حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 24 ستمبر, عالمی بحری دن (World Maritime Day)، 26 ستمبر، جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کا عالمی دن (Nuclear Abolition Day) اور 29 ستمبر, جوہری تخفیفِ اسلحہ کے عالمی دن (Nuclear Disarmament) کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: عالمی بحری دن کے موقع پر ہر سال بین الاقوامی سمندری حدود کے تحفظ اور سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے تاکہ عالمی تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جاسکے اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے مواقع حاصل کرسکیں۔
انہوں نے کہا: گزشتہ کچھ عرصے سے زمین کے ساتھ ساتھ سمندر بھی جنگی جنون کی لپیٹ میں ہے، جس کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جنگی جنون اور تسلط پسندی کی یہ روش عالمی امن، تجارت اور اقتصادی استحکام کے لیے خطرناک صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: دوسری جانب جوہری تخفیفِ اسلحہ کا عالمی دن ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب ماضی میں خطرناک ہتھیاروں کا استعمال کرنے والی استکباری طاقتوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری حملوں کے ذریعے انسانی تہذیب کو شدید نقصان پہنچایا جبکہ آج بھی ایک پرامن ملک کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا: اسرائیل کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات نہ ہونا اور دوسری جانب پرامن جوہری پروگرام رکھنے والے ممالک پر دباؤ اور پابندیاں عائد کرنا عالمی برادری کے دوہرے معیار کو واضح کرتا ہے۔
علامہ سید ساجد نقوی نے کہا: طاقت کے اندھا دھند استعمال اور تسلط پسندی کی یہ ذہنیت دنیا کو ایک ایسی تباہی کی جانب دھکیل رہی ہے جس کے اثرات سے کوئی خطہ محفوظ نہیں رہے گا۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ محض عالمی ایام منانے تک محدود نہ رہیں بلکہ ان مواقع کو عملی اقدامات کے لیے استعمال کریں اور دنیا کو جنگ، جارحیت، تسلط پسندی اور تباہی کی جانب لے جانے والے رجحانات کے آگے مؤثر رکاوٹ قائم کریں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: اب بھی وقت ہے کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی امن، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے یکساں اطلاق کو یقینی بنائے۔









آپ کا تبصرہ