حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے دفتر کے سربراہ اور مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن حجت الاسلام والمسلمین محمود محمدی عراقی نے مدرسہ علمیہ امام جواد علیہ السلام پردیسان قم میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ استقامت اور ارادوں کی جنگ ہے۔
انہوں نے قرآن کریم میں تاریخی واقعات سے حاصل ہونے والے اسباق حوزہ علمیہ کی ذمہ داریوں کو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم میں بنی اسرائیل کے عبرت آموز واقعات اور عصر حاضر کی تبدیلیوں کے درمیان تطبیق پیش کی اور دشمن کے ساتھ موجودہ تقابل کی نوعیت ’’جنگِ استقامت اور ارادوں‘‘ میں تبدیل ہونے پر بھی زور دیا۔
حوزہ علمیہ قم کے استاد نے قرآن کریم کی 40 سے زائد سورتوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعے کی تکرار اور اس عظیم پیغمبر کے نام کا تقریباً 137 مرتبہ ذکر ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس تاریخی تکرار کی گہری حکمت بیان کی اور اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حوالہ دیا جس کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے تمام واقعات امتِ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی دہرائے جائیں گے اور کہا: آج ہم واضح طور پر تاریخ کے اس تکرار اور اس کے سخت امتحانات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن نے اپنی گفتگو کے دوران میناب کے شجرہ طیبہ اسکول میں پیش آنے والے المناک سانحہ کو یاد کرتے ہوئے کہا: یہ عظیم جرم تاریخ کے خونخواروں کی ایک دیرینہ روش کا تسلسل ہے۔ فرعونی بھی اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لیے معصوم بچوں اور بیٹوں کو قتل کرتے تھے جبکہ خواتین اور بچیوں کو خدمت اور اسیری کے لیے زندہ رکھتے تھے۔ آج عالمی استکبار مظلوم اقوام کے خلاف اسی منحوس روش کو دہرا رہا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی کے قم میں دفتر کے سربراہ نے آیت کریمہ ’’لَئِن شَکَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے ملک میں اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں نعمتِ رہبری، ولایت اور وفادار امت کو شمار کیا۔









آپ کا تبصرہ