ہفتہ 5 ستمبر 2026 - 01:29
بغداد میں بین الاقوامی کتاب میلے کے موقع پر ’’ایران و عراق کے ثقافتی تعلقات، رہبر شہید انقلاب اسلامی کی نظر میں‘‘ کے عنوان سے نشست

حوزہ/ "ایران-عراق ثقافتی تعلقات، رہبر شہید انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای کی نظر میں" کے موضوع پر ایک خصوصی نشست بغداد میں کتابوں کی بین الاقوامی نمائش میں منعقد ہوئی، جس میں محققین، دانشوروں اور ثقافتی شعبے سے وابستہ افراد کے علاوہ عراقی عوام اور شائقین نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس نشست کا مقصد ایرانی اور عراقی اقوام کے درمیان ثقافتی، تاریخی اور تمدنی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا اور رہبر شہید انقلاب اسلامی کے افکار میں عراق کی اہمیت اور اس کے مقام کو واضح کرنا تھا۔ اس نشست میں ایران اور عراق کے متعدد ماہرین اور صاحب نظر افراد نے مشترکہ ثقافتی صلاحیتوں اور دونوں اقوام کے درمیان تعلقات کے استحکام کے طریقوں کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا۔ اس نشست میں العصر اسٹڈیز اور سروے سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر محمد الصحاف نے نظامت کے فرائض انجام دیے جبکہ عراق کے سابق نائب وزیر ثقافت ڈاکٹر سید جابر الجابری، انقلاب اسلامی پبلیکیشنز کے محقق سید امید مؤذنی اور محقق و یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر ماجد الشویلی نے اپنے خیالات پیش کیے۔ مقررین نے ایران اور عراق کے درمیان وسیع تاریخی، دینی اور ثقافتی اشتراکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رہبر شہید انقلاب اسلامی کی نظر میں دونوں اقوام کے تعلقات کی جڑیں گہرے تمدنی رشتوں میں پیوست ہیں اور ان صلاحیتوں اور گنجائشوں کی شناخت دونوں ممالک کے درمیان علمی، ثقافتی اور فکری تعاون کو فروغ دینے کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔

عراق کے سابق نائب وزیر ثقافت ڈاکٹر جابر الجابری نے ایران اور عراق کے درمیان تعلقات میں ثقافت اور ادب کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام شہید کے افکار میں دونوں اقوام کے درمیان رشتہ صرف رسمی اور سیاسی تعلقات تک محدود نہیں ہے، بلکہ ثقافت، شاعری، فکر اور ممتاز علمی و ادبی شخصیات اس تاریخی تعلق کا اہم حصہ ہیں۔ انھوں نے اپنی گفتگو کے ایک حصے میں عربی کے بزرگ ہم عصر شاعر محمد مہدی الجواہری کے ہمراہ ایران کے سفر اور رہبر شہید سے ملاقات کا ذکر کیا اور اس ملاقات کو اقوام کے درمیان تعلقات میں ثقافت اور ادب کے مقام پر خصوصی توجہ کی ایک مثال قرار دیا۔ الجابری نے کہا کہ رہبر شہید کی عربی ادب اور عالم اسلام کی ثقافتی شخصیات سے گہری واقفیت اور ان پر توجہ ان کی گہری ثقافتی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے تعلقات کی تاریخی اور تمدنی بنیاد ہے جس پر ثقافتی اور علمی تعلقات کو مضبوط بنا کر مزید توجہ دی جانی چاہیے۔

انقلاب اسلامی پبلیکیشنز کے محقق سید امید مؤذنی نے بھی رہبر شہید انقلاب اسلامی کے افکار میں عراق کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عراق کے تعلقات کا جائزہ صرف سیاسی تعلقات کے دائرے میں نہیں لیا جا سکتا بلکہ رہبر شہید کی نظر میں یہ تعلقات دونوں اقوام کی تاریخ، ثقافت، مشترکہ عقائد اور سماجی روابط کی بنیاد پر تشکیل پائے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا: رہبر شہید کا ماننا تھا کہ عراق کی ثقافتی صلاحیتوں کی شناخت اور نوجوان نسل، محققین اور علمی مراکز کے کردار پر توجہ دونوں اقوام کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ رہبر شہید عراق اور ایران کے تعلقات کو نئے اسلامی تمدن کی تشکیل کے تناظر میں دیکھتے تھے اور عراق کی دینی و ثقافتی صلاحیتوں اور شخصیات سے گہری واقفیت کی بنا پر وہ عراق کو نئے اسلامی تمدن میں داخلے کے دروازوں میں سے ایک سمجھتے تھے۔ مؤذنی نے عراق کے ثقافتی اور سماجی دھاروں کی زیادہ درست شناخت کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا: دونوں اقوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سطحی نگاہوں سے دور ہونا اور ایران و عراق کی مشترکہ تمدنی صلاحیتوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔

عراق کے محقق اور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ماجد الشویلی نے بھی ایران اور عراق کے درمیان دینی اور ثقافتی اشتراکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اقوام کے ثقافتی رشتوں کی گہری تاریخی جڑیں ہیں اور مقدس مقامات، علمی مراکز اور مشترکہ ثقافتی صلاحیتوں کی موجودگی جیسے عوامل، عوامی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مناسب اور موزوں بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امام شہید خامنہ ای کے افکار میں مشترکہ ثقافتی اور تمدنی عناصر پر توجہ، ایران اور عراق کے عوام کے درمیان علمی و ثقافتی تعاون اور باہمی شناخت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس نشست کے اختتام پر عراقی اور ایرانی حاضرین و شرکاء نے بھی زیر بحث آنے والے موضوعات میں حصہ لیتے ہوئے رہبر شہید کے افکار میں ایران اور عراق کے ثقافتی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اپنے خیالات اور سوالات پیش کیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha