جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 00:16
گاندھی جی کی عینک سے ہندوستان

حوزہ/ گاندھی جینتی کے موقع پر یہ تحریر مہاتما گاندھی کے تصورِ ہندوستان کی روشنی میں آج کے بھارت کا جائزہ لیتی ہے۔ غربت، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، خواتین کے عدم تحفظ اور دستاویزات کے پیچیدہ نظام کے تناظر میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا آج کا ہندوستان واقعی اُس خواب کے قریب ہے جس میں ہر انسان کو عزت، انصاف، آزادی اور برابری حاصل ہو۔

تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی | آج گاندھی جی کا یومِ پیدائش ہے۔سوچا، کیوں نہ آج ہندوستان کو گاندھی جی کی عینک سے دیکھا جائے۔

وہی گاندھی جی جنہوں نے ایک ایسے آزاد ہندوستان کا خواب دیکھا تھا جہاں مذہب انسان کو انسان سے جوڑتا ہو، جہاں غریب کی جھونپڑی بھی اتنی ہی محترم ہو جتنی امیر کی حویلی، جہاں کسی کے مذہب، ذات یا لباس کی بنیاد پر اس کی انسانیت مشکوک نہ ہو، جہاں آزادی صرف حکمران بدلنے کا نام نہ ہو بلکہ عام آدمی کی زندگی میں عزت، روٹی، انصاف اور خوف سے آزادی کا نام ہو۔

مگر افسوس!

جب آج میں نے گاندھی جی کے چشمے سے ہندوستان کو دیکھنے کی کوشش کی تو ایک عجیب سی دھند چھا گئی۔

ہر طرف نفرت کے بادل نظر آئے

کہیں دو وقت کی روٹی کے محتاج، بوسیدہ چڈی اور بنیان پہنے معصوم بچے تھے، جن کی آنکھیں شاید کسی "مہاتما" کو تلاش کر رہی تھیں کہ کوئی آئے اور پوچھے:
"بیٹا! آج کھانا کھایا؟ "

کہیں درختوں سے لٹکی ہوئی کسانوں کی لاشیں تھیں؛ کہیں معصوم بچیوں کی خاموش چیخیں تھیں؛ کہیں سسکیاں لیتے غریب تھے؛ کہیں اپنے گھروں کی مسماری کے بعد ملبے پر بیٹھے ہوئے ستم دیدہ لوگ تھے۔
کہیں اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں ہاتھوں میں لیے نوجوان روزگار کی تلاش میں ایک دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر لگا رہے تھے۔

اور کہیں جہیز کی آگ میں جلتی ہوئی کسی دلہن کی لاش یہ سوال کر رہی تھی کہ:

کیا آزادی کے اتنے برس بعد بھی بیٹی ہونا ایک جرم ہے؟
گاندھی جی کے چشمے سے آگے دیکھا تو ایک اور منظر سامنے آیا۔

یہاں ایک غریب ماں سرکاری دفتر کی لمبی قطار میں کھڑی تھی۔

ہاتھ میں ایک فائل تھی، فائل میں کاغذات تھے، کاغذات پر مہر درکار تھی، مہر کے لیے تصدیق درکار تھی، تصدیق کے لیے ایک اور کاغذ درکار تھا۔
اور اس کے پیچھے ایک اور قطار تھی۔

پھر ایک اور۔

اور پھر ایک اور۔

غریب آدمی کے پاس وقت نہیں، پیسہ نہیں، سفارش نہیں؛ مگر کاغذات کا بوجھ اتنا ہے کہ اس کی پوری زندگی شاید دستاویزات مکمل کرتے کرتے گزر ہی جائے۔
اس سے کہا جاتا ہے:

شناخت ثابت کرو!

وہ اپنا آدھار نکالتا ہے۔

کہا جاتا ہے:

یہ کافی نہیں۔

پین کارڈ دکھاتا ہے۔

کہا جاتا ہے:

یہ بھی کافی نہیں۔

پاسپورٹ دکھاتا ہے۔

کہا جاتا ہے:

مزید ثبوت لائیے۔

وہ حیران ہو کر پوچھتا ہے:

"صاحب! میں کون سا کاغذ لے کر آؤں جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ "میں" میں ہی ہوں؟ "

ایک طرف وہ شخص ہے جس کے پاس شناخت کے اتنے کاغذات ہیں کہ ایک فائل بھر جائے، دوسری طرف وہ غریب ہے جس کے پاس اپنی زندگی کا سب سے بڑا ثبوت—اس کی زندگی—موجود ہے، مگر اسے ثابت کرنے کے لیے کاغذ کافی نہیں۔

کبھی آدھار کی تصدیق کا مسئلہ، کبھی نام کے ہجے کا اختلاف، کبھی تاریخِ پیدائش کا فرق، کبھی پتے کی تبدیلی، کبھی موبائل نمبر کی شرط، کبھی کسی سرکاری ریکارڈ میں نام نہ ملنے کی پریشانی۔

اور ہر کاغذ غریب سے کہتا ہے:

"پہلے ثابت کرو کہ تم ہندوستانی ہو، پھر اپنے حق کی بات کرنا۔"

میں سوچنے لگا، گاندھی جی!

آپ نے تو ہندوستانیوں کو یہ احساس دلانے کے لیے جدوجہد کی تھی کہ یہ ملک ان کا ہے۔

آج کا غریب اپنے ہی ملک میں کبھی کاغذوں کی قطار میں، کبھی دفتر کے دروازے پر، کبھی تصدیق کے کاؤنٹر پر اور کبھی کسی فہرست میں اپنا نام تلاش کرتا ہوا کیوں کھڑا ہے؟

کیا شہریت صرف ایک دستاویز کا نام ہے؟

کیا وہ کسان جس نے نسلوں سے اس مٹی کو اپنے خون اور پسینے سے سینچا، صرف اس لیے کم ہندوستانی ہے کہ اس کے پاس کسی پرانے ریکارڈ کی مکمل دستاویز نہیں؟

کیا وہ مزدور جس نے شہروں کی بلند عمارتیں اپنے ہاتھوں سے بنائیں، مگر اپنی جھونپڑی کے کاغذات نہ بنا سکا، اس ملک سے اس کا رشتہ مخدوش ہے؟

کیا وہ بوڑھی عورت، جس نے آزادی کے بعد کی نسلیں اپنی آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی دیکھی ہیں، صرف اس لیے سوالیہ نشان بن جائے کہ اس کے پاس ایک مخصوص کاغذ موجود نہیں؟

اور سب سے بڑا سوال:

جب ایک انسان اپنی پوری زندگی ایک ملک میں گزار دیتا ہے تو کیا اس کی یادیں، اس کی محنت، اس کی قربانیاں، اس کی زبان، اس کا پسینہ اور اس کے بزرگوں کی قبریں بھی کسی کاغذ سے کم ثبوت ہیں؟

یہ سوال کسی ایک حکومت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک ادارے کے خلاف نہیں۔

یہ سوال اس پورے نظام سے ہے جو کبھی کبھی انسان کو انسان سمجھنے سے پہلے اس کی فائل دیکھتا ہے۔

گاندھی جی کے چشمے سے پھر دیکھا

دھند اور گہری ہو گئی۔
ایک طرف ڈیجیٹل ہندوستان تھا، تیز رفتار انٹرنیٹ تھا، بڑی عمارتیں تھیں، چمکتے شہر تھے، خلائی کامیابیاں تھیں۔

اور اسی تصویر کے دوسرے کنارے پر ایک بوڑھا کسان تھا جسے اپنی پنشن کے لیے دفتر کے چکر لگانے پڑ رہے تھے۔

ایک بیوہ تھی جو کسی سرکاری اسکیم کے لیے دستاویزات مکمل کر رہی تھی۔

ایک مزدور تھا جسے اپنے بچے کی تعلیم سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ اگلے دن گھر میں چولہا کیسے جلے گا۔

ایک نوجوان تھا جس کے ہاتھ میں ڈگری تھی اور آنکھوں میں مستقبل کا سوال۔

اور ایک ماں تھی جو اپنے بچے سے کہہ رہی تھی:

"بیٹا! پڑھ لکھ لینا، شاید تمہیں ہماری طرح قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔"

مگر شاید وہ ماں یہ نہیں جانتی کہ آج کی قطاریں صرف راشن کی دکانوں تک محدود نہیں رہیں۔

شناخت کی قطار ہے۔

دستاویز کی قطار ہے۔

اسکالرشپ کی قطار ہے۔

ملازمت کی قطار ہے۔

پنشن کی قطار ہے۔

علاج کی قطار ہے۔

انصاف ملنے کی قطار ہے۔

اور کبھی کبھی تو اپنے ہی حق کے لیے اپنی شہریت ثابت کرنے کی قطار بھی ہے۔

گاندھی جی!

آپ کے چشمے سے ہندوستان دیکھتے ہوئے ایک اور چیز بھی دکھائی دی۔

آپ کی سمادھی پر پھول ہی پھول تھے۔

راج گھاٹ پر خراجِ عقیدت تھا۔

سنہرے قابوں میں آپ کی تصویریں تھیں۔

آپ کے نام پر تقریریں تھیں۔

آپ کے اصولوں کے نام پر دعوے تھے۔

مگر جس ہندوستان کو آپ نے خوابوں میں دیکھا تھا، اس کے جسم پر جگہ جگہ زخم تھے۔

آپ نے سچائی کا چشمہ پہن کر ہندوستان کو دیکھا تھا۔
آج ہم آپ کی عینک تو سنبھال کر رکھتے ہیں، آپکی عینک کی قیمت بھی بہت ہے چالیس لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ مگر شاید اس کے شیشوں سے دیکھنے کی ہمت ہم کھو بیٹھے ہیں۔

کیونکہ اگر ہم واقعی اس عینک سے دیکھیں گے تو ہمیں صرف ترقی کی روشنیاں نہیں دکھائی دیں گی؛ ہمیں ان روشنیوں کے پیچھے چھپے اندھیرے بھی دکھائی دیں گے۔
ہمیں وہ بچہ بھی دکھائی دے گا جس کے ہاتھ میں کتاب کی جگہ مزدوری کا سامان ہے۔

وہ کسان بھی دکھائی دے گا جس کے لیے فصل صرف اناج نہیں، زندگی کا سوال ہے۔

وہ عورت بھی دکھائی دے گی جسے آج بھی جہیز، تشدد اور عدم تحفظ سے لڑنا پڑتا ہے۔

وہ نوجوان بھی دکھائی دے گا جو ڈگری کے ساتھ بے روزگاری کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہے۔

وہ اقلیت بھی دکھائی دے گی جو کبھی اپنے مذہب، کبھی اپنے نام، کبھی اپنے لباس اور کبھی اپنی وفاداری کے بارے میں سوالات کا سامنا کرتی ہے۔

اور وہ غریب بھی دکھائی دے گا جس کے لیے "کاغذ مکمل نہیں ہیں" کا ایک جملہ پوری زندگی کی مصیبت بن جاتا ہے۔

گاندھی جی!

شاید آج اگر آپ اپنی عینک سے ہندوستان دیکھیں تو سب سے زیادہ تکلیف آپ کو اس بات سے ہوگی کہ آپ کے مجسمے محفوظ ہیں، آپ کی تصویریں محفوظ ہیں، آپ کا نام محفوظ ہے، آپ کی سمادھی محفوظ ہے—
مگر کیا آپ کا خواب محفوظ ہے؟

آپ نے جس ہندوستان کے لیے جدوجہد کی تھی، کیا اس ہندوستان کے آخری آدمی کے چہرے پر آج بھی اطمینان ہے؟

کیا غریب کو آج بھی یہ یقین ہے کہ قانون اس کا بھی ہے؟

کیا مظلوم کو یقین ہے کہ انصاف اس کے دروازے تک پہنچے گا؟

کیا مزدور کو یقین ہے کہ اس کی محنت کی عزت ہوگی؟
کیا کسان کو یقین ہے کہ اس کی زندگی کی قیمت اس کی فصل کی قیمت سے زیادہ ہے؟

کیا نوجوان کو یقین ہے کہ اس کی ڈگری اسے مستقبل دے گی؟

اور کیا ایک عام شہری کو یہ یقین ہے کہ اسے بار بار اپنے وجود کا ثبوت نہیں دینا پڑے گا؟

شاید ہمیں گاندھی جینتی پر صرف گاندھی جی کو یاد نہیں کرنا چاہیے۔

ہمیں گاندھی جی سے ایک سوال بھی کرنا چاہیے—اور اپنے آپ سے بھی۔

ہم نے آپ کی عینک کو تو شیشے کے شوکیس میں محفوظ کر لیا، مگر کیا ہم نے اس نظر کو بھی محفوظ رکھا جس سے آپ ہندوستان کو دیکھتے تھے؟
وہ نظر جو غریب میں انسان دیکھتی تھی۔
وہ نظر جو مخالف میں بھی انسان دیکھتی تھی۔
وہ نظر جو مذہب سے پہلے انسانیت کو پہچانتی تھی۔
وہ نظر جو آزادی کو صرف سیاسی آزادی نہیں بلکہ خوف، بھوک، محرومی اور ناانصافی سے آزادی سمجھتی تھی۔

آج ضرورت شاید ایک نئے چشمے کی نہیں۔
صرف نظر بدلنے کی ضرورت ہے۔

ایسی نظر کی جو سرکاری فائل کے پیچھے چھپے انسان کو دیکھ سکے۔

ایسی نظر کی جو آدھار نمبر سے پہلے آدمی کو پہچان سکے۔

ایسی نظر کی جو پین کارڈ سے پہلے اس کے پسینے کی قیمت سمجھے۔

ایسی نظر کی جو پاسپورٹ سے پہلے اس کی انسانیت کو تسلیم کرے۔

ایسی نظر کی جو غریب کو بوجھ نہیں، ہندوستان کی بنیاد سمجھے۔

تب شاید ایک دن ہم ایسی گاندھی جینتی منا سکیں گے جس دن گاندھی جی اگر کہیں سے ہندوستان کو دیکھ رہے ہوں تو ان کی آنکھوں میں دھند نہ ہو۔

ان کے عینک کے شیشے پر آنسو نہ ہوں۔

اور وہ مسکرا کر کہیں:

"ہاں! یہی وہ ہندوستان ہے جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا۔"

اس دن گاندھی جینتی صرف ایک تاریخ نہیں ہوگی۔

وہ ہندوستان کے ضمیر کی واپسی کا دن ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha