِ اکبر مولانا مرزا محمد اطہر اور خطیب العرفان مولانا مرزا محمد اشفاق کی برسی، علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت

حوزہ/ لکھنؤ کے تاریخی سعیدالملت ہال، شیعہ کالج بجاجہ میں برصغیر کے نامور خطباء، خطیبِ اکبر مرحوم مولانا مرزا محمد اطہر اور خطیب العرفان مرحوم مولانا مرزا محمد اشفاق کی برسی کے موقع پر مجلسِ عزا و تعزیتی تقریب منعقد ہوئی، جس میں علماء، خطباء، شعراء، ذاکرین، واعظین، ماتمی انجمنوں کے عہدیداران اور بڑی تعداد میں مؤمنین نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ کے تاریخی سعیدالملت ہال، شیعہ کالج بجاجہ میں برصغیر کے نامور خطباء، خطیبِ اکبر مرحوم مولانا مرزا محمد اطہر اور خطیب العرفان مرحوم مولانا مرزا محمد اشفاق کی برسی کے موقع پر مجلسِ عزا و تعزیتی تقریب منعقد ہوئی، جس میں علماء، خطباء، شعراء، ذاکرین، واعظین، ماتمی انجمنوں کے عہدیداران اور بڑی تعداد میں مؤمنین نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید قمر حسنین، نمائندۂ ایران کلچر ہاؤس نئی دہلی، نے مرحومین کی علمی، تبلیغی اور دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں علماء نے اپنی زندگی منبرِ اہلِ بیت علیہم السلام کی خدمت، دینی شعور کی بیداری اور محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

مقررین نے کہا کہ مولانا مرزا محمد اطہر اپنی مدلل خطابت، تاریخی بصیرت اور مؤثر اندازِ بیان کے باعث برصغیر میں منفرد مقام رکھتے تھے، جبکہ مولانا مرزا محمد اشفاق نے اپنی علمی گہرائی، اخلاقی شخصیت اور دلنشین خطابت کے ذریعے عزاداری اور دینی تبلیغ کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

شرکائے مجلس نے اس بات پر زور دیا کہ مرحومین کی علمی اور فکری میراث آج بھی ان کے شاگردوں، خطابات اور تربیتی خدمات کے ذریعے معاشرے میں زندہ ہے۔ انہوں نے نئی نسل کو ایسی علمی و دینی شخصیات کی زندگی اور خدمات سے روشناس کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اس موقع پر دونوں مرحوم علماء کی یاد میں شائع کیے گئے خصوصی کیلنڈر کی رونمائی بھی کی گئی، جسے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید قمر حسنین نے انجام دیا۔

تقریب کے اختتام پر آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے سربراہ مولانا مرزا یعسوب عباس نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی شرکت کو مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب کا ذریعہ قرار دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha