پیر 22 جون 2026 - 19:28
چھٹی محرم: جموں و کشمیر بھر میں جلوس ہائے عزا، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

حوزہ/ جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان کے اہتمام سے چھٹی محرم الحرام کے موقع پر وادی کے مختلف علاقوں میں جلوس ہائے عزا اور علمِ شریف کے جلوس عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے گئے، جن میں دسیوں ہزار عزاداروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے واقعۂ کربلا کے پیغام، حضرت امام حسینؑ کی جدوجہد اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے عاشورا کو حق، عدل اور انسانیت کی سربلندی کا لازوال درس قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے چھٹی محرم کو بھی وادی بھر میں جلوس ہاے عزا کا سلسلہ جاری رہا جن میں دسیوں ہزار عزا داروں نے شرکت کی جن مقامات پر تنظیم کے مشتہر شدہ پروگرام کے تحت علم شریف کے جلوس برآمد کئے گئے ان میں جلوس علم شریف از زوری گنڈ بڈگام ، سونہ پاہ بیروہ، ڈرہ بل بمنہ ،کانی کچی میر بحری سرینگر،مغل محلہ سرینگر ،جڈی بل سرینگر ،چنگہ محلہ شالیمار،جے کے پی سی سی گلشن باغ ،گگلو محلہ ذال پورہ سوناواری ،بڈی محلہ اندکھلوسوناواری ،ملہ پورہ نوگام ،علم شریف کا سب سے بڑا جلوس زوری گنڈ بڈگام سے برآمد ہو کر مرکزی امام باڑہ بڈگام میں اختتام پزیر ہوا۔

جلوس عزا میں شامل عزا داروں سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی نے معرکہ کربلا کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی آغا مجتبیٰ نے شہداے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قیام حسینی ؑ کے اغراض و مقاصد اور ناگزیریت کی تشریح کی انہوں نے کہا کہ صدیاں گزرنے کے باوجود معرکہ کربلا کی سرتازگی اور اہمیت و افادیت قائم و دائم ہے۔

آغا مجتبیٰ نے کہا کہ پیغام عاشورا کسی خاص مذہب یا مسلک کے لئے مخصوص نہیں بلکہ یہ ایک آفاقی پیغام ہے جس میں آج بھی وہی قوت اور کشش باقی ہے انہوں نے کہا کہ کربلا حق و انسانیت کی سربلندی اور ظلم و باطل کی سر نگونی کی عملی درس گاہ ہے اور شہداے کربلا سے عقیدت و محبت کا اولین تقاضا یہ ہے کہ ہم ہر حال میں حدود شریعت کا خیال رکھیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha