پیر 22 جون 2026 - 16:49
زمانہ غیبت میں عبادت، دورِ ظہور سے بھی زیادہ فضیلت رکھتی ہے، علامہ میرباقری

حوزہ/ حرمِ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے خطیب حجۃ الاسلام و المسلمین سید محمد مہدی میرباقری نے کہا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی روایات کے مطابق زمانہ غیبت میں ایمان، عبادت اور امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولایت پر ثابت قدم رہنا دورِ ظہور کی عبادت سے بھی زیادہ فضیلت رکھتا ہے، کیونکہ اس زمانے میں مؤمنین کو تقیہ، غربتِ دین اور مختلف آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرمِ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے خطیب حجۃ الاسلام و المسلمین سید محمد مہدی میرباقری نے کہا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی روایات کے مطابق زمانہ غیبت میں ایمان، عبادت اور امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولایت پر ثابت قدم رہنا دورِ ظہور کی عبادت سے بھی زیادہ فضیلت رکھتا ہے، کیونکہ اس زمانے میں مؤمنین کو تقیہ، غربتِ دین اور مختلف آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے۔

محرم الحرام کی چھٹی شب حرمِ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سورۂ حدید کی آخری آیات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم منصوبۂ ہدایت اور فتح سے پہلے اور بعد کے ادوار کا ذکر کرنے کے بعد حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سمیت انبیائے الٰہی کی رسالت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل عطا کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں رأفت و رحمت پیدا فرمائی۔ یہی باہمی محبت اور الفت وہ نعمت ہے جس کا ذکر سورۂ انفال میں بھی آیا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ زمین کی تمام دولت بھی خرچ کر دیتے تو مؤمنوں کے دلوں میں ایسی محبت پیدا نہیں کر سکتے تھے، لیکن اللہ نے یہ کام انجام دیا۔ یہ روحانی رشتہ مادی وسائل سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کا مظہر ہے۔

حجۃ الاسلام میرباقری نے رہبانیت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض مسیحیوں نے دشمنوں کے دباؤ کے باعث گوشہ نشینی اختیار کی، تاہم امتِ مسلمہ کی رہبانیت ہجرت، جہاد، نماز اور روزہ ہے۔ یہی اعمال ایسے پروں کی مانند ہیں جو امت کو دورِ غیبت میں محفوظ رکھتے اور ظہورِ امامِ عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف تک پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ ان مؤمنین کو جو دورِ غیبت میں تقویٰ، ایمان اور استقامت کے ساتھ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں، اپنی رحمت کا دوہرا حصہ عطا فرماتا ہے اور انہیں ایسا نور عطا کرتا ہے جس کی روشنی میں وہ راستہ طے کرتے ہیں۔ روایات میں اس نور کی تفسیر امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے کی گئی ہے۔

انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دورِ غیبت میں عبادت اور امامِ حق کی نصرت پر ثابت قدمی دورِ ظہور کی عبادت سے زیادہ اجر و فضیلت رکھتی ہے، کیونکہ اس زمانے میں مشکلات اور تقیہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے مؤمنین کو دوہرا اجر ملتا ہے؛ ایک جہاد کا اور دوسرا صبر و استقامت کا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha