حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے معروف عالم دین اور استادِ حوزہ و یونیورسٹی حجۃ الاسلام والمسلمین علیرضا پناہیان نے کہا ہے کہ اربعین پیدل مارچ محض ایک مذہبی سفر یا سوگ کی تقریب نہیں، بلکہ یہ حسینی طرزِ زندگی کا عملی مظہر، اسلامی تہذیب کی بنیاد اور مہدوی معاشرے کی آمادگی کا بہترین نمونہ ہے۔
انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر زیارتِ اربعین بارگاہِ الٰہی میں قبول ہو جائے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ ان کے بقول رہبرِ شہید نے اربعین کو نئی عالمی اسلامی تہذیب کے آغاز کی علامت قرار دیا تھا، کیونکہ یہ عظیم اجتماع امت کی اجتماعی قوت کو نمایاں کرتا ہے۔
حجۃ الاسلام پناہیان نے کہا کہ جس عبادت کے لیے اتنا عظیم اجر بیان کیا گیا ہو، اس کے سماجی اثرات بھی غیر معمولی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روایات میں زائرِ اربعین کے ہر قدم کے لیے ایسے عظیم ثواب کا ذکر ملتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عمل صرف انفرادی عبادت نہیں بلکہ ایک بڑی سماجی اور تمدنی تحریک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اربعین دراصل مہدوی معاشرے کی عملی مشق ہے۔ اگرچہ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، لیکن اس مقصد کے لیے عوام کی ذمہ داری، شعور اور فعال شرکت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اربعین اسی اجتماعی ذمہ داری کا عملی نمونہ پیش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اربعین کے دوران لاکھوں افراد کسی سرکاری حکم یا مالی مفاد کے بغیر اپنی مرضی سے زائرین کی خدمت کرتے ہیں۔ مواکب عوام کے اخلاص، محبت، ایثار اور رضاکارانہ جذبے سے قائم ہوتے ہیں، جہاں لوگ اپنے وسائل دوسروں پر خرچ کرتے اور اجنبی افراد کی خدمت کو سعادت سمجھتے ہیں۔
حجۃ الاسلام پناہیان نے کہا کہ مغربی تہذیب انصاف کے قیام کے لیے قوانین اور انفرادی حقوق پر انحصار کرتی ہے، جبکہ اسلامی معاشرہ ایثار، محبت اور قربانی کی بنیاد پر حقیقی عدل قائم کرتا ہے۔ ان کے مطابق انصاف اسی وقت ممکن ہے جب افراد ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر دوسروں کی خدمت کو ترجیح دیں۔
انہوں نے کہا کہ مہدوی حکومت کے ذمہ داران بھی اقتدار کو خدمت کا ذریعہ سمجھیں گے، نہ کہ ذاتی مفادات کا۔ اسی لیے معاشرے کے منتظمین کو اربعین کے خدام کی طرح اخلاص، عاجزی اور خدمت کے جذبے کو اپنانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مساجد بھی مواکبِ اربعین کی طرح عوامی خدمت، سماجی تعاون اور مسائل کے حل کے مراکز بن جائیں تو معاشرے کے بہت سے مسائل عوام کی باہمی مشارکت سے حل ہو سکتے ہیں۔
آخر میں حجۃ الاسلام پناہیان نے قرآن کریم کی آیت «لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کا مقصد ایسا معاشرہ تشکیل دینا تھا جہاں لوگ خود عدل و انصاف کے قیام کے لیے میدان میں آئیں، اور اربعین اسی اجتماعی، تمدنی اور مہدوی شعور کی روشن ترین مثال ہے۔









آپ کا تبصرہ