حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر دشمن دوبارہ فوجی یا دہشت گردانہ حملوں کا آغاز کرتے ہیں تو یہ اسلامی جمہوریۂ ایران کی مسلح فورسز اور ایرانی قوم ہوگی جو ان حملوں کے خاتمے کا وقت اور شرطیں طے کرے گی۔
مسلح فورسز کے سپریم کمانڈر نے فوجی انٹیلی جنس کے نظام کی تقویت، ملکی دفاعی صلاحیت کو "ڈاکٹرائن" اور "ٹیکٹک" کے میدان میں مزید عمیق بنانے، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے دفاعی اور سیکورٹی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور روحانی قوت و جہادی جذبے کی تقویت پر بھی زور دیا۔ انھوں نے اسی کے ساتھ ساتھ مسلح فورسز کی معاشی حمایت اور پشت پناہی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مسلسل کوششوں پر بھی تاکید کی۔
سپریم کمانڈر نے یہ حکم بھی دیا کہ ٹارگیٹس کی فہرست کو اس طرح اپ ڈیٹ کیا جائے کہ امریکی۔صیہونی دشمن کے ہر طرح کے مادی اور غیر مادی اثاثے مسلح فورسز کے نشانے پر ہوں۔
آپ نے مسلح فورسز کی قومی حمایت کو ایران دشمن بیرونی عناصر اور ان کے اندرونی ایجنٹوں کے مقابلے میں ڈیٹرینس کے بنیادی ستونوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ سڑکوں اور چوراہوں پر مبعوث شدہ قوم کی آٹھ ماہ سے جاری موجودگی، آٹھ سالہ مقدس دفاع کا تسلسل ہے جس نے فوج، پولیس اور رضاکار فورسز کی استقامت کے شانہ بشانہ ایران کی ارضی سالمیت اور اسلامی نظام کی حفاظت کی ہے اور کرتی رہے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مختلف ممالک میں مزاحمتی محاذ کی بابصیرت ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے مختلف محاذوں کے اتحاد کو ایک فیصلہ کن عامل قرار دیا، جس کے مغربی ایشیا میں نئے سیاسی اور سیکورٹی نظام کی تشکیل پر اسٹریٹجک اثرات مرتب ہوں گے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ نیا نظام، نئے اسلامی تمدن کی تشکیل میں اسلامی قوموں اور حکومتوں کے اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کی روز افزوں بنیاد فراہم کرے گا۔
مسلح فورسز کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل عبداللہی، بری فوج کے کمانڈر میجر جنرل حاتمی اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر میجر جنرل وحیدی نے سپریم لیڈر سے ملاقات میں خلیج فارس کے ساحلوں، آبنائے ہرمز کے آپریشنل علاقوں، بحیرۂ عمان اور ملک کی شمال مغربی اور جنوب مشرقی سرحدوں پر ملک کے محافظوں کی تیاری کی صورت حال سے متعلق رپورٹس پیش کیں۔ انھوں نے مختلف اقسام کے گولہ بارود اور نگرانی، لاجسٹکس اور جنگی ہتھیاروں کے پروڈکشن میں کئی گنا اضافے کی رپورٹ بھی ان کے سامنے پیش کی۔
مسلح فورسز کے سپریم کمانڈر نے انجام دیے گئے کاموں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سینئیر فوجی کمانڈروں سے کہا کہ وہ ان کا شکریے اور مسرت کا پیغام فوج، پولیس اور رضاکار فورس کے تمام اہلکاروں، ان اداروں اور وزارت دفاع کے ملازمین اور ان کے معزز اہل خانہ تک پہنچا دیں۔










آپ کا تبصرہ