جمعرات 5 فروری 2026 - 14:48
اصل عزت؛ تقویٰ اختیار کرنے میں ہے/خاندانی غرور اور نسلی تفاخر معیار نہیں: آغا سید باقر الحسینی

حوزہ/آغا سید باقر حسینی نے مرکزی جامع مسجد سکردو میں ہفتہ وار تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السّلام کے فرامین کی روشنی میں علم کے نچوڑ کو عبادتِ الٰہی قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آغا سید باقر حسینی نے مرکزی جامع مسجد سکردو میں ہفتہ وار تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السّلام کے فرامین کی روشنی میں علم کے نچوڑ کو عبادتِ الٰہی قرار دیا۔

نائب امامِ جمعہ و جماعت مرکزی جامع مسجد سکَردو آغا سید باقر حسینی نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے اس مشہور قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ''خَلَاصَةُ الْعِلْمِ أَرْبَعُ كَلِمَاتٍ: أَنْ تَعْرِفَ رَبَّكَ، وَأَنْ تَعْرِفَ نَفْسَكَ، وَأَنْ تَعْرِفَ مَا لَكَ، وَأَنْ تَعْرِفَ مَا عَلَيْكَ'' (نہج البلاغہ، حکمت 147 کے مفہوم کے مطابق) یعنی تمام علوم کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچان لے، اپنے آپ کو پہچان لے، اپنے حقوق کو جانے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔

اصل عزت؛ تقویٰ اختیار کرنے میں ہے/خاندانی غرور اور نسلی تفاخر معیار نہیں: آغا سید باقر الحسینی

علامہ آغا باقر حسینی نے مرکزی جامع مسجد سکردو بلتستان میں ہفتہ وار تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے اس فرمان کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے تو اس کا نچوڑ ہمیں اس آیت میں ملتا ہے: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ (سورۃ الذاریات، آیت 56) یعنی اللہ نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، یہی علم کا حاصل، یہی زندگی کا مقصد اور یہی انسان کی اصل پہچان ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاندانی تکبر، نسلی غرور، رنگ و نسل کا فرق، بڑا چھوٹا یا طاقتور و کمزور ہونا کوئی معیارِ فضیلت نہیں، یہ سب محض پہچان کے لیے ہیں، عزت و شرافت کا واحد معیار تقویٰ ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ (سورۃ الحجرات، آیت 13) یعنی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔

اصل عزت؛ تقویٰ اختیار کرنے میں ہے/خاندانی غرور اور نسلی تفاخر معیار نہیں: آغا سید باقر الحسینی

آغا سید باقر حسینی نے کہا کہ جتنا انسان کا عمل اور تقویٰ بڑھتا ہے وہ اتنا ہی خدا کے قریب ہوتا جاتا ہے مگر افسوس کہ انسان اپنی محدود عقل اور کمزور شعور کے باوجود دعویٰ کرتا ہے کہ یہ دولت میں نے کمائی، یہ گھر میں نے بنایا، یہ تعلیم میری محنت کا نتیجہ ہے، یہ کاروبار میرا کمال ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب خداوندِ متعال کی عطا ہے اور انسان محض ایک امانت دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کے جسم کا سب سے معزز مقام اس کی پیشانی ہے اور ہم سجدے میں اسی پیشانی کو زمین پر اس لیے رکھتے ہیں کہ ہمیں یاد رہے وہ ذات عظیم ہے اور ہم سراپا محتاج ہیں، سجدہ انسان کے غرور کو توڑتا ہے اور اسے اس کی حقیقت دکھاتا ہے، عبد وہ ہے جو اپنی نفی میں خدا کو پہچان لے اور معبود وہ ہے جو بندے کو اس کی اصل حیثیت سمجھا دیتا ہے، جب عبد جھکتا ہے تو بلند ہوتا ہے اور جب معبود کو مان لیتا ہے تو سب کچھ پا لیتا ہے، تمام علم کا نچوڑ یہی ہے کہ خدا کی عبادت کی جائے۔

اصل عزت؛ تقویٰ اختیار کرنے میں ہے/خاندانی غرور اور نسلی تفاخر معیار نہیں: آغا سید باقر الحسینی

آخر میں آغا سید باقر حسینی نے نہایت درد مندانہ انداز میں کہا کہ بندہ گناہ اس حساب سے کرے کہ اس کے عذاب کو برداشت بھی کر سکے، انسان اتنا نازک ہے کہ دنیا کی معمولی بیماری اور تھوڑی سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر پاتا جو دنیا کی مختصر آزمائش ہے تو قیامت کے دائمی اور دردناک عذاب کو کیسے سہے گا، اس لیے چند لمحوں کی دنیاوی لذت کے لیے ہمیشہ کی آسائشوں والی جنت کو ضائع مت کیجئے، یہ دنیا فانی ہے مگر آخرت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، عقل مندی یہی ہے کہ عارضی خواہشات پر دائمی کامیابی کو قربان نہ کیا جائے۔

اصل عزت؛ تقویٰ اختیار کرنے میں ہے/خاندانی غرور اور نسلی تفاخر معیار نہیں: آغا سید باقر الحسینی

اصل عزت؛ تقویٰ اختیار کرنے میں ہے/خاندانی غرور اور نسلی تفاخر معیار نہیں: آغا سید باقر الحسینی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha