اتوار 11 اکتوبر 2026 - 20:09
معرفتِ خدا اور خود شناسی، انسان کی فکری و اخلاقی تربیت کی بنیاد ہے، حجۃ الاسلام والمسلمین علی سرور

حوزہ/ قم المقدسہ میں مدرسہ حیدر کرارؑ کے زیرِ اہتمام منعقدہ علمی نشست میں معرفتِ خدا، مقصدِ خلقت، بندگیِ الٰہی اور دینِ حق کے انتخاب کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔ نشست میں امام جعفر صادقؑ کی روایت کی روشنی میں انسان کی اخلاقی تربیت اور خود پسندی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،قم المقدسہ/ مدرسہ حیدر کرارؑ، قم المقدسہ کے زیرِ اہتمام "معرفتِ خدا اور معرفتِ نفس" کے موضوع پر ایک علمی نشست منعقد ہوئی، جس میں مسئولِ ہیئتِ علمی حجۃ الاسلام والمسلمین علی سرور نے معرفتِ الٰہی، مقصدِ خلقت، بندگیِ خدا اور دینِ حق کے انتخاب کی اہمیت پر گفتگو کی۔ اس نشست میں مدرسے کے طلبہ نے شرکت کی۔

حجۃ الاسلام والمسلمین علی سرور نے اپنے خطاب میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منسوب اس روایت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی حقیقی معرفت چار بنیادی امور کے ادراک سے وابستہ ہے: اپنے پروردگار کو پہچاننا، یہ جاننا کہ خدا نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے، یہ سمجھنا کہ خدا اس سے کیا چاہتا ہے، اور ان عوامل کو پہچاننا جو انسان کو دین سے خارج کر سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ نقل کرتے ہوئے کہا: «وَجَدْتُ عِلْمَ النَّاسِ كُلَّهُمْ فِي أَرْبَعٍ: أَوَّلُهَا أَنْ تَعْرِفَ رَبَّكَ، وَالثَّانِي أَنْ تَعْرِفَ مَا صَنَعَ بِكَ، وَالثَّالِثُ أَنْ تَعْرِفَ مَا أَرَادَ مِنْكَ، وَالرَّابِعُ أَنْ تَعْرِفَ مَا يُخْرِجُكَ مِنْ دِينِكَ»۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس روایت کے مطابق معرفتِ خدا محض ایک نظریاتی تصور نہیں، بلکہ انسان اپنے وجود، تخلیق، صلاحیتوں، نعمتوں اور زندگی کے مختلف مراحل میں خدا کی عطا اور اس کی تدبیر کو پہچان کر بھی اپنے پروردگار کی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ اس اعتبار سے معرفتِ نفس، معرفتِ خدا تک پہنچنے کا ایک اہم راستہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسان فطرتِ الٰہی اور مختلف صلاحیتوں کے ساتھ اس دنیا میں آیا ہے۔ اسے سماعت، بصارت اور قلب جیسی نعمتیں عطا کی گئی ہیں تاکہ وہ حق کو پہچانے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور زمین پر خدا کے خلیفہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔

بندگیِ خدا اور انسان کا مقصدِ خلقت

حجۃ الاسلام والمسلمین علی سرور نے روایت کے دوسرے اور تیسرے حصے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو یہ جاننا چاہیے کہ خدا نے اسے کن نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے اور اس سے کیا چاہتا ہے۔ خداوندِ متعال انسان سے بندگی، اطاعت اور اپنی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ لہٰذا انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خدا اور رسولؐ کی دعوت پر لبیک کہے اور اپنی زندگی کو رضائے الٰہی کے مطابق ڈھالے۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیت «وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ۝ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ» (سورۂ احزاب، آیات 70-71) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ درست اور حق پر مبنی گفتگو اور خدا کی اطاعت انسان کے اعمال کی اصلاح اور گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بنتی ہے۔ انسان جب اپنی زندگی کو الٰہی تعلیمات کے مطابق استوار کرتا ہے تو اس کی فکری اور عملی زندگی میں حقیقی تبدیلی آتی ہے۔

دینِ حق کا انتخاب اور گمراہی سے حفاظت

انہوں نے روایت کے چوتھے حصے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان عوامل کو پہچانے جو اسے دین سے دور کر سکتے ہیں۔ دینِ حق کو قبول کرنا محض زبانی اقرار نہیں، بلکہ حق کو پہچاننے، اسے اختیار کرنے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے۔ حق کے راستے کا انتخاب انسان کو درست عقائد اور صحیح اعمال کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ باطل کو اختیار کرنا انسان کے اعمال کو بھی باطل راستے پر ڈال دیتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حق کے معاملے میں فیصلہ کرنے سے گریز اور دینی ذمہ داریوں سے غفلت بھی انسان کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ حق کی تلاش کرے، اسے پہچانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا راستہ متعین کرے، کیونکہ صحیح عقیدہ اور درست انتخاب ہی صحیح عمل کی بنیاد بنتے ہیں۔

خود پسندی؛ انسان کی گمراہی کا ایک سبب

حجۃ الاسلام والمسلمین علی سرور نے خود پسندی اور عُجب کو انسان کی اخلاقی گمراہی کے اہم اسباب میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ جب انسان اپنے اعمال کو ضرورت سے زیادہ اہم سمجھنے لگتا ہے اور اپنے گناہوں کو معمولی تصور کرتا ہے تو وہ اپنی اصلاح سے غافل ہو جاتا ہے۔ ایسی کیفیت انسان کو اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کے ادراک سے محروم کر کے اسے گمراہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔

انہوں نے طلبہ کو متوجہ کیا کہ معرفتِ خدا اور معرفتِ نفس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی، اعمال اور اخلاق کا مسلسل جائزہ لے، خدا کی نعمتوں کو پہچانے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور خود پسندی سے بچتے ہوئے بندگی و اطاعت کا راستہ اختیار کرے۔

نشست کے اختتام پر اس بات پر تاکید کی گئی کہ معرفتِ خدا، خود شناسی، مقصدِ خلقت کا ادراک اور دینِ حق پر ثابت قدمی انسان کی فکری و اخلاقی تربیت کے بنیادی عناصر ہیں۔

معرفتِ خدا اور خود شناسی، انسان کی فکری و اخلاقی تربیت کی بنیاد ہے، حجۃ الاسلام والمسلمین علی سرور

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha