حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجتالاسلام والمسلمین سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ دشمن ایران کو تقسیم کرنے اور اسلامی جمہوریہ کے نظام کو ختم کرنے میں ناکام رہا، بلکہ مشکل حالات اور رہبر معظم کی شہادت کے باوجود ایران مزید مضبوط ہوا۔ ان کے مطابق اس کامیابی کی اصل وجہ ایرانی قوم کا متحد ہو کر میدان میں آنا ہے۔
تہران میں صدر اور کابینہ کے ارکان کی امام خمینیؒ کے افکار و نظریات سے تجدیدِ عہد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ’’مقدس جہالت‘‘ کا شکار ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ شیطان ان کے غلط اعمال کو ان کی نظر میں اچھا بنا دیتا ہے۔ دوسری جانب کچھ لوگ حق جاننے کے باوجود خوف یا مفاد کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں، حالانکہ بعض مواقع پر خاموشی بھی جھوٹ کے مترادف ہوتی ہے۔
انہوں نے حالیہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوج، سپاہ، بسیج، پولیس اور حکومت نے شدید دباؤ کے باوجود ملک کا نظام بہترین انداز میں چلایا۔ دشمن ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا اور اسلامی جمہوریہ مزید طاقتور بن کر سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کی نظر ان لوگوں پر تھی جو میدان میں نہیں آئے، کیونکہ وہ داخلی انتشار اور خانہ جنگی پیدا کرنا چاہتے تھے، مگر ان کی یہ سازش بھی ناکام رہی۔
سید حسن خمینی نے زور دیا کہ جنگ ہو یا صلح، کامیابی کے لیے قوم کا متحد ہونا ضروری ہے۔ جنگ کے میدان میں موجود سپاہی اور سفارت کاری کے میدان میں کام کرنے والا شخص، دونوں ملک کے سپاہی ہیں۔ بڑے فیصلے ہوجانے کے بعد سب کو ان کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج دشمن ایران کو اندر سے اقتصادی مشکلات کا شکار کرنا چاہتا ہے۔ عوام مسائل کی وجوہات سمجھتے ہیں، لیکن انہیں حکومت اور ماہرین سے ان کے حل کی توقع ہے۔
آخر میں انہوں نے امام خمینیؒ کو انقلاب اور اسلامی جمہوریہ کی روح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام کے افکار کو کمزور کرنا اس درخت کی بنیاد کمزور کرنے کے مترادف ہے جس پر موجودہ نظام قائم ہے۔









آپ کا تبصرہ