منگل 18 اگست 2026 - 03:08
مجالسِ خمسہ بعنوان ’’قرآن و امام حسینؑ‘‘؛ عزاداری کے آخری ایام میں روحانی و فکری اجتماع

حوزہ/ ایامِ عزا کے آخری ایام میں ہر سال کی طرح امسال بھی ’’قرآن و امام حسینؑ‘‘ کے عنوان سے مجالسِ خمسہ کا انعقاد پُرجوش انداز میں کیا گیا۔ تقریباً دو دہائیوں سے جاری اس سالانہ پروگرام میں چاند رات سے 4 ربیع الاول تک تلاوتِ قرآن، خطابت، مقالہ خوانی، نوحہ خوانی اور ماتم سمیت مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ امسال خطابات کا مرکزی موضوع قرآن کریم اور قیامِ امام حسینؑ کے باہمی ربط پر مشتمل رہا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہر سال کی طرح امسال بھی ایامِ عزا کے آخری ایام میں مجالسِ خمسہ بعنوان ’’قرآن و امام حسینؑ‘‘ کا انعقاد جوش و عقیدت کے ساتھ عمل میں آیا۔ یہ منفرد پروگرام گزشتہ تقریباً 20 برس سے چاند رات سے 4 ربیع الاول تک مسلسل منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں قرآن فہمی، سیرتِ امام حسینؑ اور معارفِ اہل بیتؑ کو مختلف ادبی و مذہبی اصناف کے ذریعے اجاگر کیا جاتا ہے۔

پروگرام کے دوران تلاوتِ قرآن، مقالہ خوانی، تقاریر، نظامت، خطابت، نوحہ خوانی اور ماتم سمیت مختلف پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔ اس موقع پر ہر سال ایک مصرعِ طرح بھی دیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر شعرائے کرام اسی قافیہ و ردیف کی پابندی کرتے ہوئے اپنا کلام پیش کرتے ہیں۔

امسال مصرعِ طرح:

’’سناں کی ہوگی تلاوت، حسین سے منسوب‘‘

مجالسِ خمسہ بعنوان ’’قرآن و امام حسینؑ‘‘؛ عزاداری کے آخری ایام میں روحانی و فکری اجتماع

امسال مجالسِ خمسہ کے خطابات کا مرکزی موضوع ’’قرآن اور امام حسینؑ کا باہمی تعلق‘‘ رہا، جس میں خطباء نے قرآن کریم اور قیامِ امام حسینؑ کے درمیان گہرے ربط، پیغامِ کربلا اور قرآنی تعلیمات کی روشنی میں شہادتِ سیدالشہداءؑ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

رپورٹ کے مطابق، امسال بھی یہ پروگرام انتہائی پُرجوش اور روحانی ماحول میں اپنے عظیم مرحلے کی جانب گامزن ہے۔ اس موقع پر شعرائے کرام نے نہایت نادر اور مؤثر اشعار پیش کیے۔ بعض اشعار میں حماسہ، بیداری اور اصلاحِ معاشرہ کا ایسا رنگ نمایاں تھا کہ اگر اس پیغام کو وسیع پیمانے پر معاشرے تک پہنچایا جائے تو یہ فلاح و بہبود اور اجتماعی اصلاح کی سمت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

مجالسِ خمسہ بعنوان ’’قرآن و امام حسینؑ‘‘؛ عزاداری کے آخری ایام میں روحانی و فکری اجتماع

مجالس کے دوران سورۂ بقرہ کی آیت ’’وَإِذَا لَقُوا الَّذِینَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَیَاطِینِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَکُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ‘‘ کی تلاوت اور تشریح بھی کی گئی۔ خطباء نے بالخصوص لفظ ’’لَقُوا‘‘ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے منافقت کے خطرناک رویے کی وضاحت کی۔

خطبا نے کہا کہ منافق بظاہر انسان کو اپنا ساتھی اور خیرخواہ دکھائی دیتا ہے، لیکن باطن میں معاشرے اور افراد کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اس لیے معاشرے میں ایسے رویوں کو پہچاننا اور لوگوں کو منافقت اور فریب سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری زندگی ایمانی، سلمانی، علوی، عرفانی، محمدی، حسنی اور حسینی ہونی چاہیے اور ہمیں قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ مذکورہ آیت اس حقیقت کی جانب متوجہ کرتی ہے کہ بعض افراد کا ظاہری قول اہل ایمان جیسا ہوسکتا ہے، لیکن ان کے باطن اور حقیقی ارادوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے؛ اس لیے ظاہری دعووں کے بجائے کردار اور عمل کو معیار بنانا ضروری ہے۔

مجالسِ خمسہ کے دوران شہید رہبر کے چہلم کی مناسبت سے بھی شعرائے کرام اور ذاکرین نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر شرکاء نے جذبات و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے حق میں نعرے بھی بلند کیے۔

مجالسِ خمسہ بعنوان ’’قرآن و امام حسینؑ‘‘؛ عزاداری کے آخری ایام میں روحانی و فکری اجتماع

پروگرام کے تیسرے روز حوزہ علمیہ آیت اللہ خامنہ ای کے بانی مولانا سید شمع محمد رضوی نے اپنے پیغام میں شرکاء کو شہید رہبر کی رہنمائی اور ان کے افکار پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کی۔

انہوں نے کہا کہ ہر قدم اور ہر مرحلے میں شہید رہبر کی رہنمائی کو سامنے رکھنا چاہیے، کیونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی معصومینؑ کی سیرت کو عملی نمونہ بنا کر گزاری۔ ان کی زندگی قرآن، اہل بیتؑ کی تعلیمات اور اسلامی اقدار سے وابستگی کا عملی نمونہ تھی۔

مجالسِ خمسہ کا یہ سلسلہ قرآن کریم، امام حسینؑ کی سیرت، معارفِ اہل بیتؑ اور اصلاحِ معاشرہ کے پیغام کو یکجا کرتے ہوئے عزاداری کو فکری و تربیتی جہت دینے کی ایک قابلِ ذکر کوشش کے طور پر جاری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha