حوزہ نیوز ایجنسی کی تجزیاتی رپورٹ میں رہبر معظم انقلاب کے حالیہ پیغام کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ رہبر شہید اور دو حالیہ مسلط کردہ جنگوں کے شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کو عوامی مطالبہ اور ایک یقینی حقیقت قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پیغام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ظلم کے خلاف مزاحمت اور استقامت کا راستہ کسی ایک فرد کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک مسلسل قومی اور انقلابی پالیسی ہے۔
رپورٹ میں صحافی اور میڈیا تجزیہ کار سید عبداللہ متولیان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ شہداء کے خون کا مطالبۂ انصاف قومی اتحاد کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ ایام میں عوام کی بڑی تعداد میں تشییع اور تعزیتی تقریبات میں شرکت نے ثابت کیا کہ ایرانی قوم اپنے انقلابی اور دینی اصولوں پر متحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عوامی اتحاد دشمنوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ اپنے جرائم کے نتائج سے نہیں بچ سکیں گے۔ ان کے بقول، عاشورا سے لے کر آج تک شہداء کا خون ہمیشہ امت کی بیداری اور مزاحمت کا سبب بنتا رہا ہے، اور یہی راستہ نئی نسل کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ شہداء کے خون کا بدلہ صرف عسکری کارروائی تک محدود نہیں بلکہ قانونی میدان میں بھی بھرپور کوشش ضروری ہے۔ اس سلسلے میں اسٹریٹجک اسٹڈیز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے رکن محمد میثم نداف پور نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو بین الاقوامی اور ملکی قانونی ذرائع سے مجرموں کے خلاف کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات، شواہد جمع کرنا، عالمی رائے عامہ ہموار کرنا اور مجرموں پر سیاسی و قانونی دباؤ بڑھانا بھی انصاف کے حصول کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسے جرائم پر خاموشی اختیار کی جائے تو اس سے عالمی سطح پر بے سزا رہنے کا رجحان مضبوط ہوگا اور مستقبل میں ایسے جرائم کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے قانونی اداروں، سفارتی محکموں، ذرائع ابلاغ اور ثقافتی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ضروری ہے تاکہ شہداء کے خون کے مطالبۂ انصاف کو مؤثر انداز میں عالمی سطح پر آگے بڑھایا جا سکے۔









آپ کا تبصرہ