جمعہ 25 ستمبر 2026 - 21:23
مشکلات کا مثبت انداز میں سامنا کامیابی کی راہ ہموار کرتا ہے، نائب امام جمعہ پاراچنار

حوزہ/ نائب امام جمعہ مولانا خیال حسین دانش نے خطبۂ جمعہ میں زندگی کی مشکلات اور آزمائشوں کا صبر و استقامت کے ساتھ مثبت انداز میں سامنا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشکلات انسان کی تربیت اور معنوی ارتقا کا ذریعہ بن سکتی ہیں، جبکہ انسان کو خود فریبی سے بچتے ہوئے اپنے افکار، اعمال اور روایات کو عقل و شعور اور حق و باطل کے معیار پر پرکھنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاراچنار/ مرکزی جامع مسجد پاراچنار، خیبرپختونخوا کے نائب امام جمعہ مولانا خیال حسین دانش نے خطبۂ جمعہ میں زندگی کے مسائل و مشکلات کا مثبت انداز میں سامنا کرنے، صبر و استقامت اختیار کرنے اور انسانی خود فریبی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنے والی آزمائشیں انسان کی رشد، تربیت اور معنوی ارتقا کا ذریعہ بنتی ہیں۔

مشکلات کا مثبت انداز میں سامنا کامیابی کی راہ ہموار کرتا ہے، نائب امام جمعہ پاراچنار

انہوں نے اپنے خطبے میں مومن کی کامیابی کے پانچ بنیادی اور کلیدی نکات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کا خندہ پیشانی سے سامنا کرنا چاہیے اور ہر مشکل کو مثبت نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

مولانا خیال حسین دانش نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسان کو پیش آنے والے امتحانات اور آزمائشیں محض مشکلات نہیں بلکہ اس کی تربیت اور معنوی ترقی کا ذریعہ ہیں۔ اگر انسان صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھے تو مشکلات کا سامنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے اور یہی صبر و استقامت اسے کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشکلات سے فرار اختیار کرنے کے بجائے انسان کو ان کا حوصلے اور مثبت سوچ کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے، کیونکہ زندگی کے بہت سے مسائل انسان کے لیے تجربے، اصلاح اور آگے بڑھنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر انہوں نے اسلامی مقاومت اور اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابی، سربلندی اور استقامت کے لیے اجتماعی دعا بھی کرائی۔

مشکلات کا مثبت انداز میں سامنا کامیابی کی راہ ہموار کرتا ہے، نائب امام جمعہ پاراچنار

دوسرے خطبے میں مولانا خیال حسین دانش نے انسانی خود فریبی اور انسان کی کاذب و خیالی شخصیت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسان بسا اوقات وہم و گمان کی دنیا میں زندگی گزارتا ہے اور اپنے بارے میں ایسی رائے قائم کر لیتا ہے جو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔

انہوں نے واضح کیا کہ انسان اپنی ذات، صلاحیتوں اور طرزِ زندگی کے بارے میں بھی خود فریبی کا شکار ہو سکتا ہے اور بعض اوقات اپنی غلطیوں کو درست سمجھنے لگتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے افکار، اعمال اور طرزِ زندگی کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے اور اپنی اصلاح کی گنجائش کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھے۔

خطیبِ جمعہ نے آباؤ اجداد کی بعض قدیم رسومات اور روایات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کسی رسم یا طریقے کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا کہ ہمارے آباؤ اجداد بھی اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ انسان کو اپنی روایات اور اعمال کو عقل، شعور اور حق و باطل کے معیار پر پرکھنا چاہیے اور جو رویے درست نہ ہوں، ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha