ہفتہ 11 جولائی 2026 - 10:25
قرآن اور قیامِ امام حسینؑ اصلاحِ امت، عدالتِ اجتماعی اور اقامتِ دین کا قرآنی مطالعہ

حوزہ/اسلامی معاشرے میں جب دینی اقدار کمزور ہوئیں اور یزید کی حکومت کے دور میں ظلم، بدعت اور انحراف نے شدت اختیار کی، تو امام حسین علیہ السلام نے امت کی اصلاح، سنتِ نبویؐ کے احیاء اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی کے لیے قیام فرمایا۔ آپؑ کا یہ اعلان کہ "میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے نکلا ہوں" درحقیقت قرآن کے بنیادی پیغام کی عملی ترجمانی ہے۔

تحریر: مولانا سید منظور عالم جعفری سرسوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

تمہید

قرآن کریم انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کا آخری کتاب اور مکمل دستورِ حیات ہے، جس کا بنیادی مقصد عدل، ہدایت، انسانی کرامت اور صالح معاشرے کا قیام ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیثِ ثقلین کے ذریعے امت کو قرآن اور اہل بیتؑ سے تمسک کی تلقین فرمائی، کیونکہ اہل بیتؑ قرآن کی حقیقی تفسیر اور اس کے عملی نمونہ ہیں۔

اسلامی معاشرے میں جب دینی اقدار کمزور ہوئیں اور یزید کی حکومت کے دور میں ظلم، بدعت اور انحراف نے شدت اختیار کی، تو امام حسین علیہ السلام نے امت کی اصلاح، سنتِ نبویؐ کے احیاء اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی کے لیے قیام فرمایا۔ آپؑ کا یہ اعلان کہ "میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے نکلا ہوں" درحقیقت قرآن کے بنیادی پیغام کی عملی ترجمانی ہے۔

واقعۂ کربلا اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ عدل، حق، آزادی اور استقامت کے قیام کا عملی دستور ہے۔ اسی لیے قیامِ امام حسینؑ کو قرآن کریم کی عملی تفسیر قرار دیا جاتا ہے۔ اس مقالے میں قرآنی آیات، تفاسیر اور اہل بیتؑ کے ارشادات کی روشنی میں یہ واضح کیا جائے گا کہ تحریکِ حسینی قرآن کے ابدی پیغامِ اصلاح، عدالت اور اقامتِ دین کی زندہ تجسیم ہے۔

۱۔ اصلاحِ امت؛ قیامِ حسینی کا بنیادی مقصد : اصلاح قرآن کریم کے بنیادی موضوعات میں سے ایک ہے۔ قرآن میں انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا خلاصہ یہی بیان کیا گیا ہے کہ وہ انسان اور معاشرے کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوئے۔

ارشادِ خداوندی ہے:﴿إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ﴾"میں اپنی استطاعت کے مطابق صرف اصلاح چاہتا ہوں، اور میری توفیق صرف اللہ کی طرف سے ہے۔"

حضرت شعیب علیہ السلام کا یہ اعلان تمام اصلاحی تحریکوں کے لیے ایک دائمی اصول ہے۔ اصلاح کا مقصد معاشرے میں عدل، ایمان، اخلاق اور حق کا قیام ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے بھی اپنے وصیت نامہ میں فرمایا: "میں نہ سرکشی کے لیے نکلا ہوں، نہ تکبر کے لیے، نہ فساد برپا کرنے کے لیے، بلکہ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں اور اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے والد علی بن ابی طالب علیہ السلام کی سیرت پر چلنا چاہتا ہوں۔"

یہ جملہ دراصل سورۂ ہود کی مذکورہ آیت کی عملی تفسیر ہے۔ امام حسینؑ نے اصلاح کا آغاز اپنے نفس یا خاندان سے نہیں بلکہ پورے اسلامی معاشرے سے کیا، کیونکہ یزیدی حکومت نے دین کے بنیادی اصولوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

علامہ طباطبائی اصلاح کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قرآن کی نظر میں اصلاح صرف نصیحت یا وعظ کا نام نہیں، بلکہ باطل نظام کو تبدیل کرکے حق پر مبنی نظام قائم کرنا بھی اصلاح کا حصہ ہے۔ اسی لیے امام حسینؑ کی اصلاحی تحریک ایک انقلابی تحریک تھی، محض اخلاقی موعظہ نہیں۔

۲۔ عدالت کا قیام؛ قیامِ عاشورا کا بنیادی ہدف : قرآن کریم نے عدل کو اسلامی حکومت اور انسانی معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾"ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا، ان پر کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف قائم کریں۔"

اس آیت میں بعثتِ انبیاء کا مقصد "لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ" بیان کیا گیا ہے، یعنی انسانی معاشرے میں عدل کا قیام۔ یزید کا دور اس مقصد کی نفی تھا۔ حکومت عدل کی بجائے ظلم، بیت المال کی بجائے شخصی مفادات، اور شریعت کی بجائے خواہشاتِ نفس کے تابع ہو چکی تھی۔ ایسے حالات میں امام حسین علیہ السلام کا قیام دراصل عدلِ قرآنی کی بحالی کی کوشش تھا۔ شھید رہبر معظم انقلاب سید علی خامنہ ای ؒ فرماتے ہیں:"عدل ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھتا ہے۔"

امام حسین علیہ السلام اسی عدلِ علوی کے وارث تھے۔ آپؑ نے یزید کے ظلم کے مقابلے میں خاموشی اختیار نہیں کی، کیونکہ خاموشی ظلم کی تائید شمار ہوتی۔

۳۔ آزادی اور کرامتِ انسانی: قرآن انسان کو اللہ کے سوا ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرتا ہے۔ اسلام کا تصورِ آزادی خواہشاتِ نفس، ظلم، استبداد اور غیر اللہ کی بندگی سے نجات کا نام ہے۔ارشادِ خداوندی ہے: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾ "ہم نے بنی آدم کو عزت و کرامت عطا کی ہے۔"

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسانی عزت خدا کی عطا کردہ نعمت ہے، جسے کوئی ظالم حکمران سلب نہیں کر سکتا۔

امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے دن فرمایا: »أَلَا وَإِنَّ الدَّعِيَّ ابْنَ الدَّعِيِّ قَدْ رَكَزَ بَيْنَ اثْنَتَيْنِ، بَيْنَ السِّلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَهَيْهَاتَ مِنَّا الذِّلَّةُ« "آگاہ رہو! اس ناپاک شخص نے ہمیں دو راستوں کے درمیان کھڑا کیا ہے؛ تلوار یا ذلت۔ اور ذلت ہم سے بہت دور ہے۔"

یہ اعلان قرآن کے تصورِ کرامت کی بلند ترین عملی تعبیر ہے۔ اسلام انسان کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے، خواہ اس کے لیے جان کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

۴۔ جہاد فی سبیل اللہ اور ظلم کے خلاف مزاحمت: قرآن کریم میں جہاد کا مقصد زمین پر فساد پھیلانا نہیں بلکہ ظلم کو ختم کرنا، مظلوموں کی مدد کرنا اور حق کا دفاع کرنا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ﴾ "تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جنگ نہیں کرتے؟"

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا مقصد مظلوموں کی آزادی اور ظلم کا خاتمہ ہے۔

امام حسین علیہ السلام کا جہاد بھی دفاعی اور اصلاحی تھا، نہ کہ اقتدار کے حصول کے لیے۔ آپؑ نے ابتدا سے آخر تک جنگ سے گریز کیا، متعدد مرتبہ نصیحت کی، خطوط لکھے، حجت تمام کی اور آخری لمحے تک دشمن کو توبہ کی دعوت دی۔ جب تمام راستے بند ہو گئے تو حق کے دفاع میں قربانی دی۔

علامہ شہید مطہری لکھتے ہیں:

"امام حسینؑ نے جنگ شروع نہیں کی، بلکہ ظلم کے سامنے سر نہ جھکا کر اسلام کے دفاع کی نئی تاریخ رقم کی۔"

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہادِ حسینی قرآن کے دفاعی اور اخلاقی تصورِ جہاد کا کامل نمونہ ہے۔

۵۔ اقامتِ دین؛ قیامِ حسینی کا حقیقی مقصد: امام حسین علیہ السلام کا مقصد صرف ایک فاسق حکمران کو ہٹانا نہیں تھا، بلکہ دینِ اسلام کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ زندہ کرنا تھا۔ قرآن کریم فرماتا ہے: ﴿شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا... أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ﴾"اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی وصیت نوح سے کی تھی... دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔" اسی طرح ارشاد ہوتا ہے: ﴿الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ "یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔"

یہ آیت اسلامی حکومت کے مقاصد بیان کرتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی پوری تحریک انہی اصولوں کی حفاظت کے لیے تھی۔ آپؑ نے فرمایا:

"کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں کیا جا رہا اور باطل سے نہیں روکا جا رہا؟ ایسی حالت میں مؤمن کو چاہیے کہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرے۔"

یہ ارشاد واضح کرتا ہے کہ جب دین کی بنیادیں متزلزل ہو جائیں تو خاموش رہنا ایمان کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

خلاصہ

اسلامی تاریخ میں واقعۂ کربلا قرآن کریم کی تعلیمات کی عملی تفسیر اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کا ابدی معیار ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا قیام اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ دین کے احیاء، امت کی اصلاح، سنتِ نبویؐ کے تحفظ اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے لیے تھا۔ اس مقالے میں قرآن، احادیثِ اہل بیتؑ اور تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ قیامِ عاشورا عدل، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، صبر، استقامت، آزادی اور اقامتِ دین جیسے قرآنی اصولوں کا عملی مظہر ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن اور تحریکِ حسینی لازم و ملزوم ہیں، اور واقعۂ کربلا ہر دور کے لیے دینی بیداری، اجتماعی اصلاح اور قرآنی اقدار کے احیاء کا دائمی سرچشمہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha