حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ/ مدرسۂ علمیہ امام الہادیؑ میں ’’انسان سازی میں ہمارا کردار‘‘ کے عنوان سے ایک علمی و فکری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں معروف خطیب آغا علی سرور صاحب نے خطاب کرتے ہوئے انسان کی فکری و روحانی تربیت، معرفتِ الٰہی، صحیح انتخاب اور انسانی کردار کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔

علمی نشست کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت محمد یوسف نے حاصل کی۔ بعد ازاں سید مرتضیٰ رضوی نے نظامت کے فرائض کو انجام دیا اورشعراء نے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا، جن میں سید مسرت عباس اور شارب عباس بھی شامل تھے۔
نشست کے اختتامی مرحلے میں خطیبِ مجلس حجۃ الاسلام و المسلمین آغا علی سرور نے ’’انسان سازی میں ہمارا کردار‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے بیان کا آغاز امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منسوب اس ارشاد سے کیا کہ معرفت و علم کے بنیادی مراحل میں اپنے رب کی پہچان، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی معرفت، اس کی جانب سے عائد کردہ ذمہ داریوں کا ادراک اور ان امور کی شناخت شامل ہے جو انسان کو اس کے دین سے دور کر دیتے ہیں۔

آغا علی سرور نے کہا کہ انسان کی فکری و عملی زندگی کی بنیاد معرفتِ خداوندی پر استوار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق محض خدا کے وجود کو تسلیم کرنا کافی نہیں، بلکہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ توحید و بندگی کے تقاضوں کو اپنی عملی زندگی میں ملحوظ رکھے اور اپنے اختیار و انتخاب کو حق کے مطابق ڈھالے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسان فطرتِ توحیدی اور دینِ حنیف کی بنیاد پر پیدا کیا گیا ہے اور اسے سماعت، بصارت اور قلب و ادراک جیسی صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں تاکہ وہ دنیاوی زندگی کے امتحان میں شعوری طور پر اپنا راستہ متعین کر سکے۔ مقرر نے اس امر پر زور دیا کہ انسان کے لیے صحیح علم اور درست فیصلہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ اس کے اعمال کی سمت اس کے فکری و اعتقادی انتخاب سے متعین ہوتی ہے۔

آغا علی سرور نے دنیا کو امتحان کی جگہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی ذمہ داریوں، اعمال اور انتخاب کے بارے میں شعور کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔ ان کے مطابق انسان کی نجات اور انجام کا تعلق اس کے شعوری انتخاب اور عملی کردار سے ہے، اس لیے محض ظاہری اعمال پر اکتفا کرنے کے بجائے انسان کو اپنے عقیدہ، نیت اور عمل کی درستی پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے انسان کو غرور، خودپسندی، اپنے اعمال کو حد سے زیادہ اہم سمجھنے اور گناہوں کو معمولی تصور کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویے انسان کی روحانی ترقی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حقیقی عبدیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے اعمال کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے فکر و فیصلے کی بھی اصلاح کرے۔
مقرر نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس امر پر زور دیا کہ صحیح علم، درست انتخاب اور صالح عمل انسان کی شخصیت سازی کے بنیادی عناصر ہیں۔ ان کے بقول انسان سازی محض ظاہری تربیت کا نام نہیں بلکہ فکر، عقیدہ، کردار اور عمل کی ہمہ گیر اصلاح کا عمل ہے، جس میں ہر فرد کو اپنے کردار اور ذمہ داری کا شعوری ادراک کرنا چاہیے۔

نشست میں مدرسۂ علمیہ امام الہادیؑ سے وابستہ افراد اور دیگر شرکائے مجلس نے شرکت کی۔ علمی نشست نے انسان کی فکری و اخلاقی تربیت اور معاشرے میں صالح کردار کی تشکیل کے حوالے سے اہم نکات کو اجاگر کیا۔










آپ کا تبصرہ