جمعرات 18 جون 2026 - 14:00
شہدائے کربلا کی وفاداری تاریخِ انسانیت کا عظیم ترین معجزہ ہے: حجت الاسلام انصاریان

حوزہ / ایران کے معروف عالم دین حجت الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے کہا ہے کہ کربلا کے 72 شہداء ایمان، اخلاق اور عمل کے اعلیٰ ترین مراتب کے حامل تھے۔ انہوں نے میدانِ عاشورا میں بندگیِ الٰہی کی ایسی بے مثال تصویر پیش کی کہ وہ تاریخِ انسانیت کے عظیم ترین عجائبات میں شمار ہونے لگے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے تہران میں حسینیہ ہمدانی‌ها میں ماہِ محرم کی پہلی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے سورۂ کہف میں اصحابِ کہف کے واقعے کا حوالہ دیا اور کہا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: «أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْکَهْفِ وَالرَّقِیمِ کَانُوا مِنْ آیَاتِنَا عَجَبًا»، یعنی کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ اصحابِ کہف ہماری عجیب نشانیوں میں سے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ کوئی غیر معمولی امر نہیں کہ چند افراد کو تین سو سال سے زائد عرصے تک غار میں سلا کر دوبارہ بیدار کر دے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں بے شمار حیرت انگیز نشانیاں موجود ہیں، لیکن کربلا کے 72 شہداء ان عظیم ترین عجائبات میں سے ہیں جن کی حقیقت اور عظمت کو انسانی عقل پوری طرح درک نہیں کر سکتی۔

حجت الاسلام انصاریان نے سید مرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمنوں نے شہدائے کربلا کے اجساد کو تپتی ہوئی زمین پر چھوڑ دیا اور ان کے اہلِ بیت کو تدفین کی اجازت تک نہ دی، لیکن ان پاک ارواح کو بارگاہِ الٰہی میں ایسا مقام عطا ہوا کہ خود پروردگارِ عالم نے ان کی میزبانی کا شرف اپنے ذمہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ دشمن یہ سمجھ رہے تھے کہ شہداء کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے اور انہیں صحرا میں چھوڑ کر ان کا نام و نشان مٹا دیں گے، لیکن یہی مظالم ان کی ابدی عزت اور سربلندی کا سبب بن گئے اور دنیا و آخرت کے ابواب خیر ان پر کھول دیے گئے۔

استادِ حوزه علمیہ نے کہا کہ آج بھی شہدائے کربلا کی حقیقی عظمت پوری طرح آشکار نہیں ہوئی۔ انسانی عقل ان کے مقام و مرتبہ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کر سکتی اور قیامت تک بھی ان کی حقیقت مکمل طور پر منکشف نہیں ہوگی۔

انہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ کامل ترین ایمان، بہترین اخلاق اور اعلیٰ ترین اعمال کے حامل تھے۔ ان کا ایمان خدا، قیامت اور اپنے امام پر اس درجہ مستحکم تھا کہ انہوں نے کبھی بھی ظاہری حالات کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

حجت الاسلام انصاریان نے کہا کہ مدینہ، مکہ، بصرہ اور کوفہ سے امام حسین علیہ السلام کے قافلے میں شامل ہونے والے جانثاروں نے آخری لمحے تک یہ سوال نہیں کیا کہ صرف 72 افراد کس طرح تیس ہزار کے لشکر کا مقابلہ کریں گے۔ ان کی نگاہ صرف خدا، قیامت اور امامِ وقت کی رضا پر مرکوز تھی، اسی لیے وہ آخر دم تک ثابت قدم رہے۔

انہوں نے آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کا نظریہ نقل کرتے ہوئے کہا کہ واقعۂ عاشورا کو صرف معمول کی عقلی اور مادی پیمائشوں سے نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ یہ عشقِ الٰہی اور اطاعتِ امام کی ایسی داستان ہے جو عام حساب کتاب سے بالاتر ہے۔

حجت الاسلام انصاریان نے سورۂ انفال کی ابتدائی آیات کی روشنی میں مومنِ حقیقی کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآن فرماتا ہے: «إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ»، یعنی سچے مومن وہ ہیں جن کے دل اللہ کے ذکر سے لرز اٹھتے ہیں۔ ان کے مطابق مومن کی تین باطنی صفات یہ ہیں کہ اس کا دل خدا کے ذکر سے خاشع ہو، آیاتِ الٰہی سن کر اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور وہ صرف اللہ پر توکل کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرآن مومن کی دو عملی صفات بھی بیان کرتا ہے: «یُقِیمُونَ الصَّلَاةَ» یعنی نماز کو اس کے ظاہری و باطنی آداب کے ساتھ قائم کرنا، اور «وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ یُنْفِقُونَ» یعنی خدا کی عطا کردہ نعمتوں کو اس کی راہ میں خرچ کرنا۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کے اصحاب انہی قرآنی صفات کا کامل نمونہ تھے۔ انہوں نے عاشورا کے دن اپنے ایمان، اخلاق، ایثار اور وفاداری کے ذریعے بندگیِ خدا کا ایسا عظیم مظاہرہ کیا جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہے گا، اور اسی بنا پر شہدائے کربلا تاریخ کے عظیم ترین عجائبات میں شمار ہوتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha