پیر 31 اگست 2026 - 15:28
17 ربیع الاول؛ ولادتِ رسولِ اکرم (ص) اور امام جعفر صادق (ع)، علم و ہدایت کا روشن پیغام

حوزہ / 17 ربیع الاول ایک ایسا بابرکت دن ہے جو ہمیں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی ولادتِ باسعادت اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادتِ مبارک کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن محبت، عقیدت، علم، اخلاق اور ہدایت کا پیغام لے کر آتا ہے۔

عاصم علی، جامعۃالمصطفیٰ العالمیہ کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی | مسلم دنیا میں 17 ربیع الاول کو ولادتِ باسعادت رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) اور ولادتِ باسعادت امام جعفر صادق علیہ السلام کی نسبت سے انتہائی عقیدت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمام تعریفیں اس اللہ رب العزت کے لیے ہیں جس نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، اور جس نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ لاکھوں درود و سلام ہوں اس عظیم ہستی ﷺ پر جن کے نورِ ہدایت سے جہالت کے اندھیرے دور ہوئے، جنہوں نے انسان کو اس کے رب سے آشنا کیا اور جن کی سیرتِ طیبہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے بہترین نمونہ قرار پائی۔ سلام ہو آپ ﷺ کی پاکیزہ آل اور اہلِ بیت علیہم السلام پر، خصوصاً امام جعفر صادق علیہ السلام پر، جنہوں نے علم، تقویٰ، اخلاق اور معرفت کے ذریعے دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔

اسلامی تاریخ میں 17 ربیع الاول ایک نہایت بابرکت اور عظمت والا دن ہے۔ مسلم دنیا میں یہ تاریخ بالخصوص ولادتِ باسعادت رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور ولادتِ باسعادت امام جعفر صادق علیہ السلام کی نسبت سے انتہائی عقیدت و احترام سے یاد کی جاتی ہے۔ یہ دن صرف خوشی اور مسرت کا موقع نہیں بلکہ غور و فکر، علم، اخلاق، محبتِ رسول ﷺ اور محبتِ اہلِ بیتؑ کے تجدیدِ عہد کا دن بھی ہے۔

ولادتِ رسولِ اکرم ﷺ؛ انسانیت کے لیے رحمت

رسولِ اکرم ﷺ کی آمد سے قبل دنیا کا بڑا حصہ جہالت، ظلم، شرک، طبقاتی تفریق اور اخلاقی زوال کا شکار تھا۔ عرب معاشرے میں قبائلی تعصب عام تھا، کمزوروں کے حقوق پامال کیے جاتے تھے اور عورتوں، یتیموں اور غلاموں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔

قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد پوری انسانیت کے لیے رحمت قرار دیتے ہوئے فرمایا۔ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ۔ ترجمہ: "اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔" (سورۃ الانبیاء، 21:107)

یہ آیت رسولِ اکرم ﷺ کی عالمی حیثیت کو واضح کرتی ہے۔ آپ ﷺ کسی ایک قوم، علاقے یا زمانے کے لیے نہیں بلکہ تمام عالمین کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں انسان کی عزت، جان و مال کا تحفظ، عدل، مساوات، رحم، محبت، علم اور حسنِ اخلاق بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

رسولِ اکرم ﷺ کا اخلاقِ عظیم

رسولِ خدا ﷺ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو آپ ﷺ کا عظیم اخلاق تھا۔ قرآنِ کریم آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں فرماتا ہے: وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ۔ ترجمہ: "اور بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔" (سورۃ القلم، 68:4)

یہ صرف ایک تعریف نہیں بلکہ رسولِ اکرم ﷺ کی شخصیت کا قرآنی تعارف ہے۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و رحم کا معاملہ کیا، یتیموں اور مسکینوں کی خبر گیری فرمائی، پڑوسیوں کے حقوق کی تاکید کی اور معاشرے کے کمزور افراد کو عزت عطا فرمائی۔

آپ ﷺ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں انسان کا اپنے رب کے ساتھ تعلق بھی درست ہوتا ہے اور انسانوں کے ساتھ اس کا برتاؤ بھی۔

اسوۂ حسنہ؛ رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے نمونہ

قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کو مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا۔ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ ترجمہ: "یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔" (سورۃ الاحزاب، 33:21)

اس آیت کا پیغام یہ ہے کہ مسلمان کی کامیابی صرف رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کے دعوے میں نہیں بلکہ آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو زندگی میں اختیار کرنے میں ہے۔اگر ہم سچ بولیں، امانت ادا کریں، والدین کا احترام کریں، غریبوں کی مدد کریں، پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں، دوسروں کو معاف کریں اور ظلم و ناانصافی سے بچیں تو یہ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت پر عمل کی عملی صورت ہوگی۔

علم کی اہمیت اور اسلامی معاشرہ

اسلام نے علم کو غیر معمولی اہمیت دی۔ قرآنِ مجید کی پہلی وحی ہی لفظ "اقرأ" یعنی "پڑھو" سے شروع ہوئی۔ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ۔ ترجمہ: "پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔" (سورۃ العلق، 96:1)

یہ آغاز اس بات کی علامت ہے کہ اسلام کا پیغام جہالت کے بجائے علم، شعور اور معرفت پر قائم ہے۔

قرآنِ مجید ایک اور مقام پر فرماتا ہے۔ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ۔ ترجمہ: "کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟" (سورۃ الزمر، 39:9)

رسولِ اکرم ﷺ نے علم کی اس اہمیت کو اپنی امت تک پہنچایا۔ آپ ﷺ کی تربیت سے ایک ایسی نسل تیار ہوئی جس نے دنیا کو علم، تہذیب، اخلاق اور عدل کے نئے اصول دیے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت

17 ربیع الاول کی دوسری عظیم نسبت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت سے ہے۔ آپؑ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے فرزند اور رسولِ اکرم ﷺ کے اہلِ بیتِ اطہار سے تعلق رکھنے والی عظیم علمی و روحانی شخصیت ہیں۔

امام جعفر صادقؑ نے ایسے دور میں علم و معرفت کا چراغ روشن کیا جب اسلامی دنیا میں مختلف علمی، فکری اور اعتقادی مباحث پیدا ہو رہے تھے۔ آپؑ نے قرآن، حدیث، فقہ، اخلاق، عقائد اور دیگر علوم کی تعلیم و ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپؑ کی شخصیت میں عبادت، تقویٰ، علم، حلم، بردباری، سخاوت اور حسنِ اخلاق جمع تھے۔ آپؑ کے نزدیک علم محض معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ علم کا مقصد انسان کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی معرفت تھا۔

امام جعفر صادقؑ اور علم و معرفت

امام جعفر صادقؑ کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک آپؑ کا علمی مقام ہے۔ آپؑ نے علم کی مجالس قائم کیں اور مختلف علوم کے طالب علموں کو تعلیم و تربیت دی۔ اسلامی علمی روایت میں آپؑ کا نام ایک عظیم عالم اور استاد کے طور پر نمایاں ہے۔ آپؑ کی تعلیمات کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ انسان اپنے رب کو پہچانے، اپنے کردار کو بہتر بنائے اور علم کو عمل کے ساتھ جوڑے۔

قرآنِ مجید علم والوں کے مقام کے بارے میں فرماتا ہے۔ يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ۔ ترجمہ: "اللہ تم میں سے ایمان والوں اور جنہیں علم دیا گیا ہے، ان کے درجات بلند فرماتا ہے۔" (سورۃ المجادلہ، 58:11)

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ایمان اور علم دونوں انسان کے مقام کو بلند کرتے ہیں۔ امام جعفر صادقؑ کی زندگی اسی علمی و ایمانی امتزاج کی روشن مثال ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہارؑ

رسولِ اکرم ﷺ سے محبت مسلمانوں کے ایمان کا اہم حصہ ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ ترجمہ: "کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔" (سورۃ آلِ عمران، 3:31)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا راستہ رسولِ اکرم ﷺ کی پیروی سے وابستہ ہے۔ رسولِ خدا ﷺ کی سیرت اور آپ ﷺ کے اہلِ بیتؑ کی علمی و اخلاقی تعلیمات مسلمانوں کے لیے ہدایت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اہلِ بیتؑ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کو صرف زبان سے بیان کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں کردار اور عمل میں بھی ظاہر کرنا چاہیے۔

محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا

17 ربیع الاول ہمیں محبتِ رسول ﷺ کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن محبت کا حقیقی تقاضا اتباع اور عمل ہے۔

قرآنِ مجید فرماتا ہے۔ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا۔ ترجمہ: "اور رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔" (سورۃ الحشر، 59:7)

لہٰذا رسولِ اکرم ﷺ سے حقیقی محبت یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کے احکامات اور اخلاق کو اپنی زندگی میں جگہ دیں۔ نماز کی پابندی، سچائی، امانت، حیا، عدل، صبر، رحم، عفو و درگزر اور مخلوقِ خدا کی خدمت اسی محبت کا عملی اظہار ہیں۔

امام جعفر صادقؑ کا اخلاقی پیغام

امام جعفر صادقؑ کی زندگی میں علم کے ساتھ اخلاق کو بھی بنیادی مقام حاصل تھا۔ آپؑ کی تعلیمات کا مرکزی تصور یہ تھا کہ انسان کا علم اس کے کردار میں نظر آنا چاہیے۔ آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صرف معلومات نہیں بلکہ کردار ہے۔ ہمارے پاس تعلیم کے ذرائع بہت ہیں، مگر سچائی، برداشت، امانت اور حسنِ سلوک کو مضبوط کرنے کی ضرورت باقی ہے۔

امام صادقؑ کی علمی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود علم، دلیل، اخلاق اور احترام کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ علمی گفتگو کا مقصد دوسرے کو شکست دینا نہیں بلکہ حقیقت تک پہنچنا ہونا چاہیے۔

17 ربیع الاول اور آج کا مسلمان

آج ہم 17 ربیع الاول کی خوشی مناتے ہیں، محافل منعقد کرتے ہیں، نعتیں پڑھتے ہیں اور رسولِ اکرم ﷺ اور امام جعفر صادقؑ کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ یہ سب محبت کے مظاہر ہیں، لیکن اس مبارک دن کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے کردار کو بھی بدلنے کی کوشش کریں۔ اگر ایک شخص میلادِ رسول ﷺ کی محفل میں شریک ہو لیکن جھوٹ، دھوکا، ظلم اور بد اخلاقی کو اپنی زندگی سے نہ نکالے تو اسے اپنے عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر ہم واقعی رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی سچائی اپنانی ہوگی۔ اگر امام جعفر صادقؑ سے محبت ہے تو ہمیں علم حاصل کرنا، علم کا احترام کرنا اور علم کو صحیح مقصد کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔

نوجوان نسل کے لیے پیغام

17 ربیع الاول نوجوان نسل کو خاص طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنے کردار اور مستقبل کی تعمیر علم اور اخلاق کے ذریعے کرے۔ آج کا نوجوان سوشل میڈیا، جدید ٹیکنالوجی اور معلومات کے ایک وسیع سمندر میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسے صحیح اور غلط، علم اور جہالت، حقیقت اور افواہ میں فرق کرنا سیکھنا ہوگا۔

رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت نوجوانوں کو سچائی، بہادری، امانت اور خدمت کا سبق دیتی ہے، جبکہ امام جعفر صادقؑ کی علمی زندگی تحقیق، غور و فکر، سوال کرنے اور علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

اس لیے ہمیں اپنے گھروں اور تعلیمی اداروں میں ایسی تربیت کو فروغ دینا چاہیے جس میں علم کے ساتھ اخلاق بھی پیدا ہوں۔

اتحادِ امت اور احترامِ انسانیت

رسولِ اکرم ﷺ نے ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جس میں مختلف قبائل، خاندانوں اور طبقات کے لوگوں کو ایک امت کا حصہ بنایا گیا۔ قرآنِ مجید ارشاد فرماتا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ۔ ترجمہ: "مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دونوں بھائیوں کے درمیان اصلاح کراؤ۔" (سورۃ الحجرات، 49:10)

آج امتِ مسلمہ کو اسی پیغام کی شدید ضرورت ہے۔ مسلکی، لسانی، علاقائی اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہوسکتے ہیں، مگر ایک دوسرے کی عزت، جان، مال اور حقوق کا احترام ضروری ہے۔

17 ربیع الاول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی امت کو نفرت نہیں بلکہ محبت، علم، عدل اور اتحاد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

سیرتِ نبوی ﷺ اور عدل

رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات میں عدل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ

ترجمہ: "بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔" (سورۃ النحل، 16:90)

عدل کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے حق کے ساتھ دوسروں کے حق کا بھی خیال رکھے۔ کاروبار میں دیانت، معاملات میں انصاف، گھریلو زندگی میں حسنِ سلوک اور معاشرے میں کمزوروں کے حقوق کی حفاظت اسی عدل کا حصہ ہے۔

اختتامیہ

17 ربیع الاول ایک ایسا بابرکت دن ہے جو ہمیں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادتِ مبارک کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن محبت، عقیدت، علم، اخلاق اور ہدایت کا پیغام لے کر آتا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے انسان کو توحید، عدل، اخلاق، علم اور انسانیت کا درس دیا۔ قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کے اخلاق کو عظیم قرار دیا اور آپ ﷺ کی زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیا۔

امام جعفر صادقؑ نے علم و معرفت، تقویٰ، عبادت اور اخلاق کے ذریعے اسلامی علمی روایت کی خدمت کی۔ آپؑ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم صرف ذہن کو روشن کرنے کے لیے نہیں بلکہ کردار کو سنوارنے کے لیے بھی ہے۔

لہٰذا 17 ربیع الاول کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ ہم رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی میں نافذ کریں، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں، علم کو فروغ دیں، اخلاق کو بہتر بنائیں، اختلافات کو برداشت کریں، مظلوم اور ضرورت مند کی مدد کریں اور اپنے معاشرے میں امن، محبت اور عدل کو فروغ دیں۔

آئیے اس مبارک دن ہم عہد کریں کہ ہم صرف زبان سے محبتِ رسول ﷺ کا اظہار نہیں کریں گے بلکہ اپنے کردار سے بھی ثابت کریں گے کہ ہم آپ ﷺ کی امت ہیں۔ ہم سچ بولیں گے، امانت ادا کریں گے، والدین کا احترام کریں گے، پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں گے، علم حاصل کریں گے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں گے اور ظلم و ناانصافی سے بچیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی سچی محبت، آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر عمل، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت و معرفت، علمِ نافع، حسنِ اخلاق اور تقویٰ عطا فرمائے، اور ہمیں اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی روشنی میں سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha