جمعہ 9 اکتوبر 2026 - 19:14
امریکہ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں

حوزہ/ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف نئی کارروائی کرتے ہوئے واشنگٹن اور اس بین الاقوامی عدالتی ادارے کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی حکومت نے عدالت پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنگی جرائم کے مقدمات میں امریکی شہریوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنا رہی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف نئی کارروائی کرتے ہوئے واشنگٹن اور اس بین الاقوامی عدالتی ادارے کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی حکومت نے عدالت پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنگی جرائم کے مقدمات میں امریکی شہریوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنا رہی ہے۔

امریکی حکومت نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ امریکہ کو اس عدالت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس اقدام کے ردعمل میں عالمی فوجداری عدالت نے کہا ہے کہ ٹرمپ حکومت کے عہدیدار انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عدالت نے امریکہ کے اس اقدام کو بین الاقوامی قانونی نظام پر حملہ قرار دیا ہے۔

عالمی فوجداری عدالت نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ تاریخ اس لمحے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ اس نے اپنے دیگر رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں کہ عدالت اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔

قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ حکومت اس سے قبل بھی عالمی فوجداری عدالت کو تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے۔ امریکہ کی ناراضی کی ایک اہم وجہ اسرائیلی حکام، بالخصوص اس حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، کے خلاف عدالت کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا ہے۔

اس عدالت نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی کارروائیوں کے حوالے سے بھی تحقیقات شروع کی تھیں، تاہم بعد میں یہ معاملہ بند کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت کا قیام 2002 میں عمل میں آیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو جواب دہ بنانا ہے۔ یہ عدالت بین الاقوامی سطح پر سنگین جرائم کے مقدمات کی سماعت کرتی ہے اور متعلقہ افراد کو ان کے اعمال کے لیے قانونی طور پر جواب دہ ٹھہرانے کی کوشش کرتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha