اتوار 13 ستمبر 2026 - 20:28
اسرائیل لبنان کے باقی علاقوں سے اپنی فوج واپس بلائے: برکس کا متفقہ مطالبہ

حوزہ/ برکس ممالک نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت اور لبنان میں جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ برکس ممالک نے اسرائیل سے لبنان کے باقی تمام مقبوضہ علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس کے پہلے روز ہفتہ کو نئی دہلی میں رکن ممالک کے سربراہان نے متفقہ طور پر ’’نئی دہلی اعلامیہ 2026‘‘ منظور کیا۔

اعلامیے میں غزہ میں جاری تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے زبردستی نکالنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی گئی۔ برکس رہنماؤں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کا مستقل اور منصفانہ حل صرف پرامن طریقے سے ممکن ہے۔ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور اپنے وطن واپس جانے کے حق سمیت ان کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

برکس ممالک نے ان اقدامات پر بھی تشویش ظاہر کی جو فلسطینیوں کے تسلیم شدہ حقوق کو کمزور، قبضے کو جائز یا اسے مزید طویل کر سکتے ہیں۔

اعلامیے میں شام کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے برکس ممالک کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور تمام فریقوں سے شام میں ایک جامع اور پرامن سیاسی عمل کی حمایت کرنے کی اپیل کی گئی۔

لبنان کے حوالے سے برکس ممالک نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقوں سے جنگ بندی کی شرائط اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کرے اور لبنانی علاقے کے باقی تمام حصوں سے اپنی فوج واپس بلائے۔

اعلامیے میں ایران اور یوکرین سمیت جاری تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ برکس ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کی بنیادی وجوہات دور کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔

برکس رہنماؤں نے جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں میں کمی، اسلحہ پر قابو پانے اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شہری بنیادی ڈھانچے اور پرامن جوہری تنصیبات پر جان بوجھ کر حملوں کی بھی مذمت کی۔

اعلامیے میں یک طرفہ، امتیازی اور بین الاقوامی قانون کے خلاف پابندیوں اور تجارتی اقدامات کی مخالفت کی گئی اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی پر زور دیا گیا۔ سوڈان کی بگڑتی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ برکس کا 18واں سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو ہندوستان کی صدارت میں نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں عالمی نظام، اقتصادی و تجارتی تعاون، توانائی، غذائی تحفظ، ٹیکنالوجی اور عالمی و علاقائی بحرانوں سمیت اہم امور پر غور کیا جا رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha