ہفتہ 17 اکتوبر 2026 - 02:59
مراجعِ کرام کے دشمن اس دور کے خوارج ہیں، عزاداری کے نام پر اختلافات پھیلانے سے گریز کیا جائے: مولانا سید تابش حسن خراسانی

حوزہ/ مولانا سید تابش حسن خراسانی نے خطبۂ جمعہ میں کہا کہ مراجعِ کرام کے مخالفین دورِ حاضر کے خوارج ہیں، جو عزاداری کے نام پر محاذ آرائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے امام زین العابدین علیہ السلام کی نصیحت بیان کرتے ہوئے پانچ قسم کے لوگوں کی صحبت سے بچنے کی تاکید کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کلیان، تھانہ/ امام جمعہ کلیان تھانہ، مہاراشٹرا مولانا سید تابش حسن خراسانی نے خطبۂ جمعہ میں کہا کہ مراجعِ کرام کے خلاف محاذ آرائی کرنے والے دورِ حاضر کے خوارج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح خوارج نے اللہ کا نام لے کر امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی مخالفت کی تھی، اسی طرح آج بعض لوگ عزاداری کے نام پر مراجعِ کرام کے خلاف اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں، حالانکہ مذہبی شعائر کو تفرقے اور محاذ آرائی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

اپنے خطاب میں مولانا تابش خراسانی نے امام زین العابدین حضرت علی بن الحسین علیہ السلام کی ایک معروف روایت نقل کرتے ہوئے اس کا اردو ترجمہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ امام علیہ السلام نے اپنے ایک فرزند کو نصیحت فرمائی: "اے میرے بیٹے! پانچ قسم کے لوگوں کی نہ صحبت اختیار کرنا، نہ ان سے بے تکلف گفتگو کرنا اور نہ ہی ان کے ساتھ سفر کرنا۔"

انہوں نے روایت کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ امام علیہ السلام نے سب سے پہلے جھوٹے شخص سے بچنے کی تلقین فرمائی، کیونکہ وہ سراب کی طرح حقیقت کو بدل کر پیش کرتا ہے اور انسان کو دھوکے میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کے بعد فاسق شخص سے دور رہنے کی نصیحت کی، جو معمولی فائدے کے لیے بھی وفاداری کا سودا کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امام علیہ السلام نے بخیل شخص کی صحبت سے بھی منع فرمایا، کیونکہ وہ ضرورت کے وقت ساتھ چھوڑ دیتا ہے، جبکہ احمق شخص اگرچہ خیر خواہی چاہتا ہے، لیکن اپنی نادانی کی وجہ سے نقصان پہنچا دیتا ہے۔ اسی طرح قطعِ رحم کرنے والے شخص سے دور رہنے کی تاکید کرتے ہوئے امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ایسے شخص کو اللہ کی کتاب میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔

مولانا سید تابش حسن خراسانی نے کہا کہ اس روایت میں انسان کے لیے معاشرتی اور اخلاقی زندگی کا جامع دستور موجود ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنی صحبت کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے، کیونکہ اچھی صحبت کردار سنوارتی ہے اور بری صحبت انسان کو گمراہی اور نقصان کی طرف لے جا سکتی ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ دینی معاملات میں جذبات کے بجائے بصیرت، اخلاق اور ذمہ داری کو مقدم رکھا جائے اور عزاداری جیسے مقدس شعائر کو اختلاف اور انتشار کا ذریعہ بنانے سے گریز کیا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha