اتوار 2 اگست 2026 - 13:43
رہبرِ شہید کی نگاہ سے امام حسینؑ کی کربلا میں اہلِ خانہ کے ہمراہ آمد کی حکمت و فلسفہ!

حوزہ/امام حسینؑ کے قافلے کے ساتھ اہلِ خانہ کی ہمراہی اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ واقعۂ عاشوراء کسی ایک جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ تاریخ میں ایک ابدی پیغام کو زندہ و جاوید رکھنے کے لیے تھا۔

حوزہ نیوز ایجنسی: رہبرِ شہید حضرت آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای رحمۃ الله علیہ کے اربعینِ حسینی سے متعلق بیانات کے سلسلے میں، اربعین کی عظمت اور اس کے پیغامات پر مشتمل آپ کے ارشادات کا ایک حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

امام حُسین علیہ السّلام کربلا صرف جنگی ساز و سامان کے ساتھ نہیں آئے تھے۔

جو شخص میدانِ جنگ میں جاتا ہے، اسے سپاہیوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن امام حُسین علیہ السّلام اپنے ساتھ اپنی خواتین اور اپنے بچوں کو بھی لائے تھے۔

یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہاں ایسا عظیم واقعہ رونما ہونا تھا جو پوری تاریخ میں ہمیشہ انسانوں کے جذبات و احساسات کو اپنی طرف متوجہ رکھے، تاکہ امام حُسین علیہ السّلام کے قیام کی عظمت اور اس کے حقیقی مقصد کو دنیا پر آشکار کیا جا سکے۔

امام حُسین علیہ السّلام جانتے تھے کہ دشمن نہایت پست اور ذلیل ہے۔ آپ بخوبی دیکھ رہے تھے کہ جو لوگ آپ کے خلاف جنگ کے لیے آئے ہیں، ان میں سے بہت سے کوفہ کے اوباش اور بدکردار افراد ہیں، جو ایک معمولی اور حقیر دُنیاوی لالچ کے بدلے ایسا ہولناک جرم کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

امام حُسین علیہ السّلام اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ یہ لوگ آپ کے اہلِ بیت، خواتین اور بچوں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ آپ ان تمام حقائق سے غافل نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود نہ آپ نے سرِ تسلیم خم کیا، نہ اپنے راستے سے واپس لوٹے، بلکہ اسی راہ پر ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ یہی بات اس راستے کی غیر معمولی اہمیت اور اس عظیم مقصد کی عظمت کو آشکار کرتی ہے۔

ماخذ: امامِ شہید حضرت آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای کے خطباتِ نمازِ جمعہ، تہران، 15 اپریل 2000ء

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha